ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
ہر قوم کی ترقی کا انحصار اس کے مخلص، باصلاحیت اور محنتی افراد پر ہوتا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی ملک یا قوم نے ترقی کی راہ پر قدم بڑھایا، تو اس کے پس منظر میں کچھ ایسی عظیم ہستیاں موجود تھیں جنہوں نے ذاتی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر قوم و ملت کی فلاح، ملک کی ترقی اور آنے والی نسلوں کے لئے بہتر مستقبل کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔ ایسے افراد نہ صرف اپنی قوم کے لیے سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، بلکہ وہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہندوستان کو اگر آج دفاع، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل ہے تو اس کے پیچھے کئی مخلص، محنتی اور باکمال شخصیتوں کی قربانیاں اور خدمات کارفرما ہیں۔ انہیں عظیم شخصیتوں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا ہے، جنہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، بے مثال محنت، اور خالص حب الوطنی کے جذبے سے نہ صرف ہندوستان کو ایٹمی طاقت بنایا بلکہ ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لانے کی بھرپور کوشش اور محنت بھی کی۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ان لوگوں میں سے تھے جو ایک عام گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنی نمایاں خدمات اور بے مثال کارناموں سے ملک کو عزت بخشی، اپنی تحقیقات اور تجربات سے بین الاقوامی شہرت اور پہچان حاصل کی۔ ان کی سائنسی تحقیقات، ایجادات اور تجربات نے دنیائے سائنس کو حیرت میں ڈال دیا، انہوں نے سائنسدانوں کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ اور "میزائل مین آف انڈیا” کے لقب سے مشہور سے ہوئے۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا پورا نام (اَوُل پاکر زین العابدین عبدالکلام) تھا۔ ان کا شمار اُن سائنس دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دفاعی ٹکنالوجی، خصوصاً میزائل سائنس میں شاندار کارنامے انجام دئے۔ وہ رامیشورم، تامل ناڈو میں کلام رامیشورم کے ایک متوسط طبقے میں 15 اکتوبر 1931 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد زین العابدین، کشتی کے مالک اور امام تھے، جب کہ ان کی والدہ، اشیما گھر کی دیکھ بھال کرنے والی تھیں۔ ان کے تین بڑے بھائی اور ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹی بہن تھی۔ ان کے خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ کلام کو اپنے خاندان کی آمدنی کو پورا کرنے کے لیے اخبارات بیچنے پڑے-
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر کلام ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور زندگی بھر قناعت پسندانہ زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ اہم کامیابی حاصل کرنے اور صدر کے طور پر کافی تنخواہ حاصل کرنے کے بعد بھی، انہوں نے ایک سادہ طرز زندگی کو برقرار رکھا۔ انہوں نے اپنی آمدنی کا ایک اہم حصہ مختلف خیراتی اداروں اور تعلیمی ٹرسٹوں کو عطیہ کیا۔ انہوں نے پرش ارمبھا” پروگرام بھی قائم کیا اور زیر تعلیم طلباء کی مدد کے لیے اسکالر شپ فراہم کی۔
ڈاکٹر کلام نے اپنی بنیادی تعلیم رامناتھ پورم میں حاصل کی، پھر شوارٹز ہائیر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد، انہوں نے سینٹ جوزف کالج، تروچیرا پلی میں داخلہ لیا۔ اور بعد میں مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT)۔ انہوں نے MIT میں ایرو اسپیس انجینئرنگ میں مہارت حاصل کی۔
قوم کی تعمیر و ترقی میں ان کا کردار: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی کامیابیاں وسیع اور متنوع ہیں، سائنس انجینئرنگ اور قیادت پر پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ ہندوستان کے سویلین اسپیس پروگرام اور ملٹری میزائل ترقی میں اپنے اہم کردار کے لیے مشہور ہیں، جس سے انھیں "میزائل مین آف انڈیا” کا اعزاز حاصل ہوا۔ اپنی سائنسی شراکت کے علاوہ انھوں نے ہندوستان کے 11 ویں صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے بھر پور کوششیں کی۔
ڈاکٹر کلام 1992 سے 1999 تک وزیر اعظم کے چیف سائنسی مشیر اور DRDO کے سکریٹری تھے۔ انہوں نے اگنی اور پرتھیوی سیریز جیسے میزائلوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور ہندوستان کی جوہری صلاحیتوں میں اہم رول ادا کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ہندوستان کی ترقی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تجویز کی، جس میں زراعت صحت کی دیکھ بھال، تعلیم کے بنیادی ڈھانچے اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ڈاکٹر کلام کی سات بہترین ایجادات حسب ذیل ہیں: (1) ہندوستان کی پہلی مقامی ہوور کرافٹ، (2) ہندوستان کی پہلی سیٹلائٹ لانچ وہیکل، (3) INCOSPAK کمیٹی (4) بیلسٹک میزائل پروجیکٹ، (5) چیف سائنسی مشیر اور DRDO سکریٹری، (6) انٹیگریٹڈ گائیڈڈ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام(7) کلام-راجو اسٹینٹ یونیورسل ہلت کیر پلان۔ درحقیقت، ڈاکٹر کلام ایک قومی ہیرو تھے، انہوں نے میزائل ریسرچ اور ترقی کے میدان میں اپنی بے شمار کامیابیوں سے ملک کا سر اونچا کیا ڈاکٹر کلام کی ISRO میں سب سے بڑی کامیابی SLV-3 کے کامیاب لانچ کے ساتھ ہوئی، جس نے روہنی سیٹلائٹ کو زمین کے قریب مدار میں بھیج دیا۔
کلام کی میراث ان کی تکنیکی کامیابیوں سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ وہ ایک سچے بصیرت والے انسان تھے جنہوں نے نسلوں کو بہترین کارکردگی کے لیے جدوجہد کرنے اور معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ لینے کی ترغیب دی۔
ڈاکٹر کلام بطور ہندوستانی صدر: انہوں نے 25جولائی 2002 سے 25 جولائی 2007 تک ہندوستان کے 11ویں صدر کے طور پر خدمات انجام دی ۔
وہ بڑے پیمانے پر "عوامی صدر” کے طور پر جانے جاتے تھے اپنی صدارت کے دوران، انہیں "عوامی صدر” کا نام دیا گیا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ سے تواضع کو اختیار کیا وہ ایک زمینی شخص تھے، کئی مواقع پر وی وی آئی پی سہولتوں، سلوک و برتاؤ سے انکارکیا۔
بلاشبہ، صدر کے طور پر، انہوں نے عوامی قیادت کی مثال پیش کی اور شفافیت ،ایمانداری اور شمولیت کو فروغ دیا۔ انہوں نے صحت کی دیکھ بھال کے توانائی اور دیگر شعبوں میں مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی وکالت کی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ، ڈاکٹر کلام نے تمام ہندوستانیوں کے لیے ان کے پس منظر سے قطع نظر، تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو بڑھانے پر زور دیا۔ اور امن اور انسانی حقوق کی بھی وکالت کی، اور ہندوستان کے جی ڈی پی کو فروغ دینے والی بڑی اقتصادی اصلاحات میں اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا۔ کلام کے دور میں انھیں متنازعہ مسائل جیسے آفس آف پرافٹ بل اور بہار میں صدر راج کا نفاذ، اور متعدد درخواستوں کو بھی اچھی طرح ڈیل کیا اور بعض اہم رحم دلی درخواستوں کے فیصلے پر بھی توجہ دی۔ ان میں ایک دھننجئے چٹرجی کا معاملہ بھی ہے۔ کلام نے تمام شہریوں کو بااختیار بنانے کے لئے تعلیم اور ٹکنالوجی کے فروغ کو مزید ترقی دی۔ وہ لوگوں کے درمیان عوامی صدر کی حیثیت سے نمایاں تھے کیونکہ انکا جذبہ قوم کے تیئں بہت حساس تھا اسلئے قوم انہیں اپنا عوامی صدر تسلیم کرتی تھی ان کی صدارت میں قومی ترقی، امن اور ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ ہندوستان کی سماجی ترقی میں ان کی شراکت کثیر جہتی تھی، سائنس، ٹیکنالوجی،تعلیم اور اچھی قیادت کے طور پر نمایا ہے ۔
کلام کے کام نے ہندوستان کو میزائل اور خلائی ٹیکنالوجیز میں خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے روزگار پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مہارت پر مبنی ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی وکالت کی-
ڈاکٹر کلام اور نوجوان: کلام نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے بھرپور وکالت کی ، ان کا ماننا تھا کہ وہ ہندوستان کے مستقبل کی ترقی کی کلید ہیں۔ انہوں نے تعلیم، جدت پسندی اور اختراع، پر زور دیا۔
کلام نے تعلیم کو ذاتی اور قومی ترقی کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار کے طور پر دیکھا۔ انھوں نے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات پر زور دیتے ہوئے جذبے اور مقصد کے ساتھ علم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
وہ طلباء کے ساتھ اکثر بات چیت کرتے، انہیں بڑے خواب دیکھنے اور عزم کے ساتھ اپنی امنگوں کو آگے بڑھانے کی تلقین کرتے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر نوجوان میں عظمت و بلندی کی صلاحیت ہوتی ہے لہذا طلباء کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت اثر ڈالنے کے لیے استعمال کریں۔
انہوں نے نوجوانوں کو باکس سے باہر سوچنے اور ہندوستان اور دنیا کو درپیش چیلنجوں کا اختراعی حل تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے خطرات مول لینے اور ناکامی سے خوفزدہ نہ ہونے کی اہمیت پر زور دیا، ناکامیوں کو کامیابی کی سیڑھی کے طور پر دیکھنا۔ ایک معروف سائنسدان اور صدر بننے کے لیے ان کا اپنا ایک عاجزانہ پس منظر بہت سے لوگوں کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ انہوں نے اخلاقی اقدار، دیانتداری، ایمانداری، ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ہمدردی دکھائ۔ ان کا خیال تھا کہ ایک مضبوط اور خوشحال قوم کی تعمیر کے لیے ایک مضبوط اخلاقی بنیاد بہت ضروری ہے۔
اقدار پر ان کے زور کا مقصد نوجوانوں میں ذمہ داری کا احساس اور سماجی شعور پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں رہنما بنیں اور ہندوستان کے مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری لیں۔ ان کا خیال تھا کہ نوجوان مستقبل کے رہنما ہیں اور انہیں قوم کی رہنمائی کے لیے ضروری مہارت، علم اور اقدار سے لیس ہونا چاہیے۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ڈاکٹر کلام کا "اگنیٹڈ مائنڈز” پروگرام نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے ان کے عزم کا ثبوت تھا۔ وہ لیکچرز، انٹرایکٹو سیشنز، اور اپنی تحریروں کے ذریعے طالب علموں کے ساتھ فعال طور پر مشغول رہے، انہیں اپنے خواب کو آگے بڑھانے اور قومی ترقی میں حصہ ڈالنے کی ترغیب دیتے رہے۔ خلاصہ یہ کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ان کا وِژن کثیر جہتی تھا، جس میں تعلیم، اختراع، اقدار اور قیادت، سب کا مقصد ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانا ہے۔
ڈاکٹر کلام بطور مصنف:
ڈاکٹر کلام ایک نامور مصنف تھے، انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی نامور اشاعتیں درج ذیل ہیں:(1) Wings of Fire (2) Ignited Minds ( 3 )Luminous Sparks (4) Turning Points (5) Mission India (6 )India 2020 (7 )Beyond 2020 (8) Target 3Billion (9) You Are Unique(10) Indomitable Spirit (11) The Scientific India
اور اس طرح یہ بات بھی قابل ذکر ہے۔ کہ ڈاکٹر کلام کی ہر کتاب بازار میں ہاٹ کیک کی طرح بکتی تھی۔ ان کی کتابیں، خاص طور پر”Wings of Fire،Ignited Minds اور "India 2020 نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کی کتابوں کے نامو ں سے اندازہ ہوتا ہے ڈاکٹر کلام کس قدر ہندوستان کے تئیں فکر مند تھے ان کی تمام کتابیں اپنے مادر وطن ہندوستان سے متعلق ہیں- ہمیشہ ان کی فکر دامن گیر رہی کہ کس طرح ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جائے۔
ڈاکٹر کلام کی جامع علمی اور وجدانی صلاحیتوں کا اعتراف ان کے ہم عصروں نے بھی کیا- انہیں ہندوستان کے اندر اور باہر مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں سے متعدد ڈگریاں دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر کلام نے ہندوستان اور بیرون ملک کی 48 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہیں بھارت رتن سمیت کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کے متعدد ایوارڈز میں سے تین ملک کے اعلیٰ ترین ایوارڈز یہ ہیں پدم بھوشن (1981)، پدم وبھوشن (1990) اور بھارت رتن (1997)۔
کلام اور مذہب: ڈاکٹر کلام ایک دیندار مسلمان تھے۔ وہ پابندی سے نماز پڑھتے، رمضان کے مہینے میں روزے رکھتے اور ہمیشہ قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے تمام مذاہب کے لیے گہرے احترام کا مظاہرہ کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تمام مذاہب روحانی فلاح کا مشترکہ مقصد رکھتے ہیں اور اپنی زندگی میں روحانیت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
اپنی سوانح عمری "ونگز آف فائر” میں ڈاکٹر کلام واضح طور پر لکھتے ہیں، "میں اپنے آپ کو دوسروں کے لیے ایک مثال کے طور پر قائم نہیں کرنا چاہتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ چند قارئین ضرور متاثر ہو سکتے ہیں اور وہ حتمی اطمینان حاصل کر سکتے ہیں جو صرف روح کی زندگی میں ہی مل سکتا ہے۔ خدا کی عطا آپ کی وراثت ہے۔ میرے پردادا، اول ،میرے دادا پاکر، اور میرے والد زین العابدین کا اختتام عبدالکلام پر ہو سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل کبھی ختم نہیں ہو گا، کیونکہ یہ ابدی ہے۔(ص 178)
الغرض بلا کسی ہچکچاہٹ اور تردد کے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ سرزمین ہند کو اپنے جن عظیم سپوتوں پر فخر ہے ان میں ایک نام ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کا بھی ہے- انہوں نے اپنے آپ کو اپنے ملک کے لئے وقف کر دیا تھا-ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی خاطر ان کی فکر ہمیشہ دامنگیر رہی – بلا شبہ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے- انہوں نے اپنی پوری زندگی دوسروں کے لئے مسیحا بن کر گزاری- ہزاروں لوگوں نے خاص طور سے نوجوانوں نے ان کی اس میثالی زندگی سے بھر پور فائدہ اٹھایا اور آئندہ نسلیں بھی فائدہ اٹھاتی رہیں گی-
ہندوستان کے اس نامور سپوت کا انتقال 27 جولائی 2015 کو 83 سال کی عمر میں ہوا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM) شیلانگ میں لیکچر دیتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو پی کرمبو رامیشورم، تمل ناڈو میں دفن کیا گیا۔
