تبصرہ: نام کتاب۔ نگارشات منظور
مصنف: مفتی منظوراحمد مظاہری سابق شیخ الحدیث مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور،کانپوروسابق قاضیٔ شہرکانپور
مرتب: مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد ؍اناؤ
،صفحات۳۲۹،قیمت درج نہیںمبصر: مفتی شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی مدیر ماہنامہ الماس ممبئی
جون پوریوپی کی خاک نے ماضی قریب میں جن شخصیات کوجنم دیاان میں حضرت مفتی منظوراحمدمظاہری کی ذات نمایاں حیثیت اورمقام رکھتی ہے،شہرکانپوراوراس کے نواحی علاقے آپ کے علمی،فکری دعوتی ومعاشرتی زمزموں سے نصف صدی تک پرشوررہے،اورکئی دہائیوں تک یہ خطے خاص طورسے آپ کے تدریسی،تربیتی،فقہی،اورافتاء وقضاکے فیضا ن سے سیراب ہوتے رہے،ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو قرطاس وقلم سے ان کی مضبوط وابستگی اوراس میدان میںان کی قابل قدر خدمات تھیں،جوان کی دیگرخدمات وکارناموں کی تیز شعاعوں کے باعث ابھرنہ سکیں،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ کہنہ مشق اہل قلم اورعمدہ نثرنگارتھے،انھوں نے ماہنامہ نظام کانپورکوطویل مدت تک اپنی تحریروں سے اعتباربخشتا اوراپنے قائم کردہ پندرہ روزہ پیام سنت،،کواپنے فاضلانہ وعارفانہ مضامین سے زندہ رکھا۔
یہ کتاب درحقیقت مفتی صاحب کے اسی کمال واستعداداوران کی خدمات کے اسی گوشے کواجاگرکرتی ہے،جس کے ذریعے مفتی صاحب نے برسوں دادعلم وفن دے کرقوم وملت کی رہنمائی کی ہے،انھوں نے مذکورہ رسالے اور جریدے میں دینی،علمی،فکری،معاشرتی اور ایمانی موضوعات پربے شمارتحریریں لکھیں،مگران کی حفاظت کاسامان نہ ہوسکااوروہ رسالوں کی فائلوں میں پڑی ہوئی گمنامی کاحصہ بن گئیں۔
قدوۃ الاولیاء شیخ المشائخ حضرت مولانا فضل رحمان گنج مرادآبادی رحمۃاللہ علیہ کے دیار سے تعلق رکھنے والے مفتی محمدجنیدقاسمی گنج مرادآبادی نے مفتی منظور صاحب کے تحریری اثاثے کی اہمیت کے پیش نظرتلاش و جستجو کے دشت میں قدم رکھااورماہنامہ نظام وپیام سنت کی فائلوں کو پیہم تلاش کرکے ان تحریروں کو حاصل کیااورموضوع کے لحاظ سے مرتب کرکے موجودہ نسل کے استفادے کاسامان کردیا۔یہ کتاب چار ابواب اورایک ضمیمہ پرمشتمل ہے پہلے باب میں ماہنامہ نظام کانپور میں شائع شدہ آغاز سخن کے عنوان سے مفتی صاحب کی بارہ ادارتی تحریریں ہیں،دوسراوفیات سے متعلق ہے جس میں گیارہ شخصیات پرمضامین شامل ہیں ان میں مولانا محمدمسلم جونپوری،مولاناعطاء اللہ شاہ بخاری،ڈاکٹرعبدالعلی الحسنی،مولانا محمد یوسف کاندھلوی اورمولانا عبدالرب صاحب جون پوری قابل ذکرہیں،تیسریباب میں اصلاحی وتذکیری مضامین ہیں،مختلف عنوانات پریہ کل بارہ مضامین ہیں اورہرمضمون اہمیت کاحامل ہے،خاص طورسے بنی اسرائیل کی تاریخ قرآن کی روشنی میں بہت معلوماتی تجزیاتی اورسبق آموز ہے یہ مضمون 26/صفحات میں پھیلا ہواہے،چوتھے باب میں حج بیت اللہ کے سفر کی روداد ہے،یہ سفرنامہ بھی پڑھنے کے لائق ہے،آخرمیں غیبت کے موضوع پرمولانا شائق پالن پوری کی تحریر پرمشتمل ضمیمہ ہے جسے مفتی صاحب نے اپنی ترتیب واضافہ کے ساتھ ماہنامہ نظام میں شائع کیاتھا،آغازکتاب میں متعدد علماء کی تقریظات کے درمیان مفتی صاحب کی حیات وخدمات پرایک مفصل مضمون کتاب کی افادیت میں اضافہ کاباعث ہے۔
مفتی صاحب شگفتہ تحریراورعلم ریزقلم کے مالک نثرنگار تھے،ان کی تحریریں بڑی معلومات افزا اورعلمی ہوتی تھیں،اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہواکہ اظہار بیان پرانہیں زبردست قدرت تھی انھوں نے تمام موضوعات پربڑے سلیقے سے مافی الضمیر کو ادا کیا ہے۔کتاب بہت خوبصورت چھپی ہے،سرورق بہت نفیس اورکتابت بھی پاکیزہ اورغلطیوں سے مبراہے،ذیل کے رابطہ نمبر9369648963سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
