ایک علمی اور معتبر تصنیف

ارشد شاداب ندوی

      دینِ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کے ہر گوشے میں مکمل راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہی دین جس نے تہجد کی خلوت، صدقہ کی سخاوت، اور جہاد کی شہادت کو عبادت قرار دیا، اسی نے تجارت کو بھی "عبادت” کا درجہ بخشا — بشرطیکہ وہ دیانت، سچائی، نفع و ضرر کے خدائی فیصلوں پر بھروسے اور اخلاقی اصولوں کے تابع ہو۔

یہ کتاب "تجارت: قرآن و احادیث کی روشنی میں” والد محترم مولانا آفتاب عالم قاسمی کی ایک سنجیدہ، عالمانہ اور بصیرت افروز کاوش ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تجارت کے اصول و ضوابط بیان کیے ہیں، بلکہ امت مسلمہ کو معاشی خود کفالت، صداقت پر مبنی مارکیٹنگ، اخلاقیات، اور دنیا و آخرت دونوں کی فلاح کا راستہ دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے جس سے اکتساب کر کے افراد امت خود کفیل بن سکے اور گداگری و مسکینیت کے دلدل سے خود کو باہر نکال سکے۔

۔ مصنف خود بھی تاجر ہیں، ایک باعمل عالم، محقق اور مدرس بھی۔ ان کی علمی تگ و دو دارالعلوم دیوبند سے تعلیم، بہار یونیورسٹی سے اردو و فارسی میں ایم اے، اور مرزا مظہر جانِ جاناں کی فارسی شاعری پر ڈاکٹریٹ کے علمی سفر سے ہو کر گزری ہے۔ ان کی عملی تجارت "تاج اسٹیل” مہوا، ویشالی کے علاقے میں دیانت و سچائی کا روشن استعارہ بن چکی ہے۔ اس علمی و تجارتی تجربے کا نچوڑ ہی یہ کتاب ہے۔

۔ مصنف نے اپنی اس کتاب کا انتساب اپنے والد محترم جناب طفیل احمد صاحب نوراللہ مرقدہ کے نام کیا ہے جو 16 جولائی 2010 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے، اس کے بعد حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سیکرٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ کا لکھا ہوا پیش لفظ شامل کتاب ہے اس کے بعد حضرت مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب دامت برکاتہم کا لکھا ہوا مضمون "خیال خاطر” کے عنوان سے شامل کتاب ہے اس کے علاوہ پوری کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے جو بات مجھے بہت اچھی لگی مطالعہ کے دوران وہ یہ کہ مصنف نے کتاب کا خلاصہ تقریبا پچاس صفحات میں لکھ دیا ہے اگر کوئی پوری کتاب کا مطالعہ نہیں کر سکتا ہے ٹائم کی وقت کی قلت ہے تو وہ ان پچاس صفحات کا بھی مطالعہ کر لے گا تو اسے کتاب کا موضوع اور اس کے اندر پیش کیے گئے نکات اچھی طرح سے سمجھ میں آجائیں گے وقت کی قلت کے باوجود اس کے لیے اس کتاب سے استفادہ ممکن سکے گا میرے خیال میں ہر مصنف کو چاہیے کہ اپنی کتاب کا خلاصہ تقریبا کچھ صفحات میں شامل کریں تاکہ آج کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں لوگ پوری کتاب کا مطالعہ نہ کر سکیں تو کم سے کم انہیں صفحات کو پڑھ کر کے اپنے علم میں اضافہ کر لیں۔ ۔ کتاب کے آغاز میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم کا تحریر کردہ جامع پیش لفظ نہ صرف اس کتاب کی افادیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ تجارت کے اسلامی اصولوں پر فکری روشنی بھی ڈالتا ہے۔ چنانچہ وہ رقمطراز ہیں:

"اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا، حالانکہ دونوں میں ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ تاجر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اسے یقین نہیں ہوتا کہ نفع ہوگا یا نقصان، جبکہ سودخور اپنے نفع کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یہی اعتمادِ الٰہی اور نفع و ضرر کی غیر یقینی صورت تجارت کو باعثِ برکت بناتی ہے۔”

مولانا رحمانی مزید فرماتے ہیں کہ خلیق و دیانت دار تاجر مذہب و ملت سے بالاتر ہو کر عوام کے دلوں میں جگہ بناتا ہے، اس لیے تاجر اسلام کی اشاعت کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام کی عالمی دعوتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انڈونیشیا، فلپائن، برما، سری لنکا، کمبوڈیا، سنگاپور، چین اور کوریا جیسے ممالک میں عرب تاجروں کے ذریعے اسلام کی روشنی پہنچنے کے تاریخی واقعات بیان کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سچا تاجر محض تاجر نہیں، دعوتِ دین کا سفیر بھی ہے۔

اسی تسلسل میں مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی کا مضمون "خیالِ خاطر” کے عنوان سے شامل کیا گیا ہے، جو علمی محبت، عملی تجربے اور فکری اعتراف سے لبریز ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"مولانا افتاب عالم قاسمی چونکہ خود بھی ایک کامیاب تاجر ہیں، اس لیے تجارت کو موضوعِ تصنیف بنا کر مسلمانوں، خاص طور پر علماء کو حلال رزق کی طرف مائل کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کے پاس علم بھی ہے، قلم بھی، اور وسائل بھی — اس لیے یہ کتاب صرف ان کا علمی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک عملی دعوت ہے۔”

باب اول: تجارت قرآن کی روشنی میں

اس باب میں قرآن مجید کی ان آیات کا مفصل مطالعہ پیش کیا گیا ہے جن میں تجارت، رزق، ناپ تول، دیانت، اور حلال کمائی کا ذکر آیا ہے۔ سورۃ نور، سورۃ بقرہ، سورۃ فاطر، اور دیگر مقامات پر اللہ تعالیٰ نے رزق کے ذرائع کو بیان کیا، جن میں تجارت کو باعثِ برکت اور سود کو موجبِ لعنت قرار دیا گیا۔

یہ باب محض ترجمہ آیات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عملی تفسیر ہے، جہاں ہر آیت کے ذیل میں رزقِ حلال کی روح، برکت کی دعا، ناپ تول میں ایمانداری جیسے اصول، اور ان پر عمل کے عملی فائدے بیان کیے گئے ہیں۔ اور مصنف نے ہر اس آیت کو تلاش کیا ہے جہاں تجارت یا خرید و فروخت کا کوئی پہلو موجود ہے، جو بذات خود ایک گہرے مطالعہ اور تدبر کی دلیل ہے مصنف نے اس باب میں ان تمام آیات کو جمع کر دیا ہے جس میں تجارت یا اس سے متعلق الفاظ ائے ہیں مثلا تجارت، بیع، رزق اور فضل وغیرہ یا ناپ تول سے متعلق کوئی الفاظ آئے ہیں مثلا کیل اور تطفیف وغیرہ بقول مصنف جو انسان خرید و فروخت کو اپنا پیشہ بناتا ہے اور روپیہ و پیسہ اور درہم دینار کماتا ہے اور اس سے اپنے اہل و عیال کی پرورش و پرداخت کرتا ہے ایسی تجارت کرنے والوں کو اللہ جل شانہ بہت پسند کرتا ہے۔

"نہ حرف خدا ہیں، نصیحت کے جام

 تجارت کی ہر راہ ، قرآن کے نام

باب دوم: تجارت احادیث کی روشنی میں

              تجارت نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سنت ہے اور اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی اس لیے مصنف نے اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تجارت پر بھرپور روشنی ڈالی گئ ہے تاکہ دور حاضر کے انسان اور موجودہ نسل صحابی رسول تابعین و تبع تابعین کے طریقے تجارت کو سیکھیں اور اپنے معاشی حالات کو چست و درست کریں اور ناجائز امور سے اور حرام خوری سے خود بھی بچیں اور اپنے بال بچوں کو بھی بچائیں اس لیے اس باب میں ایسے احادیث جمع کی گئی ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ نے تاجروں کو سچائی، دیانت، رحم دلی، اور امانت داری کا نمونہ بنانے کی تلقین فرمائی ہے نیز تاجر کی شخصیت، اس کے کردار اور اخلاقیات پر روشنی پڑتی ہیں۔ خاص طور پر حضرت انسؓ کی روایت کردہ حدیث — جس میں ایک انصاری صحابی کو حضور ﷺ نے کلہاڑی لا کر لکڑیاں کاٹنے کی ترغیب دی — نہ صرف محنت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ تجارت صرف مال کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عزت سے جینے کا راستہ بھی ہے اسلامی تجارت کا یہ علمی باب اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ دین صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ معاش، معیشت اور سماج کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔

"مانگا نہیں جو غیر سے، خود محنت کا راستہ چنا

وہ تاجر بنا، تاجدار کی سنت پر چل پڑا”

باب سوم: تجارت علم کی روشنی میں

یہ باب اسلامی تاریخ میں علمائے کرام، فقہا، اور خلفائے راشدین کے تجارتی رویوں کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے بازار سے متعلق اقوال، امام مالکؒ کی تجارتی احتیاطیں، اور امام ابو حنیفہؒ کا عملی تجارتی کردار — یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ علم و عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

مصنف نے فقیہی جزئیات کے ساتھ ساتھ معاشرتی پہلو، قیمتوں کا تعین، ظلم سے اجتناب، اور خرچ میں اعتدال جیسے امور کو بھی شامل کر کے ایک متوازن خاکہ پیش کیا ہے۔

"علم والوں کی تجارت، خود ہدایت کا سبق

بولنے میں بھی شریعت، تولنے میں بھی حق”

باب چہارم: تجارت سے متعلق چالیس احادیث

اسلام میں علم حاصل کرنا اور اس کو یاد رکھنا نہایت فضیلت والا عمل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو میری امت میں سے چالیس احادیث یاد کرے، اللہ اسے قیامت کے دن فقہا و علماء کے ساتھ اٹھائے گا۔” (مشکوٰۃ) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چالیس احادیث کو یاد کرنا صرف علمی عمل نہیں بلکہ روحانی ترقی، دینی شعور، اور جنت کی طرف ایک عظیم قدم ہے۔

۔۔ مصنف نے یہ باب غالباً اسی فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے لکھا ہے یہ احادیث دراصل تاجروں کے لیے چالیس احادیث پر مشتمل ایک ضابطۂ اخلاق ہے۔ ان احادیث میں بیع و شراء کے آداب، قسم کھا کر بیچنے کی مذمت، امانت داری کی تلقین، اور ناپ تول میں خیانت کی ممانعت شامل ہے۔

یہ باب نہ صرف حوالہ جات کا مجموعہ ہے بلکہ ان کے عملی نفاذ کی دعوت بھی ہےاور حدیث پڑھنے والے قارئین کے لئے نہ صرف معلومات کا خزینہ ہے بلکہ ایک عمل کی دعوت بھی ہے۔

"چالیس موتی حدیث کے، روشنی کا گلدستہ

 ہر موتی میں چھپی ہے ہدایتوں کی کہکشاں”

باب پنجم: تجارت اور ہمارے بزرگان دین

یہ باب خلفائے راشدین، تابعین، ائمہ اربعہ اور برصغیر کے اکابر علما کی تجارتی زندگیوں کو بیان کرتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی کپڑے کی تجارت، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا تاجرانہ کردار، اور حضرت تھانویؒ جیسے بزرگوں کی تجارت سے جڑی عملی مثالیں، پڑھنے والے کو باور کراتی ہیں کہ علم و تجارت کا امتزاج اسلام کا پسندیدہ ماڈل ہے۔

"تھامے جو دیانت کا دامن، تولا جو عدل سے مال

وہی بنا اللہ کا ولی، وہی بنا قوم کا حال”

باب ششم: اسلامی معاشی نظام – ایک تقابلی مطالعہ

یہ باب اسلامی تجارت کے اصولوں کا جدید سودی نظام سے تقابل پیش کرتا ہے۔ Dream11، جوا، سٹہ بازی، بینک سود، قسطوں پر اشیاء کی خرید، کرپٹو کرنسی — جیسے جدید موضوعات پر دینی زاویے سے بحث کی گئی ہے۔ اور وہ طریقے جو اسلام میں جائز و محمود ہے اس کی تمام اقسام کو بیان کیا گیا ہے مثلا شرکت والی تجارت، تجارت مضاربت یعنی ایسی تجارت جس میں ایک ادمی کی پونجی دوسرے آدمی کی محنت ہوتی ہے تجارت اجارہ،تجارت مرابحہ وغیرہ۔

اس باب میں نہ صرف فقہی بحث ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے حلال و حرام تجارت کا فکری رہنما بھی ہے۔

"سود کی دلدل سے نکالے، شریعت کی روشنی

حلال نفع کی راہ دکھائے، یہ بابِ حکمت ہے جلی”

                   اختتاماً کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب "تجارت: قرآن و احادیث کی روشنی میں” نہ صرف ایک فکری رہنمائی کرتی ہے بلکہ عملی زندگی کے لیے بھی ایک بہترین راہنما ہے۔ مؤلف نے تجارت جیسے اہم اور روزمرہ سے جڑے ہوئے موضوع کو نہایت خوبصورتی سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ کتاب میں تجارت کے فضائل، اس کے اصول، طریقہ کار، اخلاقی اقدار، دیانت داری، ناپ تول میں انصاف، جھوٹ سے اجتناب، اور سود کی قباحت جیسے اہم نکات پر دلنشین انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے جو شریعت کے مطابق کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ قاری کو صرف معلومات ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے اندر نیکی، دیانت اور خدا خوفی کو بیدار کرتا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب موجودہ دور کے تاجروں اور کاروباری طبقے کے لیے ایک روحانی اور عملی راہنمائی کا ذریعہ ہے، کتاب ایک جامع، عالمانہ، تربیتی اور دعوتی رہنما ہے۔ اس کا اسلوب سادہ مگر علمی، ترتیب مربوط، اور مواد دلائل سے بھرپور ہے۔ ہر مسلمان تاجر، ہر طالب علم، اور ہر وہ شخص جو رزقِ حلال کے اصول سیکھنا چاہتا ہے، اس کتاب سے فیض یاب ہو سکتا ہے اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔

"یہ کتاب نہیں، چراغِ ہدایت ہے

سچائی کی تجارت کا دعوت نامہ ہے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے