ترتیب و پیشکش:
ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
تاریخِ اسلام میں بعض ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کی زندگیاں قربانی، صبر، علمی معرکوں اور علم کے چراغ سے منور رہیں۔ ان کے کلام اور کردار سے امت نے حیات کے نئے اصول اخذ کیے اور ان کی آزمائشوں نے ملت کو ایمان و یقین کے مضبوط قلعے عطا کیے۔ انہی تابناک شخصیات میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661ھ–728ھ) ایک درخشاں نام ہیں، جن کی زندگی مسلسل جدوجہد، علمی معرکوں اور صبر و ثبات کی مثال ہے۔
ان کی ذات وہ آئینہ ہے جس میں حق گوئی اور صبر کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ زندگی کے مختلف موڑوں پر جب حسد، سازش اور تعصب نے ان کے خلاف طوفان اٹھایا تو قید و بند کی سختیوں نے ان کا دامن گھیر لیا۔ لیکن قید کی کوٹھریاں ہی ان کے لیے جامعہ و مدرسہ بن گئیں اور سلاسل و زنجیر نے انہیں تفکر و تصنیف کے ایسے مواقع فراہم کیے کہ ان کے قلم سے وہ علمی شہ پارے نکلے جو آج بھی دنیا کے گوشے گوشے میں روشنی پھیلا رہے ہیں۔
آزمائشوں کی ابتدا اور قید و بند کی داستان:
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زندگی میں قید و بند سات بار آئی۔ ہر بار کسی نئی سازش، علمی اختلاف یا فتنہ پروروں کی چال کے نتیجے میں یہ مصیبت مسلط ہوئی، مگر ہر مرتبہ وہ ان آزمائشوں سے مزید نکھر کر نکلے۔
پہلی قید (دمشق 693ھ):
یہ قید دراصل غیرتِ ایمانی کی قیمت تھی۔ جب ایک نصرانی نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جان کی پرواہ کیے بغیر اس کا جواب دیا اور اپنی مشہور کتاب "الصارم المسلول على شاتم الرسول” تصنیف کی۔ یہ قید مختصر تھی مگر امت کے لیے پیغام یہ تھا کہ نبی کی عزت پر قربانی سب سے بڑی سعادت ہے۔
دوسری قید (قاہرہ 705–707ھ):
یہ قید ڈیڑھ سال پر محیط تھی، جس کا سبب فکری و فقہی اختلافات بنے۔ مسائلِ عرش، کلام اور صفات کے حوالے سے ان کی آراء نے بعض علماء کو مخالف بنایا۔ لیکن قید کے دوران انہوں نے وصیت کی کہ مخالفین پر بددعا نہ کی جائے بلکہ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے۔ یہ صبر، حلم اور وسعتِ قلبی کی روشن مثال ہے۔
تیسری قید (مصر 707ھ):
یہ قید دو ہفتے پر محیط رہی۔ سبب تھا ان کی کتاب "الاستغاثة” جس میں انہوں نے بدعات و خرافات کے خلاف آواز بلند کی۔ صوفیہ کی مخالفت نے انہیں پھر زندان تک پہنچا دیا۔ مگر یہاں بھی انہوں نے امت کو یہ سبق دیا کہ حق کی پکار دبائی نہیں جا سکتی۔
چوتھی قید (مصر 707–708ھ):
یہ قید دو ماہ یا اس سے زیادہ رہی۔ سازش کا مرکزی کردار صوفی نصر المنبجی تھا۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ مرحلہ بھی صبر اور استقامت کے ساتھ گزارا۔
پانچویں قید (اسکندریہ 709ھ):
یہ سات ماہ کی قید ان کے لیے گویا ایک نئی فتح تھی۔ دشمنوں نے چاہا کہ انہیں قبرص بھیج دیا جائے، لیکن انہوں نے قید خانے کو ہی عبادت گاہ بنا لیا۔ ان کا وہ تاریخی جملہ آج بھی ہر مؤمن کے دل کو گرما دیتا ہے:
*”اگر وہ مجھے قتل کریں تو یہ میری شہادت ہوگی، اگر مجھے جلاوطن کریں تو یہ میری ہجرت ہوگی، اگر قبرص بھیجیں گے تو میں وہاں کے لوگوں کو اللہ کی طرف بلاؤں گا، اور اگر قید کریں گے تو یہ میرا معبد ہوگا۔”
یہ قید نہ صرف صبر کی علامت بنی بلکہ ان کے اخلاق کا روشن پہلو بھی سامنے آیا جب بادشاہ کی واپسی پر انہوں نے اپنے تمام مخالفین کو معاف کر دیا۔
چھٹی قید (دمشق 720–721ھ):
اس بار مسندِ قضا اور عوامی معاملات میں مسئلہ "حلف بالطلاق” سبب بنا۔ تقریباً چھ ماہ قید میں رہے اور اسی دوران انہوں نے "الرد الكبير” جیسی عظیم علمی کتاب تصنیف کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل علم کے لیے مشکلات مواقع میں بدل سکتی ہیں۔
ساتویں اور آخری قید (دمشق 726–728ھ):
یہ قید دو سال تین ماہ تک جاری رہی۔ موضوع تھا "زیارتِ قبور” اور بدعات کا رد۔ اسی قید میں ان کا انتقال ہوا۔ مگر مرنے سے پہلے انہوں نے "الرد على الإخنائي” جیسی کتاب اور بے شمار علمی یادگاریں امت کے لیے چھوڑیں۔
قید و بند کے تربیتی پہلو:
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی داستانِ قید و بند محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک عظیم درس ہے:
1. حق گوئی کا ثمرہ: حق پر ڈٹے رہنے والا ہمیشہ آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے، مگر یہی اس کے مقام کو بلند کرتا ہے۔
2. صبر و استقامت: قید کی کوٹھریاں بھی ان کے عزم کو نہ توڑ سکیں، بلکہ انہی میں تصنیف و تحقیق کے دروازے کھلے۔
3. عفو و درگزر: دشمنوں کو معاف کرنا، ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنا، اخلاقی عظمت کی معراج ہے۔
4. مصیبت میں فرصت: قید ان کے لیے تعطل نہیں بلکہ علمی انتاجات کا ذریعہ بنی۔
5. آخرت کا شعور: ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ہر حال کو اپنے لیے خیر سمجھا، خواہ وہ قتل ہو، جلاوطنی ہو یا قید۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی داستان حیات سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کی عظیم شخصیتیں آزمائشوں کے بھٹّی میں ہی کندن بنتی ہیں۔ اگر وہ آزاد زندگی گزار لیتے تو شاید امت کو اتنے علمی خزانے نہ ملتے۔ ان کے صبر، عفو، اور علمی معرکوں نے امت کو یہ پیغام دیا کہ حق کے چراغ کبھی بجھائے نہیں جا سکتے، بلکہ طوفان انہیں اور روشن کر دیتے ہیں۔
یہ قید و بند دراصل ملت کے لیے برکتیں بنیں، اور انہی میں سے وہ علوم و معارف پھوٹے جن سے آج بھی ایمان تازہ ہوتا ہے اور افکار منور ہوتے ہیں۔
