ہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں: مولانا مفتی حافظ محمد جاوید احمد نظامی

بیدر۔28؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): اللہ کا ارشاد ہے ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان  ترجمہ :۔بیشک اللہ عدل وانصاف کا اور احسان کا حکم دیتا ہے، اللہ کے اسماء میں سے ایک نام عادل بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں ایک نام عادل بھی ہے یعنی اللہ بھی عدل کرنے والے ہیں اور رسول اللہ بھی عدل کرنے والے ہیں اللہ اور اسکے رسول نے ایمان والو ں کو عدل و انصاف کا دامن تھامنے کا حکم فرمایا ہے ۔ان پاکیزہ خیالات کا اظہارحضرت مولانا مفتی حا فظ محمد جا ویداحمد نظامی امام و خطیب کالی مسجد بیدر نے نبی خانہ مبارک بیدر میں جناب ڈاکٹرالحاج سیّدحسام الدین قادری عزیز صدر قاضی دارالقضاء ت بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 12؍روزہ محافل میلاد النبی ﷺ کی دوسری مجلس میلاد کو بعنوان ’’حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ میں عدل وانصاف اور عصر حاضر ‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں عدل کے مقابل میں ظلم آتا ہے ظلم کہتے ہیں کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کو،حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا اِنصاف کرنے والے نور کے منبر پر ہونگے،اور فرمایا قیامت کے دن عادل حاکم کو رحمت کے سائے میں رکھے گا اس دن اسکے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا، ہر شئہ کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے،انسان اللہ کے ساتھ بھی عدل کرے اللہ کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں،رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عدل یہ ہے کہ حضور کے اوامر و نواہی پر عمل کرے جہاں اللہ اور اسکے رسول کے عدل کرنے کا حکم ہے وہی پر بندوں کے ساتھ بھی عدل کا حکم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل کے ذریعے امت کو عدل وانصاف کی اہمیت کو اجاگر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیک وقت نو بیویاں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبکے  تھ سب کے عدل وانصاف کر کے دنیا کے سامنے نمونہ پیش کیا،حضور نے عدل نہ کر نے کو ظلم کہا ہے ایک صحابی نے عرض کیا یارسول میں اپنے بیٹے کو مال دینا چاہتا ہوں آپ کا کیا حکم ہے حضور نے فرمایا کیا اور بھی بیٹو ں کو دینے کا اردہ کیا ہے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ،حضور نے فرمایا کیا تم مجھے ظلم پر گواہ بناتے ہو،فرمایا ہر ایک کو برابر حصہ دو یہ عدل ہے جہاں دوسروں کے ساتھ عدل وانصاف کر نے حکم وہاں اپنی ذات کے ساتھ بھی عدل کرنے کا حکم ہے،حضور نے فرمایا تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے،تیرے اھل کا بھی تجھ پر حق ہے سب کے حقوق کے بارے میں تجھ سے سوال ہوگا سب کے ساتھ عدل وانصاف کا رویہ اختیار کر ے،عدل و اِنصاف جہاں رہتا ہے وہ مقام رحمت وہ برکت کی آماجگاہ بن جاتا ہے،حضور عدل وانصاف زندگی کے ہر شعبے میں ایک کامل نمونہ ہیں۔مولانا نے جناب قاضی سید لطیف الدین قادری خسرو صدر قاضی مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔قاضی سیّداویس احمد برادر قاضی نے تمام مہمانوں اور عاشقان رسول اﷲ ﷺ کا استقبال کیا اورانتظامات کی نگرانی کی ۔جلسہ کی کارروائی کا آغاز محمد ادریس کی قرائت کلام سے ہوا۔قاری جناب محمدشفیع جنیدی ،محمد شفیع الدین اور دیگرنے حمدونعت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ مولانا کی دعائے سلامتی کے بعد سلام وفاتحہ کے بعدیہ روحا نی تقریب تکمیل ہوئی ۔ جناب محمدعطاء اﷲ صدیقی نے نظامت کے فرائض بحسن خوبی انجام دیئے ۔ مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی صدر نائب قاضی دارالقضاء ت بیدر نے اظہار تشکر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے