ممبرا(مہاراشٹر): ۔گزشتہ شب معروف و مشہور شاعر محترم مسیح الدین نذیری کی قیام گاہ پہ استاد شاعر جناب اعجاز ہندی صاحب کی صدارت میں ایک ادبی نشست کا انعقاد ہوا جس میں ممبرا شہر ہی نہیں بلکہ بیرون ممبرا کے شعرا نے بھی شرکت کی۔
ناظم مشاعرہ مسعود حساس صاحب نے مائک سنبھالا اور رفیق چوگلے صاحب کو آواز دی جن کی دلآویز تلاوت سے اس محفل کا آغاز ہوا جبکہ شاذ رمزی صاحب نے نعت کی سعادت حاصل کی بزرگ شاعر حبیب الہ آبادی کی شال پوشی جناب ہنگامہ اعظمی اور تابش رامپوری صاحبان کے ہاتھوں عمل میں آئی
یہ خالص ادبی محفل رات بارہ بجے تک مکمل آب و تاب کے ساتھ چلتی رہی اور ایک سے ایک ہیرے موتی جیسے شعر غزلیہ تہذیب اور اردو ادب کے حسن و جمال میں اضافہ کرتے رہے موجود شعرا نے ایک دوسرے کو کشادہ دلی کے ساتھ داد دی ہر نئی جہت اور ہر جدید اسلوب کے حامل شعر کو عقیدتوں بھرا سلام پیش کیا چند نمائندہ شعر پیش خدمت ہیں
مجھے اپنی سی کوشش میں لگا رہنے دو پھر دیکھو
میں جس پودے کو چھولونگا وہی خوش رنگ نکلے گا
اعجاز ہندی
ہمارے گھر کا یہی اوڑھنا بچھونا ہے
ہمارے سامنے شعر و ادب کی بات کرو
زبیر گورکھپوری
نیا سورج ہے چڑھتا جا رہا ہے
جنون شوق بڑھتا جا رہا ہے
بڑھاپے میں ہوئی ہے جب سے شادی
کمر کا درد بڑھتا جا رہا ہے
ہنگامہ اعظمی
بجا ہے فخر کرے ماں جو اپنی عظمت پر
ہزاروں لخت جگر اس کے ہیں پیمبر دیکھ
حبیب الہ آبادی
پہونچ گئی ہے نذیری مری ڈھلان پہ عمر
سمجھ رہے ہیں مرے اقربا مشین مجھے
مسیح الدین نذیری
تمام عمر ہی لہجہ ہمارا خشک رہا
تمام عمر سمندر میں اعتکاف کیا
مسعود حساس
اس قدر خوف سفر میں رہا طاری مجھ پر
ریل کی سیٹ پہ روٹی نہیں کھولی میں نے
شاذ رمزی
یہ صوفیانہ روش بارشوں نے دی ہے اسے
ہرے لباس میں جنگل بزرگ لگتا ہے
سلیم رشک
کچھ نہ ملنے پر بھی وہ لاکھوں دعائیں دے گیا
کتنے شرمندہ ہوئے ہیں آج اک سائل سے ہم
رئیسہ خمار صاحبہ
دونوں طرف یقین تھا دونوں طرف گماں
خـالـد حـیــات پا گئے سقــراط، مـر گــیا
منظرؔ بلیاوی
یہ مسلسل سی تشنگی کیوں ہے
بحر ہستی کا رازداں ہوں میں
ریکھا روشنی
وقت سے بے فکر انساں وقت سے بیزار ہے
وقـت ایسـے پـر صـعـیـدیؔ آہنـی تلــوار ہے
ذوالفقار صعیدیؔ
وہ بلانے پہ کب نہیں آتا
مجھ کو حسن طلب نہیں آتا
جناب ایاز بستوی
دنیا قفس ہے دوست پرندے ہیں ہم سبھی
جو قیـد بھی نہیں ہیں جو آذاد بھـی نہیں
تاج محمد صدیقی تاؔج
دوست سیلاب بلا میں رہیں غرقاب یہاں
کشتئ زیست کو میری یہ گوارا بھی نہیں
فخر عالم اعظمی
جو ترا رند ہے کب جام لیا کرتا ہے
اک نظر دیکھ کے دل تھام لیا کرتا ہے
تابش رامپوری
زندگی کی راہ میں مشکل گھڑی جب آتی ہے
ہم سے پوچھو زندگی کیسے گزاری جاتی ہے
رفیق چوگلے
اچھا انسان بھی نہیں ہے وہ
جس کو تم سب خدا سمجھتے ہو
منظور الاسلام منظور
