ڈاکٹر ثنااللہ شریف، بنگلور

ماہِ اگست کی آمد آمد پر بے دریغ اُس زرین باب اور عہدساز شخصیات کاوہ بلندوبالا، عزم مصمم اور مضبوط قوتِ ارادی وثابت قدمی سے سرفروشانہ اور قائدانہ کردار کااحاطہ کرتے ہوئے ہمارا ذہن ہماری آنکھوں کوچکاچوند کردیتاہے، جنہوں نے مادرِ وطن ہندوستان کی آزادی کے لئے جذبہ ء جہا د اور جام شہادت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کہاتھا   ؎
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھناہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
وقت آنے دے بتادیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیابتائیں کیاہمارے دِل میں ہے
بسمل عظیم آبادی
15؍اگست کو ملک عزیز کے کونے کونے، چپے چپے، ذرے ذرے، پتے پتے، بوٹے بوٹے، گلی گلی، کوچہ کوچہ، اسکول کالجس اور ہر رہ گزراور چوراہوں پر یہ مترنم صداسے ہمارادِل گونج اٹھتاہے   ؎
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
علامہ اقبال
وطن پر جب بھی مصیبت کے بادل منڈلاتے ہیں تو یہ اشعار زبان پر آجاتے ہیں  ؎
وطن کی فکر کرناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
شیر میسور حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ، سلاطین وحکمرانوں میں وہ ممتاز نام ہے جنہوں نے قابض انگریزوں کے خلاف صف آراء ہوکر اس سرزمین پر اپنامقدس خون بہایااور اس کے ذرّوں کومنور کرتے ہوئے یہ پیغام دیا’’گیدڑ کی صدسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ‘‘مولانا حسرت موہانی، مجاہد آزادی اور اُردو کے مقبول شاعروصحافی، سودیشی تحریک کی رہبری کرنے والے اولین مسلم لیڈر جنہوں نے مسلمانوں کو دلیرانہ سیاست کا پیغام دیا۔ یہ نعرہ آج بھی ہر موقع پر استعمال ہوتاہے ’’انقلاب زندہ باد ‘‘۔قومی پرچم کو سلامی دینا، جئے ہند کہنا ، قومی ترانہ گانا ، ایک دوسرے کو سلام کرنا تینوں لازم وملزوم ہیں۔ اس کے ذریعہ سے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرناہوتاہے تاکہ ان کے جذبات واحساسات پروان چڑھے ۔ آج بھی یہ نعرہ زمانہ ساز ہے اور ہرموقع پر استعمال ہوتاہے۔ اس کو میجر عابد حسین حیدرآبادی نے پیش کیا ۔ یہ نعرہ ’’جئے ہند‘‘ دل ودِماغ پر وجد طاری کرتاہے۔
قومی پرچم:۔ کسی بھی ملک کاپرچم اس قوم کیلئے محض ایک کپڑے کی حیثیت نہیں رکھتابلکہ یہ اس آزادقوم کی عظیم روایات، عظمت ، سرفرازی وسربلندی کامعیار ہوتاہے۔ شناخت اورIdentityہوتا ہے۔ جس سے اس قوم کی آزادی، اتحادواتفاق ، قومی یکجہتی اور عظمت جیسے اوصاف نمایاں ہوتے ہیں۔ جب تک اس کا پرچم بلند رہتا ہے اس وقت تک وہ قوم دنیا میں ناکامی، ذلت وشکست سے ہمکنار نہیں ہوتی۔ قومی پرچم کو بدرالدین طیب جی I.C.Sنے ڈیزائن کیا۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخی رات کو ملک کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس کو لہرایا۔ ’’بھارت چھوڑو‘‘ کانعرہ پیش کرنے والے یوسف مہرعلی ہیں۔ 18؍اگست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو کانگریس پارٹی ممبئی اجلاس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی صدار ت میں اور یوسف مہرعلی کے نعرے ’’بھارت چھوڑو‘‘ Quit India Moment تحریک کابگل بجایاتو اس میں بلاتفریق مذہب وملت معاشرے کے ہرطبقے نے خصوصاًخواتین نے بڑے پیمانے پر حصہ لیا جس میں پردہ نشین خواتین بھی شامل تھیں۔ ان جانباز خواتین نے تمام تکالیف کو ہنستے ہنستے برداشت کیامگر دل میں جل رہے حب الوطنی کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔
مولانامحمد علی جوہر ؔ:۔ اسلام کے تابندہ جوہر اور شعروادب کے ماہر تھے مولانا محمد علی جوہر ۔ سیاسی رہنماؤں میں آپ کامقام نہایت اعلیٰ تھا۔ شعلہ بیان مقرر، ہمہ گیر شخصیت کے مالک ، ’’ہمدرد‘‘ اور ’’کامریڈ‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کے یہ بول نہایت دلیرانہ اور عزم وحوصلے کاباعث بنے   ؎
بولی بی اماں محمد علی کی جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی جان بیٹا خلافت پہ دے دو
بوڑھی ماں کاکچھ غم نہ کرنا کلمہ پڑھ کر خلافت پہ مرنا
محمد علی جوہر ؔ 1935؁ء میں پہلی گول میز کانفرنس میں(انگریزوں کے سامنے) جس جوش و جذبے سے بھرپور تقریر کی کہ آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے اور یہ الفاظ’’آج جس مقصد کے لئے میں یہاں آیاہوں ، وہ یہی ہے کہ میں اپنے ملک کو ایسی حالت میں جاؤں جب کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ ایک غیرملک ہی سہی جب کہ وہ آزاد ہے مرنے کوترجیح دوں گااور اگر آپ مجھے ہندوستان کو آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کیلئے جگہ دینی پڑے گی ‘‘The Proclamation of Freedom , Should be given in any hands or you ought to give the place for a Grave مولانا جوہراور دیگر احباب اکثروقت جیل میں گزارتے ، برٹش حکومت نے معذرت نامہ لکھنے کے لئے کہا۔ ہرطرح کالالچ دیا ۔سنگ وآہن جیسے عزائم کوسیم وزر کے انباربھی خریدنہ سکے۔ بقول شاعر    ؎
کسی کے خوف سے لکھے نہ گئے معذرت نامے
پڑاجو وقت توسولی پرچڑھ گئے ہم لوگ
علمائے کرام :۔ علمائے کرام نے انگریزوں کے خلاف جہا د کافتویٰ دیاتو انہیں واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالاگیا، کالا پانی کی سزائیں دی گئیں۔ قید وبند کی صعوبتوں سے آزمایا۔ خون کے دریابہائے گئے ۔ جائیدادیں ضبط کی گئیں لیکن علمائے کرام نے پوری ثابت قدمی اور استقلال سے کہا ’’اپنے خون کاآخری قطرہ تک ملک کے لئے بہادیں گے لیکن فتویٰ نہیں بدلیں گے ‘‘
شعرائے کرام، صحافیوں ، سیاسی رہنماؤں اور صاحب ِ غیرت مسلمانوں پر انگریزپولیس نے فائرنگ کی ۔ کبھی پریس ضبط کئے گئے ، اخبار جلادئے اور جیل کی اذیتوں اورمصیبتوںمیںبھی مبتلا کیاگیالیکن انھوں نے عزم وحوصلے کاثبوت دیتے ہوئے کہا   ؎
متاعِ لوح وقلم چھن گئی تو کیاغم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیاکہ رکھ دی ہے
ہرایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
فیض احمد فیض ؔ
مولانا ابوالکلام آزاد ؔ:۔ مولاناابوالکلام آزاد تحریک ِ آزادی کے قدآور مسلم رہنما ہی نہیں بلکہ کانگریس کے صدر بھی رہے ۔ ماہرتعلیم ، شعلہ بیان مقرر ، الہلال والبلاغ کے مدیرنے اپنے قول وعمل سے واضح کیا    ؎
دِل اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا
ولولوں کے لئے ممکن نہیں زنداں ہونا
عمرِ عزیز کا قیمتی وقت قیدوبند میں گزرا۔ پریشان حال مسلمانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا’’یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام سے اختیارکی ہے ، اس پر غورکرو، اپنے دِلوں کومضبوط بنالو، اپنے دماغوں پر زور ڈالو، تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں، آخر کہاں جارہے ہو، کیوں جارہے ہو؟تمہارے وہ اسلاف تھے جوسمندروں میں اتر گئے۔ پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں ،ان سے مسکراتے بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا‘‘ آزاد نے مسلمانوں کوعزت وشان سے سراٹھا کر جینے کاحوصلہ دِیاکہاکہ۔’’ مسلمان اور بزدلی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔ آؤ عہد کریں ، یہ ملک ہماراہے ہم اس کے لئے ہیں۔ اور اسکی تقدیر کے فیصلے ہماری آواز کے بناادھورے ہیں۔ عزیزو ، آج زلزلوں سے ڈرتے ہوکبھی تم خود ایک زلزلہ تھے‘‘
اُردو زبان:۔ یہ بات کسی شک کے بغیر درست ہے کہ اردو زبان نے جنگ آزادی میں جم کرحصہ لیا۔ اسی لئے تو کہاجاتاہے کہ ہر موقع پر مسلمان اور اُردو زبان دونوں جنگ آزادی میں برابرکے شریک رہے ہیں، لیکن افسوس آج دونوں کی خدمات کو فراموش کیاجارہاہے ۔ اردو زبان کی اولوالعزم وسرفروشانہ جدوجہد ، اس کے نعرہء مستانہ، اس کے جوشِ جنوں ، حب الوطنی سے لبریزومست بے خود کردینے والے آہنی عزم کے ترجمان ترانے اور قومی یکجہتی کے نغموں کویکسر فراموش کردیاگیاہے اور تو اور اس کے شجرہء نسب پر بھی داغ لگایاگیاہے۔ اسی لئے مجبوراً شاعر کو کہناپڑا    ؎
جب پڑا وقت گلستان پہ تو خوں ہم نے دِیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیںتراکام نہیں
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے