تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول الگول میں یوم اساتذہ تقریب سے پرنسپل و دیگر کا خطاب

ظہیرآباد 6/ ستمبر (مشرقی آواز جدید): قوم و ملک کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا کلیدی کردار ہوتا ہے. شعبئہ حیات کے تمام شعبہ جات کے ماہرین کو اساتذہ ہی تیار کرتے ہیں. ان خیالات کا اظہار مسٹر جے راملو پر نسپل تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول الگول بوائز 1 نے اپنے آج اسکول میں دہم جماعت کے طلباء کی جانب سے. منعقدہ سیلف گورنمنٹ ڈٹے اور یوم اساتذۂ تقریب سے خطاب صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا. پروگرام کا آغاز طالب علم تنویر شاہ کی قرآت کلام اور شیخ ایان کی نعت شریف سے ہوا تھا.انہوں نے مزید کہا کہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اس کے باوجود بھی اساتذہ کی اہمیت مسلمہ ہے. بلکہ اس دور میں تو اساتذہ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئ ہیں. انہوں نے دوٹوک کہا کہ ماں باپ ایک بچے کو آسمان سے زمین پر لانے کا سبب بنتے ہیں. جبکہ اساتذہ ایک بچے کو زمین سے آسمان پر لے جانے کا سبب بنتے ہیں. انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ اساتذہ کی قدر کریں اور ان کی ہدایات و مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ہوئے اپنے مستقبل کو تابناک بنائیں.
محمد خلیل اسکو ل کو آرڈینیٹر نے اپنے خطاب کہا کہ آج کے طلباء کل کے اساتذہ اور ذمہ دار شہری کہلاتے ہیں. انہوں نے طلباء کو تلقین کی کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں. محمد اسلم درد کوہیر ی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کا سب سے مقدس پیشہ، پیشہ تدریس ہے. انہوں نے اساتذہ کو تلقین کی کہ وہ مقدس پیشہ پر فائز ہونے کو اعزاز سمجھیں. مسٹر راجو ٹی جی ٹی تلگو نے اپنے خطاب میں تمام اساتذہ کو یومِ اساتذہ کی مبارک باد پیش کی..
ڈاکٹر محمد محبوب ٹی جی ٹی اردو نے اپنے خطاب میں کہا کہ طلباء ایسے پڑھیں کہ اوروں کو پڑھا سکیں. قبل ازیں جماعت دہم کے طلباء نے اساتذہ کا بہترین کردار ادا کیا. اس موقع پر ڈپٹی وارڈن محمد سمیع الدین، سرینواس اسکول کو آرڈینیٹر، محترمہ عظمت جہاں پی جی ٹی، محمد سعید پی جی ٹی، عبدالمننان، پی جی، ٹی، محترمہ راجیہ لکشمی پی، جی، ٹی، محمد احمد پی، جی ٹی، مسٹر اشوک پی جی ٹی، محمد معین الدین پی جی ٹی، شریمتی مینا پی جی ٹی، محترمہ سبیتا اسٹاف نرس، محمد محبوب ٹی، جی، ٹی، مسٹر کرانتی ٹی، جی ٹی، محمد مقصود احمد ٹی، جی، ٹی، محترمہ شائستہ بانو، ٹی، جی، ٹی،. محمد محسن ٹی، جیسے، ٹی. حافظ طیب صاحب، محترمہ عائشہ بیگم آرٹ ٹیچر، مسٹر انیل فزیکل ٹیچر کے علاوہ طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے