مفتی ہمایوں اقبال ندوی

سیدنگر کانپور کا واقعہ پورا ملک جانتا ہے۔ گزشتہ ۱۲/ ربیع الاول کو یہاں "آئی لو محمد” کا بینر لگانے پر ۲۵/ مسلمانوں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اب یہ یہ بحث ہورہی ہے کہ یہ بڑا ظلم ہے،ایسا واقعہ اپنے ملک میں پہلی بار رونما ہوا ہے، وطن عزیزایک جمہوری ملک ہے، یہاں مذہبی آزادی ہے،اپنے دین ومذہب سے عقیدت اور نبی سے محبت ہمارا آئینی حق ہے،اس پر روک ٹوک جمہوریت کا قتل ہے،محض ایک ہندو لیڈر کی شکایت پر پولیس باضابطہ ایف آئی آر درج کر رہی ہے، یہ نہایت تشویشناک وافسوسناک معاملہ ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، آئے دن ملک میں اس طرح کے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، کبھی شان رسالت میں گستاخی کی جاتی ہے، تو کبھی اماں جان حضرت عائشہ کے خلاف بدزبانی کی جاتی ہے،کبھی آل رسول کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو کبھی اصحاب رسول کو لعن وطعن کیا جاتا ہے، واقعات کی نوعیت و کیفیت بدلتی رہتی ہے مگرنیت ایک ہی ہے، ان تمام واقعات سے عشق رسول کا امتحان لینا مقصود ہے۔
باطل کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک یہ امت اپنے نبی کا دیوانہ رہے گی خدا کے محبوبیت کا حقدار بنی رہے گی، قرآن کریم کے سورہ آل عمران میں یہ اصول بتلایا گیا ہے کہ اگر تم خدا کی محبوبیت کے حقدار ہونا چاہتے ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو! آقا سے محبت ایمان کی لازمی اور بنیادی شرط ہے۔ حدیث شریف میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔جب بندہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے تو اللہ کی بے پناہ محبت کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا خود جبریل کو یہ حکم دیتا ہے کہ میں فلاں بندہ سے محبت کرتاہوں،پھر زمین وآسمان میں اس کی محبت پھیلا دی جاتی ہے۔ آج مذکورہ واقعہ سے بھی اس بات کی ہمیں دلیل ملتی ہے، ایف آئی آر کےبعد بہت سے برادران وطن سوشل میڈیا میں سامنے آگئے ہیں، اپنے ہاتھوں میں "آئی لو محمد” کا بینر تھامے یہ کہ رہے ہیں کہ :میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں، اللہ اکبر ۔

آج باطل وقفے وقفے سے ہمیں آزماتا ہے، نبی سے ہمارا تعلق کس درجے میں ہے، یہ جاننا چاہتا ہے۔اس امتحان کی تاریخ بہت پرانی ہے، روز اول سے ہی ایمان والوں کی یہ آزمائش ہوتی رہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات بھی اس نوعیت کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں، مشہور واقعہ حضرت زید بن دثنہ صحابی رسول کا ہے،جب ان کو تخت دار پر چڑھایا گیا، تویہ سوال بھی پوچھا گیا، زید! کیا تم یہ پسند کرو گےکہ آج تمہیں چھوڑ دیا جائےاور تمہاری جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالے کر دیا جائے۔حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے نبی کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے، پوچھنے والوں نے اس حقیقت کابرملا اعتراف کیا کہ: ہم نے کبھی کسی کو اپنے ساتھی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ان سے کرتے ہیں۔
یہاں پراس کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ ایک ایمان والے کو اللہ کے رسول سے کتنی محبت ہونی چاہیے؟
ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ آب مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! حضرت عمر نے فورا کہا: اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارا ایمان مکمل ہوا( بخاری)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان مال اہل و عیال سب سے زیادہ محبت ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ایمان کے اندر نقص ہے اور کھوٹ ہے۔ دشمنان اسلام گاہے گاہے اسی چیز کا امتحان لیتے ہیں اوراس راستے سے اسلام کو نقصان پہونچانا چاہتے ہیں۔
یہ مقام شکر ہے کہ اج بھی امت مسلمہ آقا مدنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پراپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے تیارہے۔
ابھی گزشتہ جمعہ کو ملک بھر میں آئی لو محمد کی تختیاں لیکر مسلمانان ہند سڑکوں پر نکلے ہیں، اور یہ کہ رہے ہیں کہ ہم کسی ایف آئی آر سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ جیل کی سلاخیں دیوانگان محمد کو نہیں ڈرا سکتی ہیں، وہ اس لئے کے اس راہ میں اپنی سب سے قیمتی شئی یعنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔

باطل کو کہ دو عاشقوں کا امتحان لے
ہم جان دیں گے اپنے محمد کے نام پر

 

مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
وجنرل سکریٹری، تنظیم ابنائے ندوہ پورنیہ کمشنری
۲۱/ستمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے