( غزہ میں صحافیوں کی شہادت: المناک حقائق )

ذرائع ابلاغ یا میڈیا دور حاضر کی بنیادی ضرورت ہے ، وہ ایک معصوم آلہ ہے ، جس کو خیر وشر ، نفع و ضرر دونوں مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، بامقصد میڈیاصرف تعمیر ی اور مثبت پہلو رکھتا ہے ، اور اس کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جا تا ہے ، لیکن زر خرید میڈیا ہمیشہ حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے ، بے بنیاد واقعات کو عام کرنے ، سستی شہرت حاصل کرنے اور روح و جذبہ سے عاری سرگرمیوں کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،عالمی سطح پر میڈیا کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ میڈیا پر اس وقت یہودی لابی کا زبردست اثر ہے، وہی رائی کو پربت بناتا ہے ، اور چھوٹے واقعات کو بڑا بنا کر پیش کرتا ہے ، اوربے حیائی اور بے شرمی کے فروغ میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے ، یہ میڈٖیا خواہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک یا ڈیجیٹل اس کے انسانی معاشرہ پرمنفی اثرات ہوتے ہیں۔
دوسال سے جاری غزہ کی سرزمین پر طوفان الاقصی میں دونوں میڈیا کا کردار سامنے آیا ، زرخرید میڈیا نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی انتھک کوشش کی ، اور اسرائیلی جرائم اور نسل کشی کو ہلکا کر کے پیش کرنے کی متنوع تدبیریں کی، لیکن اللہ تعالی نے تعمیری میڈیا کے ذریعہ سارے واقعات کو ہر خاص و عام تک پہونچا دیا ، اگر چہ اس سلسلہ میں اس کو بڑی قربانی دینی پڑی ، اورسیکڑوں افراد سے محروم ہونا پڑا ، حوصلہ مند، باہمت اورباغیرت صحافیوں کی ایک ٹیم نے اسرائیلی جارحیت کی پل پل کی خبروں کو عام کیا ، اور اس کے ظلم و ستم ، بلکہ منصوبہ بند نسل کشی کو طشت ازبام کیا، اگر یہ ہمت و حوصلہ کے حامل افراد نہ ہوتے تو طوفان الأقصی کے حالات اس قدر تفصیل سے سامنے نہ آتے ، اور عالمی سطح پر جو احتجاجات اور مظاہرے ہورہے ہیں وہ بھی دب جاتے ،یا پردۂ خفا میں چلے جاتے، اورمغربی ممالک میں باحمیت افراد مردوں ، عورتوں اور نوجوانوں نے اسرائیلی ظلم کے خلاف جو قابل تعریف مظاہرہ کیا ہے ، وہ بھی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہوتا۔
قطر کے الجزیرہ چینل نے اپنے متعددصحافتی نمائندوں کو غزہ کی سرزمین میں اتارا ، وہ وہاں کے حالات احساس ذمہ داری کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے لارہے ہیں، اورغزہ کی تازہ صورت حال سے باخبر کررہے ہیں ، غزہ کی سرزمین پر ابھی تک صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کا جو قتل عام ہوا ان کی تعداد تقریبا ڈھائی سو ہے ، انہیں باحمیت افراد میں ۱۰؍ اگست ۲۰۲۵؁ء کو شہید ہونے والے انس شریف اور ان کی ٹیم کے افراد ہیں ، جنہوں نے صحافیانہ عمل کو عبادت سمجھ کر انجام دیا ، اور اور اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھا ، تیس سالہ انس شریف غزہ کے جبالیا کیمپ میں پیدا ہوا، اور ماس کمیونی کیشن کی ڈگری حاصل کی ،اور اس میں اسپسلائزیشن کیا ، ۲۰۱۴؁ء سے اس نے اپنے صحافیانہ عمل کا آغاز کیا ، پہلے ایک عام صحافی کی طرح کام کیا ، پھردو سال قبل الجزیرہ چینل سے وابستہ ہوا اور پوری جرأت و ہمت سے رپورٹیں پیش کیں اور اجتماعی نسل کشی کو دنیا کے سامنے عام کیا، اس سلسلہ میں اس کودھمکیاں دی گئیںاور خطرناک چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ دس اکتوبر ۲۰۲۵؁ء کو اسرائیلی بم باری میں اسے شہید کردیا گیا، ان کے ساتھ صحافی محمد قریقع ، ابراہیم ظاہر ، اور محمد ریاض بھی تھے ، اسرائیل نے اس ٹیم کو حماس کا حامی اوردہشت گرد کہا۔ ظاہر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی نگاہ میں ہر وہ شخص دہشت گرد ہے ، جو حق و صداقت کی تائید کرے اور اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے ۔
صحافیوں کی شہادت کا تازہ واقعہ ۲۶؍ اگست ۲۰۲۵؁ء کو النصر اسپتال پر اسرائیلی بمباری کے دوران پیش آیا ، جس میں مریض، ڈاکٹروں ، شہری دفاعی رضاکاروں سمیت چھ صحافیوں کی شہادت ہوئی ، جن میں رائٹرز کا کیمرہ مین امین حسام المصری ، امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی اور برطانوی اخبارانڈپنڈنٹ کی نامہ نگار مریم ابو دقہ ، امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طلحہ ، الجزیرہ کا جرنلسٹ محمد سلامہ ، اور قدس نیٹ ورک کا صحافی احمد ابو عزیز قابل ذکر ہیں ، خبروں کے مطابق الجزیرہ کے جرنلسٹ محمد سلامہ کا ابھی چند دن بعدہالہ عصفور سے عقد نکاح ہونے والا تھا ، لیکن اس ظالمانہ حملے میں وہ بھی شہید ہوئے ۔
شہید ہ صحافی مریم ابو دقہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے غیث کو ایک خط لکھا تھا ، جس میں اس نے کہا کہ غیث ! تم اپنی ماں کا دل اور جان ہو ، میرے بعدرونانہیں، بس میرے لئے دعا کرنا ،تاکہ مجھے سکون کی زندگی مل سکے ،غیث ! تمہاری نماز ہی اصل تمہاری طاقت ہے ، سب سے بڑھ کر یہ کہ نماز کبھی نہ چھوڑنا ، میری دعا ہے کہ تم ایمان ، عزت اور کامیابی کے ساتھ بڑے ہو ، محنت کرو ، تعلیم میں کمال حاصل کرو ۔
ایک دوسرے صحافی انس شریف جن کی شہادت ۱۰؍ اگست ۲۰۲۵ء کو ہوئی ، اس نے اپنی شہادت سے پہلے ایک وصیت نامہ لکھا ، اور اس کو اپنی شہادت کے بعد عام کر نے کی وصیت کی ، اس وصیت نامہ میں اس کی زندگی کا آخری پیغام ہے ، جو عالم اسلام کے مسلمانوں اور امن پسند حضرات کے لئے ایک گائڈ لائن بھی ہے :
’’یہ میری وصیت ہے ، اور میرا آخری پیغام ہے ، اگر آپ تک یہ میرے الفاظ پہونچ جائیں تو یقین کیجئے کہ اسرائیل مجھے قتل کر نے ، اور میری آواز کو دبانے میں کامیاب ہو گیا ہے ، تو میں سب سے پہلے آپ کی خدمت میں ہدیہ سلام پیش کرتا ہوں ، اللہ گواہ ہے کہ جو کچھ میں کوشش کررہا ہوں وہ اس لئے ہے کہ میں اپنی مظلوم قوم کا سہارا بن سکوں ، اور اس کی ترجمانی کر سکو ں ، میری آرزویہ ہے کہ میری عمر دراز ہو ، اورمیں اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے درمیان لوٹ سکوں ، اور عسقلان میں آزادی کی حالت میں سانس لے سکوں ۔
میں نے رنج و الم کے کئی مرحلے طے کئے ہیں ، اور تکلیف و مشقت سے بار بار دوچار ہوا ہوں ، لیکن کبھی بھی میں حقیقت کی ترجمانی سے پیچھے نہیں رہا ، اور میں نے بلا کم و کاست صحیح بات پہونچانے کی کوشش کی ہے ، امید ہے کہ اللہ تعالی ان کے خلاف گواہی کے لئے کافی ہے جو خاموش بیٹھے ہیں ، اور جو ہمارے قتل کے منصوبے بنار ہے ہیں، اور ہمارا محاصرہ کیا ، اور ان کے ضمیر پراُن خوفناک مناظر سے ذرا چوٹ نہیں لگی جو بچوں کے چیتھڑوں کی شکل میں تھے ، اور انہوں نے قتل و غارت گری کو رکوانے کے سلسلہ میں دو سال کے دوران کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔
میں تمام مسلمانوں کو فلسطین کے سلسلہ میں وصیت کرتا ہوں ،جو فلسطین مسلمانوں کے سروں کا تاج ہے ، اور ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے ، میں اس کے مظلوم و مقہور باشندوں ، اوربچوں کے سلسلہ میں خیر کی وصیت کرتا ہوں ، وہ بچے جو بن کھلے مرجھا گئے ، اور ان کی تمنائیں ان کے دل میں دفن ہو گئیں ، ان کے جسم بموں اور میزائلوں کی زد میں آئے ، اور وہ ذرات کی طرح بکھر گئے ۔
مسلمانو! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ قید و بند سے نہ گھبرانا ، اور زنجیروں اور بیڑیوں سے خوف نہ کھانا ، فلسطین کی آزاد ی میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دینا ، تاکہ یہ ملک اس کے اصل باشندوں کے ہاتھ میں آئے، دیکھومسلمانو ! میرے اہل خانہ کا بھی خیال رکھنا ، اگر میری موت آئی تو ان شاء اللہ محاذ پر میری ثابت قدمی کے ساتھ آئے گی ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کے فیصلہ پر راضی ہوں ، اور اس سے ملاقات کا متمنی ہوں ، اور مجھے یقین ہے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور پائیدار ہے ، اے میرے اللہ ! مجھے شہادت نصیب فرما ، اور میرے تمام گناہوں کو معاف فرما ۔
اوراے مسلمانو ! غزہ کو نہ بھولنا ، اور مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا ، آپ کا انس شریف ‘‘۔
انس شریف کا جسد خاکی اس کی شہادت کے بعد نمناک آنکھوں اور بھیگی پلکوں کے ساتھ قبرکے حوالہ کردیا گیا، ظاہری طور پر وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ،لیکن قرآنی الفاظ میں وہ زندہ ہے ،اور معنوی طور پر وہ دلوں میں موجود ہے ، اور ان کی یاد کبھی بھی قلب و دماغ سے غائب نہیں ہو گی ، اس نے غیرت و خودداری کی عظیم مثال قائم کی ہے ، دلوں میں ہمت و حوصلہ کی روح پھونکی ہے ، اور دنیاکے لاکھوں کروڑوں صحافیوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ چھوڑا ہے ۔ اسے انس شریف ! اللہ تیری روح پر سکینت نازل فرمائے، اور آسمان تیری قبر پر شبنم افشانی کرے اور فردوس کے کھڑکیاں سدا تمہارے لئے کھلی رہیں ۔بین الأقوامی قوانین میں صحافیوں اور میڈیاسے وابستہ افراد کا قتل ایک ایک سنگین جرم ہے ، میڈیا کا تحفظ انسانیت کے تحفظ کے ہم معنی ہے ،اقوام متحدہ کا منشور ہو یا ملکوںکا مقامی دستور ، ہر ایک میں صحافیوںکو پوری جسمانی، فکری اور نظریاتی آزادی دی گئی ہے ، لیکن اسرائیل کی سنگ دلی اور اس کی حیوانیت اور بربریت ہے کہ اس نے قانون و ددستور کی تما م حدیں پار کر لی ہیں ،اور انسانی اقدار اور اخلاقیات کا اس کے یہاں کوئی اعتبار نہیں ، وہ صرف طاقت و قوت کی زبان جانتا ہے ، اور تباہی و بربادی کو پیش نظر رکھتا ہے ، اس لئے اللہ کا تقدیری فیصلہ کہ طوفان الأقصی نامی انقلاب آیا ، جس نے اسرائیل کو انسانیت کا درس دیا ، اور اس کی ناقابل تسخیر طاقت کا جنازہ نکال دیا ، اور حماس کے مجاھدین برابر اپنی قربانیوں اور سرفروشیوں کے ذریعہ اس کے بزدلی وکمزوری کو سامنے لارہے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور نیل سے فرات کا دعوی ترک کردے یا اپنی تباہی کے لئے دن گنتا رہے ۔ لعل اللہ یحدث بعد ذلک أمرا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے