اسلامیہ ڈگری کالج میں سیرت النبی ﷺ پر اہم تقریب
سہارنپور(احمد رضا): جو لوگ غرور ،نفرت، حسد اور جہالت میں اندھے ہو کر نام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں سچ میں وہی لوگ بد قسمت بد بخت اور مردہ دل ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے دلوں کو سیاہ کر دیا ہے جلد ہی ایسی لوگ بڑے عذاب سے رو برو ہونے والے ہیں! قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے پاک رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اسلئے ہم پر اللہ رب العزت اور پیارے نبی کریم کے ساتھ عقیدت و محبت لازم ہے واضع رہے کہ ازل سے تا قیامت تک دنیا کو اپنی آب و تاب سے منور کرنے والا نام صرف اور صرف” لا الہ الا اللہ ” ہی ہے یہ میرے عظمت والے پاک رب العزت کا ہی فضل و کرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا اور قرآن کریم عطا فرمایا اسی بنیاد پر آج کل کائنات میں عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ اربوں لوگوں کے دلوں کو منور کرنے والا خاص ذریعہ بن گیا ہے دنیا میں سب سے زیادہ پکارا جانے والا اعلیٰ ترین نام ” نام محمد” کلام اللہ شریف کی روشنی میں اگر آپ غور کریں تو نام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرا نے سے قلب و روح کو سکون میسّر آتا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ کل کائنات میں سب سے زیادہ پڑھا اور لکھے جانے والا کلام ” لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے سوائے دوسرا نہی مقامی اسلامیہ ڈگری کالج سہارنپور میں سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے ایک پر وقار ، شاندار اور بابرکت روحانی تقریب کا انعقاد کیا گیا یہ روحانی تقریب نہ صرف تعلیمی اور دینی اعتبار سے اہم رہی بلکہ اس نے شہر کے علمی و فکری حلقوں میں بھی ایک گہرا تاثر چھوڑا ہے کالج کے اسٹیج ہال میں سیکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور معززینِ شہر کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک یادگار اجتماع بنا دیا اس بابرکت پروگرام کی صدارت شوکت صاحب نے انجام دی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کے بغیر ہماری کامیابی ناممکن ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور دینی اقدار کو اپنی زندگی میں اپنائیں انہوں نے کہا کے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی بہت ضروری ہے پروگرام کی نظامت اردو کے قابل احترام پروفیسر شعیب اسلام فردوسی نے ادا کی انہوں نے اپنے خوبصورت اور پُراثر اندازِ گفتگو سے محفل کو نہ صرف کامیاب بنایا بلکہ حاضرین کی دلچسپی کو بھی برقرار رکھا شرکاء نے ان کے اندازِ نظامت کو بے حد سراہا
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ قاری محمد اخلد نے نہایت خوبصورت انداز میں سورہ الاحزاب کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کی آواز کی گونج سے ہال میں سکوت طاری ہوگیا۔
اس کے بعد ترنم نے عقیدت و محبت سے لبریز نعتیہ کلام پیش کیا ۔۔۔نعت جب فضا میں گونجی تو سامعین کی آنکھیں نم ہو گئیں اور ہال درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھا پروگرام میں مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب جلال عمر (سابق پرنسپل، اسلامیہ انٹر کالج ) شریک ہوئے جلال عمر نے اپنے پر اثر خاص خطاب میں کہا کہ اس پروگرام کا مقصد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دنیا کو بتایا تھا اس سبق کو آگے تک پہنچانا ہے انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے (ابن ماجہ) کی ایک حدیث پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے… تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے علم اور دانائی مومن کی گمشدہ میراث ہے اور یہی پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے علم کی روشنی وہ ہدایت ہے جو دورِ جدید کی تاریکیوں کو اجالا بنا سکتی ہے… راہ نجات اور دنیا میں سر بلندی کی کنجی "علم اور صرف علم ” ہی ہے!
ڈاکٹر جمیل مانوی نے اس موقع پر کہا قرآن ہمیں حکمت اور محبت سکھاتا ہے جتنا ہم رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اتنا ہی ہم انہیں جاننے اور انکی سیرت کو سمجھنے کی کوشش کریں….
نصرت پروین نے کہا محمد صاحب کا کردار اور اخلاص ہمیں اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کرنا اور انکی پیروی کرنا ہی اصل کامیابی ہے.” طالبہ علماء نے کہا: "یہ پروگرام میرے لیے زندگی کا نیا سبق ہے۔ میں نے جانا کہ سیرت صرف کتاب نہیں بلکہ عملی زندگی ہے۔”
آخر میں بچوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات بھی تقسیم کۓ گۓ جسے میں نعت کے مقابلے میں اول مقام ترنم بی اے پہلے سیمسٹر کی طالبہ نے حاصل کیا اور تقریر کے مقابلے میں اول مقام کاشف ملک بی اے پہلا سیمسٹر کے طالب علم نے حاصل کیا دوسرا مقام علماء عاقل اور محمد نے، تیسرا مقام تبریز عالم اور سمیرہ خان نے حاصل کیا بچوں کو ٹرافیاں، میڑل، سرٹیفکیٹ تقسیم کۓ گۓ….. پروگرام میں سبھی اسٹاف نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کالج کے پرنسپل ڈاکٹر آر کے شرما کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر آرتی صاحبہ، جناب ضمیر اقبال صاحب، ڈاکٹر ندیم، ڈاکٹر روچی صاحبہ، ڈاکٹر سومن، ڈاکٹر گل افشہ، ڈاکٹر أخلد، أسعد نواب صاحب،ڈاکٹر آنند شرما، سیما، بشرا، امرالدین صاحب،اظہر، آدیش تیاگی سبھی نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا….
مجموعی جائزہ ۔۔۔۔۔۔یہ پروگرام ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ اس نے طلبہ کے دلوں کو منور کیا، سامعین کو جھنجھوڑا اور معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ سیرتِ رسول ﷺ ہی انسانیت کی بقا کا ضامن ہے!
