صلاح الدین لیث المدنی

مرکز الصفا الاسلامی نیپال 

 

مملکت سعودی عربیہ دنیا کے نقشے پر وہ تابندہ چراغ ہے جس نے تعلیم اور رفاہ عامہ کے میدان میں ایسی خدمات انجام دی ہیں جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ اس سرزمین پر جہاں ایک طرف وحی الہی کا نزول ہوا وہیں دوسری جانب آج بھی علم و دانش کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ سعودی عربیہ نے اپنی جڑوں کو دین اسلام کی روح سے جوڑ کر اور اپنی شاخوں کو جدید دنیا کی طرف پھیلا کر ایک ایسا حسین امتزاج پیدا کیا ہے جس پر اہل دانش رشک کرتے ہیں۔ اس کے تعلیمی ادارے صرف درس و تدریس کے مراکز نہیں بلکہ انسان سازی کے کارخانے ہیں جہاں نئی نسل کو قرآنی بصیرت، نبوی حکمت اور عصری علوم کی روشنی یکساں مہارت کے ساتھ عطا کی جاتی ہے۔ جامعات اور معاہدات علمی کا وہ جال جو سعودی عربیہ نے بچھایا ہے اس کی روشنی نہ صرف اپنی سرزمین کو منور کرتی ہے بلکہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچتی ہے۔ بین الاقوامی طلبہ کے لیے کھلے دروازے، وظائف کی فراہمی، علمی سہولتیں، کتب خانوں کی تعمیر اور تحقیق کے لیے جدید وسائل کی دستیابی اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ مملکت تعلیم کو ایک صدقہ جاریہ سمجھتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ علم کی شمع اگر کسی کے ہاتھ میں دے دی جائے تو اس کی روشنی نسلوں کو منور کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں طلبہ ہر سال یہاں آ کر علم کا سرمایہ لے کر اپنے وطن لوٹتے ہیں اور وہاں روشنی پھیلاتے ہیں۔

رفاہ عامہ کے باب میں بھی سعودی عربیہ کے کارنامے اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ مملکت نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے سہولتوں کا اہتمام کرتی ہے بلکہ عالم اسلام اور بنی نوع انسان کے لیے بھی اپنا دامن کھول دیتی ہے۔ بیماروں کے علاج کے لیے شفاخانے، یتیموں اور مساکین کے لیے فلاحی ادارے، قدرتی آفات کے موقع پر فوری امداد اور بے سہارا قوموں کے لیے بے انتہا تعاون، یہ سب وہ روشن ابواب ہیں جو اس ملک کے خلوص اور قربانی کو امر کر دیتے ہیں۔ اگر کہیں قحط برپا ہو اگر کہیں زلزلہ یا سیلاب کا طوفان آئے تو سعودی عربیہ کے امدادی قافلے سب سے پہلے وہاں پہنچتے ہیں۔ یہ سب اس بات کا اعلان ہے کہ یہ ملک محض اپنے لیے نہیں جیتا بلکہ انسانیت کے لیے سانس لیتا ہے۔

حیرت اس بات پر ہے کہ مادی ترقی کی دوڑ میں بھی سعودی عربیہ نے اپنے دینی تشخص کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ دنیاوی علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم کا اہتمام ایسے حسن توازن کے ساتھ کیا ہے کہ جدید ذہن اور قدیم ورثہ دونوں یکجا ہو گئے ہیں۔ یہ وہ وصف ہے جو بہت کم قوموں کو نصیب ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عربیہ اپنے تعلیمی و رفاہی کارناموں کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اصل عزت و سرفرازی خدمت خلق اور اشاعت علم میں ہے۔ اس کا معیار تعلیم اور اس کی رفاہی سرگرمیوں کے چراغ آنے والے زمانے کے لیے ایک درخشندہ مثال ہیں۔ یہ ملک آج بھی امت مسلمہ کا وہ دل ہے جس کی دھڑکن میں علم کی روشنی اور خدمت انسانیت کا جوش بیک وقت موجزن ہے۔

اللہ تعالی مملکت سعودی عربیہ کی حفاظت فرمائے اور تمام شرور و فتن سے محفوظ رکھے امین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے