سدھارتھ نگر: پورے ملک میں منائے جانے والے دسویں قومی یوم آیوروید کے موقع پر ضلعے کی نیشنل انٹیگریٹڈ میڈیکل ایسوسییشن (نیما) نے بھی ایک پروگرام منعقد کیا۔ جس میں ضلع کے کئی نامی گرامی آیوروید اور یونانی کے ڈاکٹر موجود رہے۔ اس موقع پر پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے نگر کے سینیئر ڈاکٹر کے پی پانڈے نے سب کو بدھائیاں دیتے ہوئے کہا کہ آیوروید تقریبا پانچ ہزار سال پرانی پیتھی ہے اور آج لوگوں کا رجحان اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں لوگوں کو سائیڈ ایفیکٹ نہ کے برابر ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آیوروید کے فائدے کے بارے میں بتائیں۔
نیشنل انٹیگریٹڈ میڈیکل ایسوسییشن نیما کے ضلع کے صدر ڈاکٹر جاوید کمال نے اس موقع پر آئے ہوئے سبھی ڈاکٹروں اور اسٹاف کو بدھائیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل آیوروید اور یونانی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ جہاں آیوروید میں دواؤں کا نام سنسکرت کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے وہیں یونانی میں اس کا نام عربی اور فارسی کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے سوائے اس کے کہ بس نام میں فرق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آیوروید اور یونانی صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر بھی مقبول ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اج تمام دواؤں کی کمپنیوں کا بزنس ہندوستان سے زیادہ غیر ممالک میں ہو رہا ہے۔
اس پروگرام کا اہتمام ضلع میں نئے آیورویدک ڈاکٹر سوربھ گپتا نے اپنے دواخانے شری کرشنا آیورویدک چکتسالے پر کیا۔ اس موقع پر نیما کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر رفیع الدین خاں، نائب صدر ڈاکٹر کملیش مشرا، ڈاکٹر آر این جیسوال، نرسنگ پال، ببیتا، پنکی، مہیما اور آس پاس کے کچھ معزز شہری موجود رہے۔
