حیدرآباد 24/ستمبر(مشرقی آواز جدید): جامعہ اسلامیہ دارالعلوم فرقانیہ میں ایک بابرکت اور یادگار پروگرام منعقد ہوا۔ اس موقع پر ششماہی امتحانات کی تکمیل پر طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی اور ساتھ ہی سیرتِ طیبہ ﷺ کے دروس سے قلوب کو منور کیا گیا۔اس روحانی و علمی محفل کی صدارت جامعہ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد محمود عالم صاحب قاسمی حفظہ اللہ ورعاہ نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ناظمِ تعلیمات جامعہ مولانا جعفر شمسی ندوی صاحب نے انجام دیے۔
مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے علمی و دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی محمد ساجد ناصری صاحب دامت برکاتہم (بانی و ناظم مدرسہ معہد الصفہ، حیدرآباد) اور حضرت مولانا مفتی محمد زاہد ناصری صاحب مدظلہ العالی (بانی و ناظم مدرسہ صفۃ الصحابہ، شاہین نگر، حیدرآباد) تشریف لائے، جن کی آمد سے محفل کی رونق دوچند ہوگئی۔اس موقع پر معزز مقررین، مولانا محمد لقمان ندوی صاحب اور مولانا محمد نفیس ندوی صاحب (اساتذہ مسجد عزیزیہ، مہدی پٹنم، حیدرآباد) نے نہایت مؤثر اور پُر مغز پیغام اور خطابات پیش کیے۔ انہوں نے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق، کردار اور عملِ صالح کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نہایت حکیمانہ نصیحتیں فرمائیں، جو یقیناً ان کی زندگیوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔حضرت مولانا مفتی محمد زاہد ناصری صاحب مدظلہ العالی نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ قرآن کریم کو صحتِ تلفظ اور تجوید کے ساتھ یاد کریں اور اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے حفاظ کی تعریف فرمائی ہے اور انہیں بہترین انسان قرار دیا ہے، اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ حقیقی معنوں میں بہترین اور مثالی انسان بننے کی کوشش کریں۔حضرت مولانا مفتی محمد ساجد ناصری صاحب دامت برکاتہم نے طلبہ کو اپنے مقصد اور ہدف پر مرتکز رہنے، اخلاق و کردار کو نبوی اسوہ کے مطابق بنانے کی نصیحت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مدارس اسلامیہ کی حفاظت اور جمعیۃ علماء کے تاریخی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ تلنگانہ و آندھرا میں جمعیۃ علماء کی بقا اور استحکام، ریاستی صدر حضرت حافظ پیر شبیر احمد صاحب دامت برکاتہم کی انتھک محنتوں اور عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ حافظ پیر شبیر صاحب نے اپنی زندگی جمعیۃ کی خدمت کے لیے وقف کر دی، ان کی ایثار و قربانی کی داستانیں جمعیۃ کی تاریخ کے سنہری ابواب ہیں۔
اجتماع کے دوران قلوب کو گرما دینے والا لمحہ اس وقت آیا جب مشہور نعت خواں، جناب قاری فیصل فرقانی صاحب (امام مسجد صحابیہ، کومپلی حیدرآباد) نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدتوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی دلنشین آواز اور محبتِ رسول ﷺ سے لبریز کلام نے محفل کو وجدانی کیفیت سے ہمکنار کر دیا۔
طلبہ کی علمی محنت کو سراہتے ہوئے نمایاں کامیاب ہونے والوں کو انعامات اور کیش پرائز سے نوازا گیا:اول انعام: 1000 روپےدوم انعام: 700 روپےسوم انعام: 500 روپے۔یہ پرنور اور بابرکت پروگرام جامعہ کے احاطے میں واقع تاریخی مسجد قطب شاہی میں نہایت کامیابی اور وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ جس میں حضرت مولانا مفتی محمد محمود عالم قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے پرمغز بیان میں جامعہ اسلامیہ دارالعلوم فرقانیہ کی درخشاں تاریخ کو سامعین کے سامنے پیش کیا اور اساتذہ کی شبانہ روز مساعی کو خراجِ تحسین پیش فرمایا۔
مزید برآں، انہوں نے حضرت حافظ پیر شبیر صاحب مدظلہ العالی کی صحتِ کاملہ و عاجلہ کے لیے تمام اساتذہ و طلبہ سے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی۔آخر میں جلسہ کا اختتام مولانا محمد نفیس ندوی صاحب کی دعا پر ہوا۔۔۔
