ظہیرآباد الگول تلنگانہ اقلیتی اقامتی کالج TMREIS کے طالب علم نے سرکاری میڈیکل کالج میں پہلی کونسلنگ میں داخلہ حاصل کیا
ظہیرآباد 25/ستمبر(مشرقی آواز جدید): پرنسپل کلیم صدیقی جمیل اور پرنسپل راملو کی اطلاع کے مطابق NEET امتحان میں رینک حاصل کرنے والےایک غریب دیہات سے تعلق رکھنے والے طالب علم محمد عبید زبردست مثال قائم کیا جس نے اپنی محنت، لگن اور والدین و اساتذہ کی رہنمائی سے معاشرتی اور معاشی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ محمد عبید، ایک آٹو ڈرائیور کے بیٹے نے تلنگانہ کے ظہیرآباد میں TMREIS Algole Boys-1 COE سے تعلیم حاصل کی اور NEET امتحان میں 465 نمبر (AIR: 98304) حاصل کرکے ناگرکرنول کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں MBBS کی نشست حاصل کر لی ۔اعبید کے والد محمد ابراہیم ایک معمولی آٹو ڈرائیور ہیں، مگر انہوں نے بیٹے کے خوابوں کی حوصلہ افزائی کی۔عبید نے 5ویں کلاس سے 12ویں تک TMREIS (تلنگانہ مائناریٹی ریزیڈنشل اسکول) میں بہترین اساتذہ کی نگرانی میں پڑھائی کی۔اساتذہ، فیکلٹی اور اسٹاف نے NEET تیاری کے دوران مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کی۔عبید نے اس بات کو ثابت کیا کہ کامیابی کے لیے مالی وسائل نہیں، بلکہ عزم، محنت اور حوصلہ اصل بنیاد ہیں۔اس کی کامیابی دوسرے پسماندہ طبقے کے طلبہ کے لیے ایک متاثر کن پیغام ہے کہ وہ بھی اپنی محنت سے بڑے خواب حاصل کرسکتے ہیں۔عبید کا خواب ایک ماہر امراض قلب (Cardiologist) بن کر "صحت دولت ہے” کے اصول پر معاشرے کی خدمت کرنا ہے۔ محمد ابراہیم (والد): اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے TMREIS اسٹاف اور سکریٹری بی شفیع اللہ کا شکریہ ادا کیا۔محمد عبید (طالب علم): اپنی کامیابی کو والدین، TMREIS کے اساتذہ، فیکلٹی اور پوری ٹیم کی محنت کا نتیجہ قرار دیا اور مستقبل میں بطور کارڈیالوجسٹ سماج کی خدمت کا عزم کیا۔پرنسپل نے کہا یہ کامیابی ایک واضح سبق دیتی ہے کہ تعلیمی مساوات کے مواقع، اساتذہ کی مثبت رہنمائی اور خاندانی حوصلہ افزائی کسی بھی پسماندہ پس منظر کے بچے کو آگے بڑھنے کا موقع دے سکتی ہے۔۔۔
