خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر شارب موراویں
بارہ بنکی، یوپی(تاریخ: ۲۵ ستمبر ۲۰۲۵ء): معروف ذاکر اہل بیت اور معلم اخلاق حضرت سید ابن عباس صاحب قبلہ نے شہر کے عسکری حال علاقے میں بھٹو میاں کی والدہ محترمہ کے سوئم کی مجلس میں شرکاء سے خطاب کیا۔ ان کا خطاب والدین کے ساتھ حسن سلوک کے قرآنی حکم پر مرکوز رہا، جس میں انہوں نے اس حکم کی گہرائی اور وسعت کو انتہائی واضح اور دلوں کو گرمانے والے انداز میں پیش کیا۔
حضرت سید ابن عباس صاحب قبلہ نے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا کہ پورا قرآن مجید والدین کے ساتھ احسان کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات کی وضاحت پر زور دیا کہ لفظ "احسان” کے مفہوم کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اردو زبان میں "احسان” کا مطلب عام طور پر "کسی کو اس کے حق سے زیادہ دے دینا” سمجھا جاتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں استعمال ہونے والے عربی لفظ "اِحْسَان” کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر ہم عربی کے ‘احسان’ کو اردو کے ‘احسان’ کے معنی میں لے لیں تو پھر اولاد کا والدین پر کوئی احسان ممکن ہی نہیں رہتا۔ کیونکہ معصومین علیہم السلام کی احادیث کی رو سے اگر کوئی شخص اپنی پوری زندگی اپنی ماں کی خدمت میں گزار دے، تب بھی وہ ان نو مہینوں کا بدلہ ادا نہیں کر سکتا جن میں ماں نے اسے اپنے پیٹ میں اٹھا کر رکھا۔ جب ماں باپ کی عظیم ترین مہربانیوں کا بدلہ ادا کرنا ممکن ہی نہیں، تو پھر ‘حق سے زیادہ دینے’ کا تصور ہی فضول ہو جاتا ہے۔”
حضرت سید ابن عباس صاحب قبلہ نے عربی زبان میں "احسان” کی اصل تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا صحیح مطلب ہے: "والدین کی ضرورتوں کو ان کے اظہار سے پہلے پورا کر دینا۔”
انہوں نے کہا، "قرآن مجید کے حکم ‘وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا’ کا یہی مفہوم ہے۔ یعنی والدین کو وہ سہولت، سکون اور ضروریات زندگی ان کے منہ سے مانگنے سے پہلے ہی فراہم کر دینا۔”
انہوں نے اس حکم کو عملی شکل دینے کے طریقے بتاتے ہوئے فرمایا: "ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ پہلے نہ کہیں کہ ‘ہمیں پانی چاہیے’، بلکہ ہم انہیں پانی پلا دیں۔”
· "وہ کہنے نہ پائیں کہ ‘ہمیں کھانا چاہیے’، بلکہ ہم انہیں کھانا کھلا دیں۔”
· "وہ کہنے نہ پائیں کہ ‘ہمیں لباس چاہیے’، بلکہ ہم انہیں لباس مہیا کر دیں۔”
· "وہ کہنے نہ پائیں کہ ‘ہمیں پیسے چاہییں’، بلکہ ہم عزت و احترام سے ان کی خدمت میں رقم پیش کر دیں۔”
انھوں نے والدین کے وصال کے بعد اولاد کے فرائض کے تعلق سے خطاب کے اہم ترین حصے میں انہوں نے والدین کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اولاد کے فرائض پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ جب والدین اس دنیا میں نہیں رہتے، تو وہ اپنی ضروریات کا اظہار نہیں کر سکتے۔
انہوں نے زور دے کر کہا، "اب اگر والدین دنیا سے گزر جائیں تو وہ مجبور و محتاج ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری نمازیں قضا ہیں، انہیں پڑھ دو، ہمارے روزے باقی ہیں، انہیں رکھ لو، ہمارا قرض واجب الادا ہے، اسے ادا کر دو، یا ہمارا حج باقی ہے، اس کی قضا کرو۔ اب وہ کہہ ہی نہیں سکتے۔”
حضرت سید ابن عباس صاحب قبلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ والدین کے وصال کے بعد سب سے بڑا احسان یہ بتایا کہ اولاد اپنے والدین کی طرف سے باقی واجبات اور فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔
انہوں نے تاکید کی، "لہٰذا میری گزارش ہے کہ سب کچھ چھوڑ دو، لیکن والدین کے واجبات کو کبھی فراموش نہ کرو۔ اس لیے کہ وہاں (آخرت میں) عذاب ہوتا رہے گا اور ہم یہاں غفلت کی نیند سوئے رہیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ دنیاوی امور میں تو ہم مہمانوں کے آنے نہ آنے، یا دیگر ظاہری رسومات کا خیال رکھتے ہیں، لیکن والدین کی مغفرت اور ان کے قضا شدہ فرائض کی ادائیگی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس دعا پر کیا کہ اللہ تعالیٰ تمام اولاد کو والدین کے حقوق پہچاننے اور انہیں زندگی میں اور وفات کے بعد بھی پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مجلس کے شرکاء نے خطاب کو نہایت ہی مفید اور چشم کشا قرار دیا اور کہا کہ حضرت سید ابن عباس صاحب قبلہ نے والدین کے حقوق کے حوالے سے ان کے دلوں میں موجود بہت سی غلط فہمیوں کو دور کر دیا ہے اور انہیں عملی اقدامات کی راہ دکھائی ہے۔
