مولانا عبدالواحد انور یوسفی کی وفات: ایک عہد کا خاتمہ

سدھارتھ نگر: ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی کے ناظم اعلیٰ اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال کے موقر استاد جناب مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے مولانا موصوف کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار اور ان کی علمی و دعوتی اور جماعتی خدمات کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہا کہ علمی و دعوتی اور جماعتی حلقوں میں یہ اندوہناک خبر بڑے رنج وغم اور درد و کرب کے ساتھ سنی گئی کہ جماعت کے جید عالم دین، مخلص مربی، پرجوش داعی، معروف قلم کار، متعدد علمی و إصلاحی کتابوں کے مصنف و مؤلف، قادر الکلام شاعر، ضلعی جمعیت اہل حدیث، رتنا گیری کے صدر اور مرکز الدعوة الإسلامية، سونس کھیڈ کے مدیر مولانا ابومجاہدعبدالواحد انور یوسفی طویل علالت کے بعد بتاریخ 29/9/25بروزپیر،بہ وقت صبح ممبئی کے صابوصدیق اسپتال میں بقضائے الہی اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔

 انا لله وانا اليه راجعون، تغمده الله بواسع رحمته ورضوانه۔

تدفین”جرمری” قبرستان میں ہزاروں سوگواروں نے پرنم آنکھوں سے آپ کو سپرد خاک کیا۔

ہر محفلِ علم میں ان کی یاد رہتی ہے

ہر دل میں ان کے کردار کی روشنی جلتی ہے

آپ کی وفات کی خبر نے دلوں کو غگمین و غمزدہ اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا۔ آپ ایک ایسے چراغ تھے جو علم و عرفان کی روشنی بانٹ رہے تھے۔ آپ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ حکمت و دانائی سے لبریز اور عمل کی روشنی سے منور ہوتے، آج وہ چراغ بجھ گیا، لیکن اس کی کرنیں ہمیشہ اہلِ علم اور طلبہ کے دلوں کو منور کرتی رہیں گی۔

شیخ کے قریبی شاگردوں، قرابت داروں،عقیدت مندوں کے بیانات اورعینی مشاہدات کے مطابق جب آپ خطہ کوکن، مہاراشٹر کے گاؤں سونس کھیڈ میں تشریف لے گئے تو وہاں شرک و بدعات اورغیرشرعی رسومات کا غلبہ تھا، حاملین کتاب وسنت کی تعداد بہت کم تھی، ایسے ماحول میں دعوت وإرشاد کاآغازکرنا جوئے شیرلانے کے مترادف تھا،مگر اللہ کے فضل وتوفیق، مقامی احباب کی تائید، مخلصانہ دعاؤں کے نتیجے میں سلفیت کی بنیاد پڑی۔ مسلسل جدوجہد سے توحید کی شمع روشن ہوئی، چوں کہ آپ مخلص تھے اور آپ نے یہ خدمت صرف اللہ کی رضا کے لیے شروع کی تھی، اس لیے جلد ہی اس کے خوشگوار نتائج ظاہر ہوئے۔ متعددمخالفین توبہ کرکے قافلۂ حق کے ہم سفر بن گئے۔ یوں جو خطہ بدعات میں ڈوبا ہوا تھا،وہاں اب توحید کا ترانہ گونجنے لگا۔ گویا آپ نے اپنی پوری زندگی شرک و بدعت کی بیخ کنی، اصلاح معاشرہ اور سلفی دعوت کے فروغ کے لیے وقف کردی۔ جزاہ الله خیرًا

مولانا موصوف اخلاص و للہیت، تدریسی خدمات اور اصلاحی جدوجہد کے باعث عوام و خواص میں یکساں محبوب تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک درس و تدریس کے ذریعے قرآن و سنت کی روشنی کو عام کیا اور نئی نسل کو دینی شعور سے آراستہ کرنے میں گراں قدر کردار ادا کیا۔

آپ نے متعدد علمی و اصلاحی کتابیں تصنیف کیں اور قلم و شعر کے ذریعے بھی دعوت و اصلاح کے پیغام کو عام کیا۔ آپ کی تعلیمات اور نصیحتیں آج بھی طلبہ و عوام کے لیے مشعل راہ ہیں.۔

آپ کی پوری زندگی سادگی، درویشی اور خدمتِ دین کی عملی تصویر تھی۔ آپ نے نہ نام و نمود کی پرواکی اور نہ ہی شہرت کے خواہاں رہے، بلکہ خاموش مگربامقصدخدمات اور باعمل نصیحتوں کے ذریعے دلوں پرحکمرانی کرتے رہے۔

 آپ کا اندازِ تربیت محبت، شفقت اور حکمت سے مزین تھا، جس سے بے شمار طلبہ اور عوام نے فیض اٹھایا۔ ان کی گفتگو میں اخلاص جھلکتا تھا اور عمل میں تقویٰ نمایاں تھا۔

آپ صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ ایک کارواں کے رہنما تھے۔ علم و عمل کا کارواں آپ کی سرپرستی میں پروان چڑھتا رہا۔ آپ کے جانے سے قافلۂ علم و دعوت یتیم ہوگیا ہے، لیکن آپ کی نصائح، تعلیمات، نصیحتیں اور علمی وراثت آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گی۔

مولانا کی رحلت سے گویا علم و دعوت کا ایک گلشن اجڑ گیا۔ وہ مجالس جو آپ کی گفتگو سے آباد رہتی تھیں، وہ محافل جو آپ کی نصیحتوں سے سنورتیں تھیں، اب خاموش ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو بیج آپ نے بوئے تھے، وہ ہمیشہ شجرِ ثمردار کی صورت میں امت کو فیض پہنچاتے رہیں گے۔

یقیناً آپ کی وفات صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے۔

مقامی اور ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر ،یوپی کے تمام ذمہ داران مولانا کی وفات حسرت آیات کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کےلیے دعا گوہیں۔

بارالہا! مولانا موصوف کی علمی ودعوتی, صحافتی وتالیفی،رفاہی وسماجی خدمات، طاعات عبادات اور تمام نیکیوں کواپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطافرما، ان کی بشری لغزشوں کو در گذر کرتے ہوئےجنت الفردوس کامکین بنا، تمام لواحقین و پسماندگان، شاگردان اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق ارزانی فرما- خاص طورپر ان کے لائق فرزندمولانا مجاہد الاسلام مدنی کو ان کا بہترین جانشین بنا اور ہمیں ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے