سانحہ وفات پر جگہ جگہ تعزیتی نشستوں میں ان کے حق میں دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا، ان کی رحلت سے علمی اور ادبی دنیا سوگوار

نان پارہ، بہرائچ (محمد رضوان گوہرندوی )عالمی شہرت یافتہ ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے محبوب، مخلص اور مایہ ناز باصلاحیت استاذ مولانا ڈاکٹر نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے جس وفاداری، ثابت قدمی اور خلوص کے ساتھ تدریس کے معیار و وقار میں اضافہ کیا وہ عدیم النظیر ہے، وہ باکمال معلم، مخلص مربی، باصلاحیت ادیب، فن کار صحافی، بے لوث مقرر، بے خوف مبلغ، غیرت مند داعی اور درد مند خادم دین تھے، وقت کی پابندی اور محبت و شفقت کا برتاؤ ان کی طبیعت کا خاصہ تھا، وہ بے ضرر انسان تھے، زبان پر ایسا کنٹرول تھا جیسے ضرورت سے ایک لفظ کم زیادہ کہنا گناہ سمجھتے ہوں، ان کی شخصیت زبان کی حفاظت میں ایسی ممتاز تھی جس کی مثال ملنی مشکل ہے، حالاں کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا، علم کے اندر بڑی گہرائی تھی، زبان پر بلکہ زبانوں پر بھرپور قدرت حاصل تھی، برجستہ کسی بھی موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی صلاحیت تھی، کئی زبانوں پر دسترس کی وجہ سے فن ترجمہ نگاری کو انھوں نے اصل سے بہت قریب کر دیا تھا، مشہور پندرہ روزہ عربی مجلہ الرائد میں چھپنے والے ان کے مضامین ان کی مضبوطی و مہارت کے شاہد و گواہ ہیں، مہربان والد کی طرح تربیت ان سے طلبہ کو ایسا قریب کر دیتی تھی کہ پھر طلبہ کہیں بھی رہتے مثالی تربیت کے نقوش ان کی شخصیت پر واضح طور پر دکھائی دینے لگتے، ان کا وصال دارالعلوم ندوۃ العلماء کے لئے بہت بڑا علمی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ ان کا نعم البدل عطا فرمائے.
ڈاکٹر نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ ارتحال پر جمعیۃ العلماء تحصیل نان پارہ کے جنرل سیکریٹری مولانا وقار احمد قاسمی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی اپنے آپ کو سامنے نہیں لانا چاہتے تھے، نام و نمود اور شہرت طلبی سے دور رہ کر انھوں نے جو علمی خدمات انجام دی ہیں وہ صدیوں تک یاد کی جاتی رہیں گی، بہت محنتی، مخلص اور غیرت مند استاذ تھے، کسی عہدے کی چاہت کبھی دبے الفاظ میں بھی ظاہر نہیں ہوئی، ہمیشہ اپنے کام سے کام اور ہر وقت کام اور پیغام سے بھرا ہوا، لایعنی باتوں سے بہت پرہیز کرتے تھے،کے این پبلک اسکول نان پارہ کے ڈائریکٹر محمد رضوان ندوی نے کہا کہ توازن و اعتدال مولانا مرحوم کی زندگی کے تمام گوشے میں اس طرح رچے بسے تھے جن کو کسی بھی وقت ان کی شخصیت سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا تھا ، وہ مطالعہ کے سچے شیدائی تھے، جب بھی فارغ ہوتے کتاب ہی ان کی جلیس ہوتی، ادب کے ساتھ کتابوں کو اپنے ساتھ لے جانا اپنی شان سمجھتے تھے، نظریں نیچی کرکے چلتے تھے، آس پاس کون گزر رہا ہے ان کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، وہ اپنی علمی دنیا میں ہمیشہ ڈوبے رہتے تھے، جیسے چلتے پھرتے بھی کسی خاص موضوع پر اپنے ذہن و دماغ کو اس کی گہرائی تک پہنچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوں.
انجمن اسلامیہ بحر العلوم کے ناظم مولانا افضل ندوی نے کہا کہ مولانا مرحوم نے تدریس کو محض اپنی ڈیوٹی نہیں بنایا، انھوں نے پیغام رسانی کا مضبوط وسیلہ بناکر طلبہ کی دینی تربیت کی، جامعہ کاشف العلوم کے استاذ مولانا شفیق الرحمن ندوی نے اس سانحہ کو اپنے لئے اور پوری علمی دنیا کے لئے عظیم خسارہ قرار دیا، انھوں نے ان کی سادگی، اعلی اخلاق اور مشفقانہ رویہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ کسی طالب کو ان کے سلسلے میں کبھی کوئی شکایت نہیں سکی، افراط و تفریط ،مبالغہ آرائی اور چاپلوسی سے میلوں دور بھاگتے تھے. اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے. مدرسہ فیض العلوم کے صدر مدرس مولانا اسعد ثاقبی نے کہا کہ وہ اس نمایشی دور میں بھی اسلاف کی یادگار تھے، نرمی اور تواضع سے انھوں نے اپنے اعمال کو آخرت کے لئے ذخیرہ کرلیا، ان کے ہزاروں فیض یافتہ آج پوری دنیا میں علم و عمل کے میدان میں اجالا اور معرفت تقسیم کر رہے ہیں، یہ ان کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے