بہار میں مجلس کی موجودگی سے کس کو فائدہ ہوگا؟

عبدالغفارصدیقی

جمہوری نظام میں الیکشن کو وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی کو ہوتی ہے۔الیکشن کہیں بھی ہو،کسی سطح پر ہو،اس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔اس کے ذریعہ ہم اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں،یہ نمائندے ملک کی ترقی اور تنزلی دونوں حالتوں میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔بھارت میں آزادی سے پہلے ہی انتخابات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔آزادی کے بعد مسلسل اور تقریباًاپنے وقت پر الیکشن ہوتے رہے ہیں۔ہر الیکشن کی اپنی اہمیت ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔گاؤں کے پردھان سے لے کر صدر جمہوریہ تک کے انتخابات ملک میں مثبت اور منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔اگر اچھے لوگ منتخب ہوتے ہیں تو سماج میں نیکیاں پروان چڑھتی ہیں۔اگربرے لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار آتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو ہورہا ہے۔انتخابات کی ڈکشنری میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اخلاقیات اوردیانت داری وغیرہ جیسے الفاظ اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔کہنے کو تو ہر الیکشن کا ایک ضابطہ اخلاق ہوتاہے۔لیکن اس کو مانتا کون ہے اور اس پر عمل کون کرتا ہے؟نہ تو کسی اچھے انسان کو سیاست برداشت کرتی ہے اور نہ ہی اچھے لوگ یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وہ سیاست کو اخلاق اور نیکی کا درس دیں۔

موجودہ دور کے الیکشن میں پیسہ،ذات و برادری،غنڈہ گردی اوراثرو رسوخ کو بنیادی ارکان کی حیثیت حاصل ہے۔کتنے ہی مخلص پارٹی کارکنان کو اس لیے امیدوار نہیں بنایاجاتا کہ ان کے پاس مطلوبہ پیسہ نہیں ہے۔حالیہ بہار الیکشن میں ایم آئی ایم نے مولانا سالم چترویدی صاحب کو صرف اسی بنا پر ٹکٹ نہیں دیا کہ پارٹی کے اندازہ کے مطابق ان کے پاس الیکشن جیتنے کے لیے مطلوبہ مقدار میں پیسہ نہیں ہے (یہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے)جب کہ وہ پچھلے آٹھ سال سے محنت کررہے ہیں۔یہ صرف ایک مثال بھرہے۔اس سے کسی پارٹی کی کردار کشی مقصود نہیں ہے،پھر کردار کشی کا سوال تو وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کردار نام کی کوئی شئی موجود ہو،جب کردار ہی نہیں تو ’کُشی‘ کا سوال ہی نہیں۔کوئی بھی پارٹی اس اصول سے مبرا نہیں کہ امیدوار وہی شخص ہوسکتا ہے جس کے پاس وافر مقدار میں پیسہ ہو۔ایک معمولی انسان خواہ کتنا ہی مخلص ہو،کتنا ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو،اس کے پاس ملک و سماج کے لیے کتنا ہی اچھا ویژن ہو،کردار کا بھی کتنا ہی بلند ہو،اگراس کے پاس پیسہ نہیں ہے تو امیدوار نہیں بنایا جاسکتا۔مگر اویسی جی کی پارٹی میں بھی ایسا ہی ہوگا یا ہورہا ہے تو اس پر تعجب ہے۔جو قائد نعلین شریف کی ٹوپی پہنتا ہے،جو ایک بڑے شیخ و مرشد کا مرید ہے،جس کی نماز نہیں چھوٹتی،جس کی زبان پر کلام الٰہی کی تلاوت گردش کرتی ہے،جو اپنی تقریروں میں بار بار اللہ و رسول کا نام لیتا ہے،جو امت مسلمہ کے لیے رات دن آنسو گراتا ہے،اس کی پارٹی میں بھی صرف پیسہ والوں اور باہو بلیوں کو ٹکٹ ملے گا تو ”اپنی قیادت“ پر کون اعتماد کرے گا؟وہ بھی اگر پیسہ لے کر ٹکٹ فروخت کرتا ہے تو امت کی ہمدردی کی دہائی کیوں دیتا ہے؟مجھے تعجب ہوتا ہے ان سیدھے سادے لوگوں پر جو اویسی صاحب کو ملک میں مسلمانوں کا بہی خواہ گردانتے ہیں۔پارلیمنٹ میں جذباتی تقریر کرنے سے کس کو فائدہ ہوتا ہے،مودی جی اور امت شاہ جی کو للکارنے سے کون سے مسائل حل ہوئے ہیں َ؟کسی بل کی کاپی پھاڑدینے سے کون سی قانون سازی رکی ہے؟مگر وہ اس کے سوا کربھی کیا کرسکتے ہیں؟ان کے پاس ملک کے مسلمانوں کے لیے کوئی ویژن نہیں ہے۔ وہ صرف سیاست اور قیادت کے ذریعہ ہی مسلمانوں کا فائدہ کرنا چاہتے ہیں۔کوئی منظم تعلیمی نظام ان کے پاس نہیں ہے۔کوئی طبی منصوبہ نہیں ہے۔سرکاری اسکیموں کے علاوہ فلاح و بہبود کی کوئی اسکیم ان کے پاس نہیں۔ہزاروں کروڑ کا ٹرن اور (Turnover)رکھنے کے باوجود اس میدان میں انھوں نے کوئی نمایاں کام نہیں کیا۔البتہ حیدرآباد میں انھوں نے ضرور اپنے تعلیمی ادارے کھولے ہیں،اسپتال بنائے ہیں،کالج قائم کیے ہیں،جس کا فائدہ وہاں کی عوام کی پہنچ رہا ہے۔اس لیے ان کو بس حیدرآباد میں ہی الیکشن لڑنا چاہئے،جب ملک کے باقی حصوں اور ریاستوں میں انھوں نے فلاح و بہبود کا کوئی کام نہیں کیا اور نہ وہاں کے رہنے والے ہیں تو پھر کیوں دیگرریاستوں میں الیکشن لڑ ناچاہتے ہیں؟

آپ کہیں گے کہ یہ ان کا بنیادی حق ہے،ہم بھی کہتے ہیں ضرور ہے،لیکن ملت کو بے وقوف نہ بنائیے۔گزشتہ یوپی الیکشن میں مجلس نے ایک سوا میدوار کھڑے کیے،ہر امیدوار سے میری معلومات کے مطابق قابل ذکر رقم لی گئی۔یعنی کروڑ وں روپے پارٹی نے کمالیے،مگر عام مسلمانوں کو کیا ملا؟یہ تو وہ رقم تھی جو پارٹی نے لے لی اس کے علاوہ بھی امیدواروں نے اپنا پیسہ خرچ کیا۔اگر یہی پیسہ ملت کی تعلیمی،طبی،رفاہی ضروریات پر خرچ کیا جاتا تو شاید کچھ بھلا ہوجاتا۔یہ کہہ کر دامن نہ جھاڑلیجیے گا کہ سب پارٹیاں لیتی ہیں،سب میں اور مجلس میں زمین آسمان کا فرق ہے،ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون (کیا جولگ جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے برابر ہوسکتے ہیں۔الزمر۔9)

مجلس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگتا رہا ہے۔صدر مجلس نے کعبہ میں کھڑے ہوکر اللہ کی قسم کھاکر یہ بات کہی ہے کہ وہ اس معاملہ میں پاک اور صاف ہیں اور یہ الزام سراسر غلط ہے،دو سال قبل اس طرح کی ایک ویڈیو حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب کی میری نظر سے گزری تھی۔جس میں موصوف نے صدر مجلس کے تعلق سے صفائی دی تھی،ہوسکتاہے کہ مجلس کو بی جے پی سے کوئی فنڈنگ نہ ہوتی ہو۔ لیکن اس سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مجلس کی موجودگی سے بی جے پی کو اپنے ووٹ پولرائز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔قائد کا لب و لہجہ تو ان کا کام آسان کردیتا ہے۔ان کی مسلم قوم پرست کی تصویر سے غیرخوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔صدر مجلس جذباتی نعرے لگوادیتے ہیں، ان نعروں سے آر ایس ایس اپنے ووٹروں کو ڈراکر اکٹھا کرلیتی ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ مجلس کا امیدوار اتنے ووٹ نہیں لاتا کہ اس سے ہار جیت پر کوئی فرق پڑتا ہو۔لیکن یہ چند ہزار افراد جو مجلس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہیں وہ دیگر قوم کے لاکھوں لوگوں کو متحد کردیتے ہیں۔مثال کے طور پر کسی ودھان سبھا میں مجلس کے امیدوار کو پانچ ہزار ووٹ ملے،وہاں انڈیا گٹھ بندھن کا امیدوار این ڈی اے سے چالیس ہزار ووٹ سے ہار گیا۔مجلس کے بقول اگر ان کا امیدوار نہ ہوتا تو یہ پانچ ہزار بھی انڈیا کے امیدوار کو مل جاتے،لیکن ان کے ملنے سے بھی وہ نہیں جیت سکتا تھا،بس ہار کا فرق چالیس کے بجائے پینتیس کا رہ جاتا۔مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی سادہ بنا کر صدر محترم عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مجلس کے ان پانچ ہزار ووٹروں نے پورے اسمبلی حلقہ کو پولرائز کرنے میں دوسروں کا تعاون کیا ہے۔اس کی موجودگی نے سیکولر ووٹوں کو تقسیم کیا ہے اوراس کاامیدوار فتحیاب بھی نہ ہوسکا۔دوسری طرف ٹکٹ فروخت کرنے سے پارٹی کی دولت میں خوب اضافہ ہوا،مجلس کے ووٹ فیصد میں اضافہ کی وجہ سے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن رجیکٹ ہونے سے بچ گیا۔قائد کی ٹی آرپی بڑھ گئی اور آئندہ کے لیے ٹکٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔

 آج کل سیاست ایک ایسی منافع بخش تجارت ہے جس پر کبھی زوال نہیں آتا۔عوام کی جیب کٹتی ہے،لیڈرس مال دار ہوتے جاتے ہیں۔اگر مجلس کے پیش نظر مسلمانوں کا مفاد ہوتا تو مجلس انتخاب میں اترنے سے پہلے وہاں تعلیمی،طبی،سماجی اور فلاحی کام انجام دیتی، پارٹی کارکنان کی اخلاقی اور سیاسی تربیت کرتی، تنظیم میں شورائیت قائم کرتی،سنگھ کی طرح منظم اور منصوبہ بند انتخابی پالیسی اور پروگرام بناتی،اس کے کچھ اخلاقی اصول ہوتے،جن کی خلاف ورزی کسی حال میں نہ کی جاتی،دسیوں سے سال سے دری بچھانے والے،نعرے لگانے والے،ہورڈنگس اور پوسٹرس پر لاکھوں روپیہ خرچ کرنے والے کارکنان کو نظر انداز نہ کیا جاتا۔عوام مجلس کی شفافیت اورامانت داری کا لوہا مانتی۔امیدوار بھلے ہی ہار جاتے،لیکن مجلس پر کسی قسم کی بددیانتی اور بے وفائی کا الزام نہ لگتا۔مجلس  کے ذمہ دارکہہ سکتے ہیں کہ اس نے کسی سے ٹکٹ کا وعدہ کیا ہی نہیں تھا جیسا کہ کہہ رہے ہیں۔لیکن اس بات سے کس طرح انکار کریں گے کہ جو شخص دس سال سے آپ کے ساتھ وفاداری کررہا ہے،پارٹی کے لیے محنت کررہا ہے وہ تو اسی امید پر کررہا ہے کہ آپ اسے امیدوار بنائیں گے،لوگ سیاسی جماعتوں میں اسی لیے تو داخل ہوتے ہیں کہ وہ ایم ایل اے،ایم پی بنیں،یا پارٹی کامنصب دار بن کر ٹکٹ دینے،دلانے میں دلالی کریں،یا اپنے کالے کارناموں کو سیاست کی سفید چادر سے چھپائیں،ورنہ مجھے بتائیے کہ لوگ سیاست میں کیوں آتے ہیں؟کیا واقعی سیاست میں آنے والے قوم،سماج،اور ملک کے ہم درد اور بہی خواہ ہوتے ہیں،کیا الیکشن میں کروڑوں روپیہ اسی لیے خرچ کرتے ہیں،یا یہ انویسٹ منٹ ہوتا ہے۔میں نے کئی سیاسی لیڈروں سے معلوم کیا کہ سیاست میں حلال کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟وہ اس سوال پر میرا منہ تکنے کے علاوہ کچھ نہ کہہ سکے۔جیسے کہ کہہ رہے ہوں،”مولانا صاحب اگر حلا ل رزق کی تلاش ہے تو سیاست کا نام بھی نہ لیجیے“۔

بہار کا الیکشن جس رخ پر چل رہا ہے،اور جس طرح سے تیسرے مورچے کے نام پر کچھ سیاسی جماعتیں میدان میں آئی ہیں،مجلس،جن سوراج اور عام آدمی پارٹی کے جو عزائم سامنے آئے ہیں۔اس سے تو یہی اندازہ لگتا ہے کہ بی جے پی کا مخالف ووٹ منتشر ہوجائے گا اور اس بار بھی این ڈی اے کی حکومت بنے گی۔اللہ اعلم بالصواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے