مفتی ہمایوں اقبال ندوی
دو شاگردوں نے مل کر اپنے استاد کے ہی اہل خانہ کا صفایا کر دیا ہے۔ یہ حادثہ باغپت کے گنگنولی گاؤں میں ابھی کچھ دنوں قبل پیش ایا ہے۔ دونوں نو عمر لڑکوں نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے، اور اس قتل کی تفصیلی کہانی پولیس سے یوں بیان کی ہے: ہمارے استاد مفتی ابراہیم صاحب پٹائی کرتے تھے، اسی سے ناراض ہوکر ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ پہلے مسجد کے کیمرے کو بند کیا، پھر اوپر حجرہ میں جاکر باجی کے سر پر بسولی سے وار کیا،خون بہنے لگا، بستر سے وہ نیچے گر پڑی، دوبارہ ہم نے حملہ کیا، اور پھر چھری سے ریت کر اسے ختم کر دیا۔ پاس میں سوئی ہوئی دونوں بچیاں بیدار ہوئیں تو بسولی مار کر انہیں بھی مار ڈالا ہے۔ یہ کس قدر خوفناک عمل ہے، کسی خطرناک مجرم نے نہیں بلکہ مسجد میں پڑھ رہے دو بچوں نے قتل کے وحشتناک عمل کو انجام دیا ہے۔ ان کی عمر پندرہ اور سولہ سال کے درمیان میں ہے۔ ملکی قانون کے مطابق تو یہ نابالغ ہیں، مگر شرعی طور پر یہ عمر بلوغیت کی ہے۔ انہوں نے ان معصوموں کا قتل کر کے اپنی دنیا و اخرت تباہ کرلی ہے۔ اس واقعہ سے ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لکھنے پڑھنے کی اس عمر میں یہ بچے مجرم بن گئے ہیں، اس میں غلطی کس کی ہے اور چوک کہاں ہوئی ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں مفتی ابراہیم کے اس بیان سے مل رہا ہے جو انہوں نے ایک صحافی سے ان دونوں لڑکوں کے متعلق پوچھنے پر دیا ہے کہ: "وہ بہت گرم مزاج تھے، ہم انہیں بدلنا چاہتے تھے، تھوڑی بہت سختی کری تو وہ سنکی ثابت ہوئے اور ہمارا گھر اجاڑ دیا۔جن بچوں کی تربیت شروع سے غلط ہوتی ہے بعد میں انہیں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے”۔
یہ بات سو فیصد مبنی برحق ہے کہ آج بہت سے والدین اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرتے ہیں، جب ان کی عمر پختہ ہو جاتی ہے تو اساتذہ یا امام صاحب کے حوالے کر دیتے ہیں اور ان سے یہ امید باندھے رکھتے ہیں کہ ان کی اصلاح ہو جائے گی اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، یہ ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ قران کریم میں سب سے پہلے استاد یا معلم کو نہیں بلکہ ایک باپ کو ہی تاکید کی گئی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کا فریضہ انجام دو ورنہ خود اپنے کو اور اپنے بچوں کو جہنم کی نذر کرنے کے لیے تیار رہو۔ ارشاد باری تعالی ہے: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔(سورۃ التحریم) گویا یہ انسان نہیں بلکہ پتھر ہے جسے نہ تراشا گیا۔ہے اور نہ خراشا گیا ہے۔ اب وہ صرف اور صرف ایندھن بننے لائق ہے۔ حدیث شریف میں بھی بچوں کی نگہبانی نگرانی کی ذمہ داری والدین کے سپرد کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا ہے: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔( بخاری)
بچوں کی تربیت کا پہلا ادارہ یہ مسجد یا مکتب نہیں ہے بلکہ گھر ہے۔ماں باپ بچوں کے لیے سب سے پہلے استاد ہیں خو اپنے بچوں کو بڑوں کی عزت اور استاد کا ادب سکھاتے ہیں، پہلے اپنے اندر بھی یہ خوبیاں پیدا کرتے ہیں۔بچے اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں ان کی گفتگو عبادت، رویہ، طریقہ،سلیقہ دیکھ کر اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔یہ افسوس کا مقام ہے کہ آج کی تاریخ میں والدین کےپاس ہر کام کے لیے وقت ہے مگر اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نہیں ہے۔ گھر میں رہتے ہوئے موبائل پر والدین مصروف رہتے ہیں اور اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں۔ نتیجتا ان کے عادات و اطوار میں بگاڑ وفساد پیدا ہوجاتا ہے، ایسے بچے ذہنی تناؤ کے شکار ہوجاتے ہیں۔ عمر کی پندرہویں وسولویں سال کی عمر میں یہ چیزیں پختہ ہو جاتی ہیں، پھر اس کی اصلاح بہت ہی مشکل ہوتی ہے،والدین اساتذہ کی شکایت کرتے ہیں کہ آپ سختی نہیں کرتے ہیں اور جب سختی کی جاتی ہے تو اس نتیجہ اس بھیانک شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔عموما عمر کی اس دہلیز کو بچہ جب پہونچتا اگر اس کی صحیح تربیت گھر سے نہیں ہوئی ہے تو استاد کی ہر بات کو اپنے خلاف سمجھنے لگتا ہے، اس کا انتقامی بن جاتا ہے،پھر وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ان جیسے منحوس واقعات کے سد باب کے لئے قران و حدیث کی روشنی میں جو ذمہ داریاں ہمیں دی گئی ہیں ان پر عمل پیرا ہونا اس وقت کی شدید ترین ضرورت ہے۔
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتی ہمایوں اقبال ندوی
نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ
ا۶/اکتوبر ۲۰۲۵ء بروز جمعرات
