محمد ہاشم القاسمی

(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)

عربی میں مہمان کے لیے ضیف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں ضیف کے معنی رغبت کے ہیں۔ مہمان کو بھی مہمان اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ میزبان کی طرف رغبت بڑھاتا ہے اور اس کے گھر آتا ہے۔ مہمان نوازی انسانی اقدار میں سے ایک بہترین قدر اور اعلی صفت ہے، کسی شخص کا مہمان نواز ہونا دراصل ان کے مہذب اور دیندار ہونے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ قدیم تہذیب میں مہمان نوازی کا عام رواج پایا جاتا ہے۔ مہمان نوازی کے ذیل میں مہمان کا استقبال، کھانا کھلانا، پناہ دینا اور رہنے کا انتظام کرنا شامل ہے، قدیم یونان میں میزبان مہمان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔ اور مہمان نوازی کو خدائی کام مانا جاتا تھا۔ اور ایک اہم سماجی خدمت بھی سمجھی جاتی تھی۔ ہندوستان اور نیپال میں مہمان کو "اتیتھی دیوو بھوا” کہا جاتا تھا یعنی مہمان خدا کا روپ ہے۔ کئی قدیم کہانیوں میں دکھایا گیا ہے کہ خدا یا کوئی بزرگ ہستی مہمان کی شکل میں آتی ہے اور اچھے میزبان کو انعام دیتی ہے۔ قدیم ہندوستانی ادب کے "تیروکال” میں اخلاقیات اور اخلاق کے موضوع میں ایک مکمل باب (باب 9) مہمان نوازی پر ہے یہودی کے یہاں بھی مہمان نوازی کی بڑی اہمیت ہے ان کی مذہبی کتاب زبور کے کتاب پیدائش میں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کا تذکرہ موجود ہے جب فرشتے مہمان بن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آتے ہیں۔ عبرانی زبان میں مہمان نوازی کو "ہکنشت عورحیم” یعنی مہمانوں کا استقبال کرنا کہتے ہیں۔ مہمان کے آرام اور تفریح کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جب مہمان جانے کا ارادہ کرتا ہے تو میزبان اسے گھر کے باہر تک چھوڑ کر آتا ہے اور پر امن سفر کی دعائیں دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا کہ وہ مہمان کی تین چیزوں کا خیال رکھیں: (1) اچیلا (کھانا)(2) شطیہ (پانی) (3) لینہ (رہائش) ان تینوں ضروریات کا ذکر (کتاب پیدائش، 21:33) میں بطور ”عشل“ ہوا ہے۔ مسیحیت میں مہمان نوازی ایک خوبی ہے جسے زائرین کے ساتھ ہمدردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عہد نامہ قدیم میں مہمان کے پیر دھونے اور بوسہ دینے کا تذکرہ ہے، عہد نامہ جدید میں یسوع مسیح کا قول ہے جس نے مہمان یا اجنبی کا استقبال کیا اس نے گویا میرا استقبال کیا۔ بائبل کی تعلیمات کی بنیاد پر کچھ مغربی ممالک نے پناہ گزینوں کی ضیافت کا رواج شروع کر دیا ہے. مہمان نوازی کے اسلامی آداب کا احیاء موجودہ دور میں قریبی تعلقات میں دوری اور تلخی کو کم کرنے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، چونکہ مہمان نوازی معاشرہ میں ناصرف ایک اچھی ثقافت کو زندہ کرسکتی ہے بلکہ ہمارے گھرانوں کے اندر خیر و برکت اور خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے، اگر مہمان نوازی کرتے ہوئے ہم اسلامی آداب کی رعایت کریں تو مہمان ہمارے لیے باعث رحمت و برکت ہوگا اور دنیا و آخرت کے لیے خوشحالی کا سبب بنے گا۔ مہمان در اصل پروردگار عالم کی جانب سے ہمارے لیے رزق میں اضافے کا سبب بن کر آتا ہے اور نہ صرف رزق میں برکت کا سبب بنتا ہے بلکہ بسا اوقات مہمان ہمارے مغفرت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے، لیکن ہم اسے سمجھ نہیں سکتے کیونکہ ہم نے مہمان نوازی کے معیار ہی بدل ڈالے ہیں. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ جب خدا کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی جانب ایک گران بہا ہدیہ بھیجتا ہے، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وہ کونسا ہدیہ ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ مہمان ہے، وہ اپنی روزی ساتھ لے کر آتا ہے اور میزبان کے گناہوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے (یعنی) بخشوا کر جاتا ہے۔ مہمان نوازی ایمان کی علامت اور انبیاءِ کرام علیہم السلام کی مشترکہ سنت ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کا تذکرہ فرمایا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت احادیث میں مہمان نواز ہونے کی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے، ترجمہ:اور البتہ آچکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر، بولے سلام، وہ بولا سلام ہے، پھر دیر نہ کی لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا ۔(ھود: 69) اس آیت کے ذیل میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں "حضرت ابراہیم علیہ االسلام وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے دنیا میں مہان نوازی کی رسم جاری فرمائی۔( قرطبی ) ان کا معمول یہ تھا کہ کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے، بلکہ ہر کھانے کے وقت تلاش کرتے تھے کہ کوئی مہمان آجائے تو اس کے ساتھ کھائیں۔ قرطبی نے بعض اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو دسترخوان سے اٹھا دیا، جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو اس کو کفر کے باوجود ساری عمر رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا، یہ سنتے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا، اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں، میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاؤں گا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے، میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ گیا اور مؤمن ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا” ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا عام معمول تھا کہ کوئی مسافر مہمان آجاتا تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجروں میں پیغام بھیجتے کہ کوئی چیز کھانے کو ہے؟ اگر ستو، کھجوریں، دودھ وغیرہ ہوتا تو وہ بھیج دیتیں ۔ ایک دفعہ کوئی مہمان آیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیغام بھیجا لیکن 9 حجروں میں سے کسی گھر سے بھی مہمان کا کھانا نہیں نکلا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں سے کہا، میرا مہمان ہے کوئی اسے کھانا کھلا دے گا؟ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا میں گھر کا چکر لگا کر آتا ہوں، ذرا دیکھ آؤں گھر میں کیا کچھ ہے۔ گھر تشریف لے گئے، اہلیہ محترمہ ام سُلیم سے کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک مہمان ہے، گھر میں کوئی چیز کھانے کو ہے؟ اس نے کہا صرف ایک آدمی کا کھانا ہے، یا تم کھا لو، یا میں کھا لوں، یا بچوں کو کھلا دیں، یا مہمان کو کھلا دیں۔ اتنا کھانا ہے کہ ایک آدمی کا گزارا ہو جائے گا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مہمان ہے اس لیے بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سلا دو۔ کھانا دستر خوان پر رکھ دینا۔ عرب مہمان نوازی کے اصولوں کے مطابق میزبان کو ساتھ بیٹھ کر کھانا ہوتا ہے، مہمان اکیلے کھانا نہیں کھاتا۔ تو اس میں مسئلہ یہ تھا کہ اگر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھانا کھاتے تو مہمان کیا کھاتا۔ اس کا حل یہ نکالا کہ کہا، میں مہمان کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ جاؤں گا، ایک آدھ لقمہ لوں گا تم چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے چراغ بجھا دینا۔ میں اندھیرے میں منہ ہلاتا رہوں گا، مہمان تسلی سے کھانا کھا لے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا اور مہمان کو اس طریقے سے کھانا کھلایا۔ اللہ رب العزت کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ قرآن مجید میں انصارِ مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوک سے ہوں۔ (سورہ الحشر ۹) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے، جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ بھلی بات کہے یا چپ رہے ۔”(مشكاة المصابيح ) حضرت شریح کعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی تعظیم و خاطر داری کرے، مہمان کے ساتھ تکلف و احسان کرنے کا زمانہ ایک دن ایک رات ہے، اور مہمان داری کرنے کا زمانہ تین دن ہے، اس (تین دن) کے بعد جو دیا جائے گا وہ ہدیہ و خیرات ہوگا اور مہمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کے ہاں تین دن کے بعد اس کی استدعا کے بغیر ٹھہرے کہ وہ تنگی میں مبتلا ہو جائے ۔” عرب میں "الضیف” یعنی مہمان دو قسم کے لوگوں کے لیے بولا جاتا تھا۔ ایک وہ جو کہیں سے ملنے کے لیے آئیں اور دوسرے بے ٹھکانہ مسافر پر بھی الضیف کا لفظ بولا جاتا تھا۔ پہلے زمانے میں مسجد میں مسافر آجاتے اور کہتے میں مسافر ہوں تو لوگ ان کی مہمانی کر دیا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کہ مہمان ساتھ نہ ہوتا۔ اگر کوئی مہمان نہ آتا تو باہر گلی سے کسی مسافر کو گھر لے آتے کہ میرے ساتھ کھانا کھاؤ۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امیر آدمی نہیں تھے، تنگ دستی کے ساتھ گزارا کیا کرتے تھے۔ مہمان کی خدمت و اکرام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا ” جس کا اللہ اور آخرت پر ایمان ہے اسے چاہیے کہ وہ مہمان کا اکرام کرے”۔ مہمان کے اکرام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں چار درجے بیان فرمائے ہیں۔ پہلی بات فرمائی، ابوداؤد شریف کی روایت ہے "لَیلۃُ الضَّیفِ حَقٌّ وَاجِبٌ علٰی کُلِ مُسلِمٍ” مہمان کی پہلی رات ہر مسلمان پر حق اور واجب ہے۔ کھانے کا ذکر نہیں فرمایا، رات کا ذکر فرمایا، اس سے مراد یہ ہے کہ مہمان کے رہنے، آرام اور کھانے کا انتظام کرنا۔ اس سے اگلا درجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جَائِزۃُ الضَّیفِ یَومٌ وَ لَیلۃٌ” مہمان کا اکرام یعنی اس کے لیے خصوصی طور پر کچھ پکانا، اہتمام کرنا ایک دن اور ایک رات ہے۔ مہمان کا اکرام یہ ہے کہ عام معمول سے ہٹ کر اس کے لئے کوئی چیز تیار کی جائے، اس کے لیے منگوائی جائے۔ اور تین دن مہمانی مہمان کا حق ہے، ایک دن خصوصی اور باقی دو دن عمومی جو گھر میں پکا ہو۔ اور چوتھے دن جو اس پر خرچ ہو وہ صدقہ ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کو بھی اشارہ کیا کہ تمہارا بھی زیادہ دن رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ کہیں جاتے تو حضرت نافع رحمتہ اللہ علیہ یا حضرت سالم رحمتہ اللہ علیہ ساتھ ہوتے تھے کہ آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت نافع شاگرد اور حضرت سالم بیٹے تھے، چوتھے دن ان سے کہتے بیٹا! اب ہم اپنا خرچہ خود کریں گے، چوتھا دن صدقہ ہوتا ہے اور میں صدقہ نہیں کھایا کرتا۔ یہ تو اشارتاً فرمایا، دوسری حدیث میں صراحتًا فرمایا، مہمان کو چاہیے کہ وہ میزبان کو تنگ نہ کر دے کہ وہ دن گننے لگے کہ یہ کب جائیں گے؟ زیادہ سے زیادہ تین دن مہمانی کے ہیں اس کے بعد میزبان کی مرضی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دو۔ میزبان کو تنگ کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً کہیں مہمان ہوا تو خواہ مخواہ کیڑے نہ نکالے کہ یہ جگہ کیسی ہے، کھانے میں نمک زیادہ تھا، سالن میں مرچیں زیادہ تھیں، چائے کیسی بنائی ہے، وغیرہ۔ انہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق جیسا انتظام کیا ہو، شکر کے ساتھ قبول کرے۔ ظاہر ہے مزاج مختلف ہوتے ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ میں جہاں جاؤں وہاں ساری باتیں میری مرضی کے مطابق ہوں؟ کئی باتیں میرے معیار سے زیادہ ہو نگی، کئی کم ہونگی، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں جہاں جاؤں وہاں سارے کام میری مرضی کے مطابق ہوں۔ اس لیے خواہ مخواہ نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا ٹھیک نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ میزبان کی حیثیت سے زیادہ دیر اس کے ہاں رہنے کو پسند نہیں کیا گیا۔ اس کو بے بس نہ کر دے کہ وہ کہے کل آپ کا قیام ہے یا کوچ؟ مہمان کہے قیام، تو میزبان کہے پھر ہمارا تو کوچ ہے۔ تیسرے عام طور پر علماء کرام، خطباء عظام اور اس سے بڑھ کر لیڈروں اور پیران محترم کے ہاں یہ ہوتا ہے کہ دعوت دو آدمیوں کی ہوتی ہے اور یہ بتائے بغیر دس بارہ آدمیوں کو ساتھ لیے میزبان کے ہاں پہنچ جاتے ہیں۔ میرے ساتھ اگر آدمی زیادہ ہوں تو مجھے بتانا چاہیے کہ میرے ساتھ اتنے آدمی اور ہیں تاکہ میزبان اس کا انتظام کر لے۔ کوئی اگر دعوت دے کہ میرے ہاں چائے پی لیجئے گا اور یہ بیس آدمیوں کو لے کر پہنچ جائے تو اب میزبان نہ پلانے کا اور نہ چھوڑنے کا۔

غزوۂ خندق کے موقع پر سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خندق کھود رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودنے میں مصروف تھے، کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا، کئی دن سے بھوکے تھے۔ ایک صحابی نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ! سخت بھوک لگی ہے کیا کروں؟ فرمایا برداشت کرو، صبر کرو۔ اس نے پیٹ سے کپڑا اٹھایا اور دکھایا کہ اس نے بھوک کے احساس کو روکنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے۔ جب اس نے یہ کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھر پیٹ پر باندھے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے برداشت نہ ہوا میرا گھر وہاں قریب ہی تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! اجازت ہو تو میں گھر چکر لگا آؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ۔ میں گھر گیا اور جا کر بیوی سے پوچھا گھر میں کوئی کھانے کی چیز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سخت بھوک میں ہیں؟ اس نے کہا ایک بکری کا بچہ اور ایک صاع جَو ہوں گے اور تو کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے خود بکری کا بچہ ذبح کیا اور ان کی بیوی نے آٹا پیسا۔ بیوی سے کہا تم ہانڈی پکاؤ، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر لاتا ہوں۔ ان کی بیوی نے کہا زیادہ سے زیادہ آٹھ دس آدمیوں کا کھانا ہو سکتا ہے، زیادہ آدمیوں کو دعوت نہ دیجیے گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں کہا میں گھر گیا تھا تھوڑا بہت بندوبست کر کے آیا ہوں، آٹھ دس آدمیوں کا کھانا ہے آپ تشریف لے چلیں ساتھ آٹھ نو آدمیوں کو لے چلیں جا کر کھانا کھا لیں۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سات آٹھ سو ساتھیوں کو بھوکا چھوڑ کر خود کھانا کھانے کیسے جا سکتے تھے؟ وہ کوئی عام لیڈر نہیں تھے کہ کہتے ابھی کھلاؤ اور باقی فریزر میں رکھ دو کل کام آئے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جابر نے دعوت کی ہے سب چلو، جتنے لوگ موجود تھے سب چل پڑے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے کہ کھانا آٹھ دس آدمیوں کا ہے وہ آٹھ سو آدمیوں کو کیسے پورا ہو گا۔ جب گھر کے قریب پہنچے تو ان کی بیوی نے دیکھ لیا کہ اتنے زیادہ آدمی جابر رضی اللہ عنہ ساتھ لا رہے ہیں تو انہوں نے سمجھا کہ جابر نے بتایا نہیں ہو گا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سارے ساتھیوں سمیت آرہے ہیں۔ چنانچہ حضرت جابر کو بلا کر کہا "بِکَ وَبِکَ” تیرے ساتھ یہ ہو، تیرے ساتھ وہ ہو، یہ کیا کر دیا، ان سب کو کون کھلائے گا؟ انہوں نے کہا اللہ کی بندی! مجھے مت کوسو، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا تھا۔ بیوی نے پوچھا واقعی کہہ دیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے تو کہہ دیا تھا۔ بیوی کہنے لگی، پھر اللہ جانے اور اللہ کا رسول جانے، پھر کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہنڈیا سے ڈھکن نہیں اٹھانا اور آٹے سے کپڑا نہیں اٹھانا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹے پر ہاتھ پھیرا، لعاب مَلا، ہنڈیا میں تھوک مبارک ڈالا، اور فرمایا پکاتے رہو، لوگ کھاتے رہیں۔ چنانچہ عصر تک کھانا پکتا رہا، لوگ کھاتے رہے۔ آٹھ سو آدمیوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا۔ بعد میں دیکھا کہ ہنڈیا بھی ویسی کی ویسی ہے اور آٹا بھی ویسے کا ویسا ہے۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ہمارے لیے ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ایک اور موقع کی بات ہے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ساتھیوں سمیت کھانے کی دعوت کی، ایک اور آدمی بھی ساتھ ہو لیا تو گھر کے دروازے پر پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میزبان سے کہا، دیکھو! یہ آدمی گنتی میں شامل نہیں ہے، از خود آگیا ہے اب تمہاری مرضی ہے اس کو بٹھاؤ، تمہاری مرضی ہے نہ بٹھاؤ، ہماری وجہ سے تم پابند نہیں ہو۔ حالانکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا تھا، میزبان کو کیا کہنا تھا، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول بیان فرما دیا، مسئلہ بیان فرما دیا کہ جتنوں کی دعوت ہو، اتنے ہی جاؤ۔ اس نے کہا، یارسول اللہ! آپ کے ساتھ آیا ہے یہ بھی کھانے میں شریک ہو جائے۔ آج کل ہمارے ہاں اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، ہمیں تو سب گھر والوں کو کسی شادی پر جانے کے لیے ایک کارڈ کافی ہوتا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور بات کا اہتمام بھی کرتے تھے کہ مہمان آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اس کی سواری کا پوچھا کرتے کہ اونٹ کہاں باندھا ہے؟ اس کو کچھ کھلایا پلایا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی سختی سے یہ معمول تھا کہ قافلہ آتا تو بندوں کو جگہ دینے سے پہلے پوچھتے اونٹ کہاں کھڑے کیے ہیں؟ خچریں کدھر ہیں؟ ان کے پانی، گھاس کا انتظام کیا ہے؟ ایک مرتبہ ایک صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کہاں سے آئے ہو؟ بتایا، فلاں جگہ سے۔ دریافت فرمایا، اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا، اللہ کے توکل پر باہر چھوڑ دیا ہے۔ فرمایا، پہلے اونٹ کو باندھو، پھر توکل کرو۔ آج کل اونٹ، خچر تو نہیں ہوتے، موٹر سائیکل یا گاڑی ہوتی ہے۔ اگر رات موٹر سائیکل باہر کھڑی رہ جائے تو ممکن ہے صبح نہ ملے، اس لیے مہمان کے حقوق میں یہ بھی ہے کہ اس کی سواری کو محفوظ جگہ مہیا کی جائے۔ بہرحال مہمان کی عزت، احترام، حسب موقع اس کا اکرام کرنا اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی سواری کا خیال رکھنا، ان سب باتوں کی رعایت کرنے کا حکم سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں واضح انداز میں دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو اس سنت پر بھی اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے