سمریاواں، سنت کبیر نگر (محمد رضوان گوہر ندوی): مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر میں مدرسہ مصطفٰی دار العلوم برواں کشی نگر کے پرنسپل مولانا عبدالماجد ندوی سلفی کی والدہ کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد ہوا جس میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ فقہ و حدیث مفتی رحمت اللہ ندوی نے مرحومہ کے سانحہ وفات پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا آج تک کسی نے انکار نہیں کیا۔
ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے، عقلمند وہ ہے جو مرنے سے پہلے موت کی تیاری کر لے، یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، انسان جو کچھ بوئے گا وہی کاٹے گا، اس زندگی کے اعمال سے ہماری آخرت کی زندگی بنے گی، اس زندگی کے کارنامہ سے ہماری وہ زندگی سنورے گی، اس دنیا میں ہمیں ایک مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے، جب تک دنیا میں رہیں کثرت سے موت کو یاد کریں، احکام شریعہ کی پابندی کریں، حسد کینہ، بغض، عدوات سے اپنے دل کو پاک کریں، اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ دیں۔
مولانا نے مزید کہا کہ مرحوحہ اعلی اخلاق و صفات کی حامل تھیں، صوم و صلوۃ کی پابند تھیں، مولانا عبد الماجد ندوی بھٹیا ضلع سدھارتھ نگر کے رہنے والے ہیں، اللہ نے ان کو اپنی والدہ کی خدمت کرنے کا خوب موقع دیا، اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی والدہ کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، مولانا ندوی اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل دے۔
کے این پبلک اسکول کے ڈائرکٹر مولانا محمد رضوان ندوی نے کہا کہ مولانا عبدالماجد ندوی کی والدہ بہترین مربیہ تھیں، انھوں نے اپنے بچوں کی دینی ماحول میں تربیت کی اور انھیں اعلی اخلاق کا حامل بنایا، ان کو ملک و ملت کی خدمت کے لئے تیار کیا، یہی وجہ ہے کہ مولانا عبدالماجد ندوی آج جہاں جہاں ضرورت محسوس کرتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد میں پیچھے نہیں رہتے، دوسروں کے دکھ درد میں ہمیشہ شریک رہتے ہیں۔ اللہ تعالی مولانا ندوی کو والدہ کے حق میں بہترین صدقہ جاریہ اور ذخیرہ آخرت بنائے، ان کی سماجی خدمات میں والدہ مرحومہ کا حق ہے، ان کی اچھی اور مثالی تربیت ہی کا اثر ہے کہ مولانا ندوی آج ہر موڑ پر انسانیت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، اللہ تعالی مرحومہ کو عرش کا سایہ نصیب فرمائے اور آخرت کی حقیقی سعادت و سرخ روئی سے مالا مال فرمائے ۔
اس موقع پر مولانا حکیم سالم اشرف ندوی، مولانا محمد شاہد ندوی پرنسپل مدرسہ مصطفٰی دار العلوم برواں کشی نگر، مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن سمریاواں، قاری عبد اللطیف ندوی، ماسٹر فیضان احمد مینیجر الھدی پبلک اسکول، صدر مدرس مولانا غفران احمد ندوی، مولانا انیس الرحمن ندوی خاص طور پر موجود رہے۔
