مولانا محمد شمیم احمد نوری مصباحی

اولیائے کرام وہ بلند مرتبہ، برگزیدہ اور قدسی نفوس ہیں جن کی حیاتِ طیبہ میں شریعت و طریقت کا حسین امتزاج اور بندگیِ الٰہی کی خوشبو ہر لمحہ محسوس کی جاتی ہے۔ انہی مردانِ حق میں ایک روشن، تابندہ اور نمایاں نام خطیبُ البراہین حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین علیہ الرحمہ کا ہے، جنہوں نے اپنے علم و عمل، زہد و تقویٰ، اخلاق و اخلاص اور عشقِ رسول ﷺ کے ذریعے دنیائے اسلام میں ایک مستقل روحانی و علمی چراغ روشن کیا۔
حضرتِ والا کی پوری حیاتِ مبارکہ علم و عرفان، اصلاح و تبلیغ، خدمتِ خلق، اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین تھی۔ ابتدائی عمر سے ہی آپ کے دل میں خشیتِ الٰہی کی شدت اور ذکرِ الٰہی کی محبت نمایاں رہی۔ زبان ذکرِ الٰہی سے تر، دل عشقِ نبی ﷺ سے منور، اور چہرہ انوارِ سنت سے روشن تھا۔ آپ کی خطابت مدلل، نصیحت پراثر، اور تدریس خلوص و ایثار سے معمور تھی، جس سے ہزاروں طالبانِ علم مستفید ومستفیض ہوئے اور معاشرے میں اصلاح و ہدایت کا روشن سلسلہ قائم ہوا۔
حضرت صوفی نظام الدین علیہ الرحمہ نصف صدی سے زائد عرصے تک علمِ نبوی ﷺ کی خدمت کرتے رہے اور اپنے نفیس کلمات و جذبات کے ذریعے دلوں کو ایمان، تقویٰ، اخلاق و محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کیا۔ آپ کی زہد و تقویٰ، فروتنی و انکساری، اور عشقِ رسول ﷺ کے اعلیٰ معیار نے آج بھی مریدوں اور علم و عرفان کے طلبہ کے لیے مشعل راہ قائم کر رکھی ہے۔
مغربی راجستھان کی عظیم و ممتاز دینی درسگاہ، دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف، باڑمیر،راجستھان کے ناظمِ تعلیمات، معروف عالم دین، ادیبِ شہیر حضرت علامہ مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے اس حوالے سے ایک پریس ریلیز میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا:
"حضرت صوفی نظام الدین علیہ الرحمہ درحقیقت زہد و تقویٰ، فروتنی و انکساری، اور عشقِ رسول ﷺ کے پیکرِ کامل تھے۔ آپ کی ذات سے جو نور پھوٹا، آج بھی دلوں کو منور کر رہا ہے، اور نسل در نسل علم و اخلاق کی روشنی پھیل رہی ہے۔”
مولانا موصوف نے مزید کہا کہ:
"ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت حضرتِ والا کے مرقد کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقوشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔”
حضرت صوفی نظام الدین علیہ الرحمہ کی سوانح مبارکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ علم و عمل، عشقِ مصطفٰی ﷺ اور خدمتِ دین و خلق کی راہ پر ثابت قدمی ہی حقیقی معنوں میں اولیائے کرام کی پہچان ہے۔ ان کی زندگی آج بھی ایک روشن مینار کی مانند ہے جو ہر دور کے طلبہ و عاشقانِ رسالت ﷺ کے لیے ہدایت، شوقِ علم، اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے