(حافظ)افتخاراحمدقادری
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو منظم کرتا ہے۔ اس میں عبادت صرف چند مخصوص اعمال کا نام نہیں بلکہ معاشرت، اخلاق، معاملات اور اصلاحِ باطن سب شامل ہیں۔ انہی اجتماعی عبادات میں ایک اہم ترین عبادت نمازِ جمعہ ہے جو امتِ مسلمہ کے لیے ہفتہ وار اجتماع، اتحادِ ملت اور اصلاحِ معاشرہ کا زبردست ذریعہ ہے۔ دنیا کے کسی اور مذہب میں ایسا جامع نظام نہیں جس میں ہر ہفتے لاکھوں کروڑوں افراد بیک وقت ایک مخصوص وقت پر، ایک ہی پیغام کے ساتھ اپنے رب کے حضور جمع ہوں۔ جمعہ کا دن امت کے لیے اجتماعیت، فکرِ دین اور اجتماعی تربیت کا دن ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو الله کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔” (الجمعہ:9)
یہ صرف نماز کا وقت نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی، نصیحت، تربیت اور اجتماعی اصلاح کا وقت ہے۔ افسوس! کہ آج جمعہ کے دن مساجد میں عوام کا سیلاب تو نظر آتا ہے لیکن دلوں کی تربیت اور اصلاح کا وہ اثر باقی نہیں رہا جو اس اجتماع کا اصل مقصد تھا۔ لوگ مسجدوں میں آتے ہیں، سنتیں جلدی جلدی ادا کرتے ہیں، خطبہ اکثر بے دلی سے سنتے ہیں اور نماز کے فوراً بعد جلدی میں چلے جاتے ہیں گویا یہ ایک رسمی فریضہ بن گیا ہے۔
دوسری طرف آئمہ و خطبا حضرات بھی اکثر وہ کردار ادا نہیں کر پا رہے جو ان سے مطلوب ہے۔ خطبہ جمعہ جو اسلام میں اصلاحِ امت کا سب سے مؤثر منبر ہے وہ اکثر رسمی اعلانات، جزوی بیانات یا غیر متعلقہ موضوعات میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اسلام میں منبر کی حیثیت نہایت بلند ہے یہ وہ مقام ہے جہاں سے نبی کریم ﷺ نے انسانوں کے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کیا، ظلمتوں میں امید کے چراغ جلائے اور امت کو وحدت و اصلاح کا پیغام دیا۔ مگر آج یہی منبر اکثر خاموش ہے، اس کی تاثیر ماند پڑ چکی ہے اور خطبہ جمعہ جو کبھی دلوں کی دنیا بدل دیا کرتا تھا آج بسا اوقات رسمی الفاظ کی ادائیگی بن کر رہ گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے خطبات مختصر مگر جامع ہوتے، ان میں قرآن مجید کی آیات، آخرت کی یاد دہانی، تقویٰ کی تعلیم اور امت کی اصلاح کا درد ہوتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آئمہ مساجد اس سنت کو زندہ کریں، اپنے خطبات کو محض روایت یا معمول نہ سمجھیں بلکہ ایک پیغامِ حیات بنائیں۔ اپنے خطبات کو تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنائیں، عوام کو اخلاقی بیداری، سماجی ذمہ داری اور دینی شعور کی طرف متوجہ کریں، معاشرتی مسائل پر گفتگو کریں جیسے جھوٹ، ملاوٹ، ناانصافی، رشوت، نماز کی بے رغبتی، والدین کے حقوق، رشتہ داریوں کی ٹوٹ پھوٹ، یا نوجوان نسل کی گمراہی۔ جمعہ کو صرف نماز کی ادائیگی نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ہفتہ وار پلیٹ فارم سمجھا جائے۔ اگر آئمہ مساجد حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہوئے امت کی ضرورت کے مطابق موضوعات منتخب کریں تو یہ منبر پھر سے امت کی تربیت کا مرکز بن سکتا ہے۔ جب ایک بڑی تعداد میں لوگ مسجدوں میں آئیں مگر خطیب ان کے دلوں کو جگانے میں ناکام رہے تو یہ گویا ضائع شدہ موقع ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب پوری امت کا بڑا حصہ مسجد میں موجود ہوتا ہے۔ اگر اس وقت قرآن و سنت کی روشنی میں بامقصد بات کی جائے تو یہ پورا معاشرہ بدل سکتا ہے لیکن افسوس! اکثر خطبوں میں نہ حالاتِ حاضرہ کا تذکرہ ہوتا ہے نہ اخلاقی تربیت کا پیغام، نہ امت کی فکری اصلاح کا کوئی عزم۔ اکثر خطیب حضرات ایک ہی محدود دائرے میں بات کر کے منبر سے اتر جاتے ہیں، حالانکہ یہی وہ موقع ہے جب امت کے ذہنوں میں فکر و عمل کے بیج بوئے جا سکتے ہیں۔ آئمہ مساجد خطبہ جمعہ کو سنجیدگی سے تیار کریں کیونکہ یہ منبر الله تعالیٰ کے نبی ﷺ کی وراثت ہے۔ اسے محض ایک رسمی فریضہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے امت کی اصلاح و تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔ موضوعات کو عصری ضرورت کے مطابق چنا جائے، نوجوانوں کے اخلاقی مسائل، خاندانوں میں بڑھتی ہوئی دوریاں، تجارت میں بددیانتی، تعلیمی زوال، سوشل میڈیا کے منفی اثرات اور معاشرتی انتشار جیسے موضوعات پر گفتگو کی جائے۔ خطبہ میں دلوں کو جھنجھوڑنے والی زبان استعمال کی جائے جو نصیحت بھی کرے اور امید بھی دلائے۔ وقت کی پابندی، آواز کا توازن اور ادب و احترام کا خاص خیال رکھا جائے۔ عوام کو صرف ڈرایا نہ جائے بلکہ عمل کی ترغیب بھی دی جائے، خوف اور امید کا توازن برقرار رکھا جائے۔ عوام کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ جمعہ صرف ایک فریضہ نہیں بلکہ اپنی روحانی زندگی کو تازہ کرنے کا موقع ہے۔ خطبہ سننا بھی عبادت ہے۔ اگر ہم خطبہ جمعہ کو غور سے سنیں، اس پر عمل کریں اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں جگہ دیں تو جمعہ ہماری زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ یہ دن امت کے لیے ایک نیا جذبہ، ایک نئی روح اور ایک نیا عزم پیدا کرنے والا دن بن سکتا ہے۔ جمعہ کی نماز امتِ مسلمہ کے لیے ایک ہفتہ وار تربیتی اجتماع ہے مگر جب خطباء رسمی، سامعین غافل اور مسجد کا منبر غیر مؤثر ہو جائے تو یہ عظیم اجتماع ایک کھوکھلی رسم میں بدل جاتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ آئمہ مساجد اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں، خطبہ کو زندہ کریں اور منبرِ رسول ﷺ کو اصلاحِ امت کا مضبوط قلعہ بنائیں۔ اگر جمعہ کے منبر سے دلوں کو بدلنے والے پیغامات گونجنے لگیں تو یقیناً مساجد کے یہ سیلاب امت کی فکری و اخلاقی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جمعہ کا منبر اگر بیداری، ایمان، تقویٰ، عدل اور محبت کی دعوت دینے لگے تو یہ امت پھر سے اپنے اصل مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آج کا دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے اور معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے، ایمان و اخلاق کمزور پڑ رہے ہیں اور نئی نسل پر فکری و عملی گمراہی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں آئمہ مساجد پر ایک عظیم اور نازک ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امت کی اصلاح، تربیت اور رہنمائی کا فریضہ پہلے سے زیادہ سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ انجام دیں۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے فکری، روحانی اور اخلاقی استحکام کا مرکز ہے۔ امام مسجد صرف مقتدیوں کو نماز پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ وہ ایک رہنما، مصلح اور تربیت یافتہ داعی ہوتا ہے جس کا کردار معاشرے کی اصلاح میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آئمہ مساجد کو سب سے پہلے اپنی ذات کو علم، تقویٰ، خلوص اور کردار کے نور سے مزین کرنا چاہیے۔ امام اگر خود باعمل ہوگا تو اس کی باتوں میں تاثیر ہوگی۔ منبر و محراب سے نکلنے والی آواز دلوں میں اترے گی اور لوگوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا ہوگی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امام اپنے خطبوں اور بیانات میں امت کو بیدار کریں، انہیں فتنے کے خطرات سے آگاہ کریں اور اخلاق و حیا کی تعلیمات کو عام کریں۔ جمعہ کے خطبات اور درسِ قرآن کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائیں۔ نوجوانوں کے دلوں تک رسائی حاصل کریں، انہیں مسجد سے جوڑیں اور بتائیں کہ ایمان، غیرت اور حیا ایک مسلمان کی پہچان ہیں۔ موجودہ دور میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے، اس لیے امام مسجد کو ان کی فکری اور اخلاقی رہنمائی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ مسجد کے ماحول کو ایسا بنایا جائے کہ نوجوان وہاں سکون اور رہنمائی محسوس کریں۔ اسی طرح آئمہ مساجد کو خواتین کی اصلاح و تربیت کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ وہ براہ راست خواتین سے خطاب نہ کریں تو بھی ان کے لیے دینی دروس، رہنمائی کے پروگرام یا مطالعے کے حلقے بنوانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔ عورتوں کی عزت و عفت کی حفاظت صرف گھر والوں کی نہیں بلکہ دینی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے۔ امام کو چاہیے کہ وہ والدین کو سمجھائیں کہ اپنی بیٹیوں کی تربیت دین، پردہ اور اخلاق کی بنیاد پر کریں۔ آئمہ مساجد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معاشرتی امن اور بھائی چارے کے فروغ میں کردار ادا کریں۔ دوسرے مذاہب اور عقائد رکھنے والوں کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کریں اور اپنے مقتدیوں کو بھی یہی تعلیم دیں کہ اسلام نفرت نہیں بلکہ رواداری اور امن کا دین ہے۔ اپنی عزت و غیرت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امت کو صبر، حلم اور تحمل کی تعلیم دینا امام کا فرض ہے۔ کسی موقع پر اشتعال، نفرت یا فتنہ انگیزی کا حصہ بننے کے بجائے امام کو اصلاح اور صلح کی راہ دکھانی چاہیے۔ مسجد کو محض عبادت کی جگہ نہ رہنے دیں بلکہ اسے دینی و اخلاقی تربیت کا مرکز بنائیں۔ وہاں بچوں کے لیے قرآن و تجوید کی کلاسیں، نوجوانوں کے لیے اصلاحی نشستیں، والدین کے لیے تربیتی بیانات اور خواتین کے لیے رہنمائی کے پروگرام منعقد کرائیں۔ اگر امام اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر یہ سب کرے تو ایک پورا محلہ ایمان و اخلاق کی روشنی سے جگمگا سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ امام کا کردار صرف بات کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے عمل سے مثال بنے۔ وہ خود بھی سادہ، متواضع اور بااخلاق ہو۔ زبان نرم ہو، دل میں امت کے لیے درد ہو اور نیت میں اخلاص ہو۔ جب امام ایسا ہوگا تو لوگ نہ صرف اس سے محبت کریں گے بلکہ اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔ آئمہ مساجد اپنے علاقے کے حالات پر گہری نظر رکھیں۔ کہاں نوجوان غلط راستے پر جا رہے ہیں؟ کہاں عورتیں غیر محفوظ ماحول میں ہیں؟ کہاں ایمان کمزور ہو رہا ہے؟ ان سب پہلوؤں کو جان کر عملی اقدامات کریں۔ صرف وعظ و نصیحت کافی نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے لیے منظم کوششیں کرنا ضروری ہے۔ امت کو نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد اور بے حیائی کے بجائے حیا و وقار کی راہ دکھائیں۔ اپنے منبر کو اصلاحِ امت کا ذریعہ بنائیں نہ کہ کسی فریق یا گروہ کی نمائندگی کا۔ یہ وقت خوابِ غفلت سے جاگنے کا ہے۔ منبر و محراب کے وارثوں کو اپنی ذمہ داری پہچاننی ہوگی۔ اگر آئمہ مساجد اپنے فرائض کو دیانتداری، اخلاص اور فہم کے ساتھ انجام دیں تو معاشرہ امن، اخلاق اور ایمان کی روشنی سے بھر جائے گا۔ بلا شبہ آئمہ مساجد کی زبانوں سے نکلنے والے الفاظ دلوں کی دنیا بدل سکتے ہیں اگر ان میں درد، اخلاص اور یقین کی حرارت ہو۔ آج کے فتنہ انگیز دور میں امام مسجد ہی وہ چراغ ہے جو امت کے ایمان کو بچا سکتا ہے۔ اس لیے ہر امام کو اپنے مقام اور فرض کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ اسی سے امت کی نجات اور معاشرے کی اصلاح وابستہ ہے۔
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مساجد دوبارہ روحِ ایمان اور اصلاحِ کردار کا سر چشمہ بنیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نظریات ٹوٹ رہے ہیں، اقدار بکھر رہی ہیں اور ایمان کے چراغ بجھنے لگے ہیں۔ ایسے میں اگر آئمہ مساجد اپنے منصب کی سنجیدگی کو سمجھ لے، اپنی گفتگو کو علم و بصیرت سے مزین کر لے اور اپنی شخصیت کو کردار و تقویٰ کی روشنی سے سنوار لے تو معاشرہ خود بخود سنور سکتا ہے۔ منبر صرف لکڑی کا ایک درجہ نہیں بلکہ امت کے احساس و ضمیر کی آواز ہے۔ یہی منبر وہ مقام ہے جہاں سے دلوں کو ایمان کی حرارت مل سکتی ہے، جہاں سے کرداروں میں انقلاب پیدا ہو سکتا ہے، اور جہاں سے نوجوانوں کے خوابوں کو صحیح سمت دی جا سکتی ہے۔ اگر ائمہ مساجد اپنی زبان کو نصیحت، اپنے دل کو دردِ امت اور اپنے عمل کو اخلاص سے بھر دیں تو وہی منبر امت کی اصلاح کا سب سے بڑا وسیلہ بن جائے گا۔۔یہ وقت سستی اور لاپرواہی کا نہیں، ذمہ داری اور عمل کا وقت ہے۔ ائمہ مساجد کو چاہیے کہ وہ خود کو صرف "نماز پڑھانے والا” نہ سمجھیں بلکہ "قوم کے معمار” سمجھیں۔ وہ دلوں میں ایمان کی جوت جلائیں، اخلاق و کردار کے چراغ روشن کریں اور امت کو قرآن و سنت کی اصل روح سے جوڑیں۔ اگر یہ ذمہ داری پوری سنجیدگی کے ساتھ نبھائی گئی تو یہی منبر ایک نئی فکری و روحانی بیداری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ جب مسجد کا امام بیدار ہوتا ہے تو پوری امت جاگ جاتی ہے۔ منبر اگر زندہ ہو جائے تو دلوں کی دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ آئیے، ہم سب اس عہد کو تازہ کریں کہ منبر و محراب کو پھر سے روشنی، محبت، علم اور تقویٰ کا گہوارہ بنائیں۔ یہی امت کی نجات، بقا اور عروج کا راستہ ہے۔
