ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
استاد دار العلوم ندوۃ العلماءلکھنؤ
اقبال کو یاد کرنا اپنی تہذیب کے بہترین سرمایے کو یاد کرنا ہے- تہذیبیں اپنے فکری کارناموں سے پہچانی جاتی ہیں اور اس پہچان میں بڑا کارنامہ وہی ہوتا ہے جو زمان اور مکان کی حد بندیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور اپنے زمانے کے بہت بعد بھی اور اپنی سرزمین سے بہت دور بھی جانا پہچانا جاتا ہے ۔ اقبال ١٨٧٧ء میں سیال کوٹ میں پیدا ہوئے جو اب پاکستان کا حصہ ہے مگر ان کی شاعری سیال کوٹ سے بہت دور کے علاقوں میں آج بھی گونج رہی ہے اور ٢١ اپریل ١٩٣٨ء کو لاہور میں وفات پانے والا شاعر گویا آج بھی زندہ ہے ۔
اقبال کا کارنامہ یہ تھاکہ انہوں نے فکر کی گہرائی کو شاعری میں ڈھال دیا، اردو شاعری بے شک غالب پیدا کر چکی تھی مگر خیام اور حافظ، رومی اور جامی سے نا آشنا تھی۔ اقبال نے اسے فلسفیانہ گہرائی دی ، یہ شاعری کی نئی جہت تھی۔ آئین سٹائن نے ایک جگہ اپنے نظریہ اضافیت کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے صرف شاعری میں بیان کیا جا سکتا ہے۔اقبال کی فلسفیانہ آگہی کو بھی شاعری ہی میں ادا کیا جا سکتا تھا کہ شاعری اور حیات کی فلسفیانہ توجیہ دونوں دراصل اقبال کے نزدیک ایک وسیع تر آفاقی آگہی کا ہی حصہ ہیں ۔
اقبال کا بنیادی استفہامیہ یہ ہے کہ قوموں کا عروج و زوال محض حادثہ ہے یاکسی فطری قانون یا ضابطے کا پابند ہے۔ تاریخی ارتقا میں فطری ضابطے یا سائنسی اصول کی تلاش بھی دراصل انیسویں صدی کے عام سائنسی مزاج کا نتیجہ تھی کہ اسی کے مطابق ڈارون سائنس میں ، مارکس فلسفے اور معاشیات میں ، اور برگساں تخلیقی ارتقا میں ارتقا کے انہی ضابطوں کا پتہ لگا رہے تھے۔ اقبال ان سب کے بعد آئے اور ان سب کے افکار سے اپنا چراغ انھوں نے روشن کیا لیکن یہ چراغ تھا ان کا اپنا جس کی روشنی میں مشرق اور مغرب دونوں جلوے ہم آہنگ تھے۔
اقبال اس نتیجے پر پہنچے کہ اقوام کا عروج وزوال اتفاقی نہیں قانون فطرت کا پابند ہے اور وہ اصول ہے اقوام کی باطنی خواہش زیست ۔ جس قوم میں زندگی کی یہ خواہش جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی عروج پائے گی۔ اس خواہش زیست کو اقبال نے خودی کانام دیا اور ایسے تمام فلسفوں، تحریکوں اور اداروں کی مخالفت کی جو اس خواہش زیست کو کمزور کرتی ہوں ۔ خودی یا خواہش زیست کی یہی تو زندگی ہے ، اور یہی انسانی ارتقا کا راز ہے اور یہی انسانی فکرو عمل کے سبھی معجزوں کی بنیاد ہے۔
اقبال کی فکر اور شاعری دونوں کی بنیاد اسی حیات آفریں تصور پر ہے- ایک ایسے دور میں جب لینن کے الفاظ میں سرمایہ دارانہ معیشت سامراج کی شکل اختیار کر کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی اور تین چوتھائی دنیا ایک چوتھائی سامراجی ملکوں کی غلام تھی، اقبال نے انسانی آزادی اور ایشیا کی شب تاریک کے سحر ہونے کا خواب دیکھا تھا۔ اپنے اوپر اعتماد کا جو حوصلہ اقبال کی شاعری نے اب سے نصف صدی پیشتر بخشا تھا آج اسی کا پرتو ترقی پذیر ملکوں کی معیشت میں عام طور پر اور جمہوریہ چین کی معیشت میں خاص طور پر نظر آتا ہے ۔
اقبال انیسویں اور بیسویں صدی کے سنگم پر کھڑے تھے ، انیسویں صدی کے ہیومنزم نے جن نئے امکانات کے دروازے کھولے تھے ان سے اقبال نے اعتماد اور حوصلہ لیا- بیسویں صدی کی ٹکنالوجی کی ہوش ربا دوڑ نے انسان میں جو کسبیت اور مغرب کی صنعتی تہذیب نے جو بے دلی اور تشنج پیداکیا اس سے اقبال نے ننگی ما دیت پرستی سے نفرت سیکھی اور ان دونوں صدیوں کے مزاج سے انہوں نے نئی آگہی ڈھالی جس میں مغرب کی قوت عمل یعنی سائنس اور ٹیکنا لوجی کو مشرق کی روحانیت سے ملا کر پیش کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے وہ اور ٹیگور شاید دو ہی ایسے شاعر تھے جنھوں نے مغرب اور مشرق کے ملاپ سے ایک بہتر عالمی تہذیب کا خواب دیکھا ۔
اس اعتبار سے اقبال انقلابی شاعر تھے ۔ ہر چند انہوں نے اپنا یہ سفر وطن پرستی سے شروع کیا تھا اور وہ مشہور ترانہ لکھا تھا جو آج ہندوستان کا قومی گیت ہے ۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
( مطالعہء اقبال،ص، 4-5)
علامہ سید سلیمان ندوی نے جو مضمون” ماتم اقبال” کے عنوان سے علامہ اقبال کی وفات پر لکھا تھا اس سے علامہ اقبال کی پوری شخصیت کی جہلک دکھائی دیتی ہے- مولانا رقم طراز ہیں-
وقعَتِ الْوَاقِعةُ آخر موت اور حیات کی چند ہفتوں کی کشمکش کے بعد ڈاکٹر اقبال نے دنیائے فانی کو الوداع کہا، صفر کی انیسویں اور اپریل کی اکیسویں کی صبح کو عمر کی اکسٹھ بہاریں دیکھ کر اور شاعری کی دنیا میں چالیس برس چہچہا کر یہ بلبل ہزار داستان اب ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا، وہ ہندوستان کی آبرو ، مشرق کی عزت اور اسلام کا فخر تھا، آج دنیا ان ساری عزتوں سے محروم ہوگئی ، ایسا عارف فلسفی، عاشق رسول شاعر، فلسفہ اسلام کا ترجمان اور کاروان ملت کا حدی خواں صدیوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور شاید صدیوں کے بعد پیدا ہو، اس کے دہن کا ہر ترانہ بانگ درا، اس کی جان حزین کی ہر آواز زبور عجم، اس کے دل کی ہر فریاد پیام مشرق ، اس کے شعر کا ہر پرواز بال جبریل تھا، اس کی فانی عمر گو ختم ہوگئی لیکن اس کی زندگی کا ہر کارنامہ جاوید نامہ بن کر ان شاء اللہ باقی رہے گا، امید ہے کہ ملت کا یہ غم خوار شاعر اب عرش الہی کے سایہ میں ہوگا ، اور قبول و مغفرت کے پھول اس پر برسائے جارہے ہوں گے- خداوندا ! اس کے دل شکستہ کی جو ملت کے غم سے رنجور تھا، غم خواری فرما اور اپنی ربانی نوازشوں سے اس کے قلب حزیں کو مسرور کر ۔
مرحوم کی زندگی کا ہر لمحہ ملت کی زندگی کیلئے ایک نیا پیام لایا تھا۔ وہ توحید خالص کا پرستار ،دین کامل کا علم بردار اور تجدید ملت کا طلبگار تھا، اس کی رگ رگ میں رسول امام علیہ السلام کا عشق پیوست تھا اور اس کی آنکھیں جسم اسلام کے ہر ناسور پر اشک بار رہتی تھیں ، اس نے اسلام کے مستقبل کا ایک خواب دیکھا تھا۔ اسی خواب کی تعمیر میں اس کی ساری عمر ختم ہوگئی ۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب تک آسکتا نہیں
کہنے کو تو ہم میں ملت کے غمخواروں کی کمی نہیں اور نہ اُمت کے دوستداروں کی قلت ، مگر واقعہ یہ ہے کہ نئی تعلیم نے اپنے ساٹھ ستر برس کے طویل عرصہ میں دو ہی سچے غمخوار پیدا کئے، ایک محمد علی مرحوم اور دوسرے اقبال مرحوم ،
مرحومین پر خدا کی بڑی رحمت ہو، ان کے دلوں میں اسلام کا حقیقی سوز تھا اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچا عشق ، نئے زمانہ کی جھوٹی آب و تاب اور نئے تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے ان کی آنکھیں خیرہ نہ تھیں ، آفتاب اسلام کی ضیا باری کے مقابلہ میں ان کے سامنے جدید تہذیب و تمدن اور زمانہ حال کی تجدیدات کی نئی روشنی مہ نخشب کے مصنوعی نور سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی تھی ، خدا ان کی قبروں کو اپنے نور سے بھر دے ۔
اقبال کی قومی شاعری بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ شروع ہوئی- بیسویں صدی کے اس پیغام رساں نے اپنے اڑتیس برس کے شاعرانہ پیغامات سے ملت کے نوجوانوں میں نئی امنگ بھر دی اور نئے سفر کے مراحل طے کرنے کے لئے ان میں نئے سرے سے ہمت پیدا کر دی، اقبال کا یہ دعویٰ حرف حرف سچا تھا:
اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویا
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
اقبال کی تصنیفات تابندہ نقوش ہیں، وہ اسلام کا غیر فانی لٹریچر بن کر ان شاء اللہ باقی رہے گا، ان کی شرحیں لکھی جائیں گی ، نظریئے اُن سے بنیں گے ، اُن کا فلسفہ تیار ہوگا، اس کی دلیلیں ڈھونڈی جائیں گی ، قرآن پاک کی آیتوں ، احادیث شریفہ کے جملوں ، مولانا روم اور حکیم سنائی کے تاثرات سے ان کا مقابلہ ہوگا اور اس طرح اقبال کا پیام اب دنیا میں ان شاء اللہ ہمیشہ زندہ رہے گا اور اقبال زندہ جاوید –
اقبال صرف شاعر نہ تھا، وہ حکیم تھا وہ حکیم نہیں جو ارسطو کی گاڑی کے قلی ہوں، یا یورپ کےنئے فلاسفروں کے خوشہ چین بلکہ وہ حکیم جو اسرار قدرت کا محرم اور موز فطرت کا آشنا تھا، وہ نئے فلسفہ کے ہر راز سے آشنا ہو کر اسلام کے راز کو اپنے رنگ میں کھول کر دکھاتا تھا، یعنی بادہ انگور کو نچوڑ کر کوثر وتسنیم کا پیالہ تیار کرتا تھا۔
وفد کابل جن تین ممبروں سے بنا تھا، افسوس ہے کہ اس میں یکے بعد دیگرے دو چل دیے- سر راس مسعود اور اقبال- اب صرف ایک رہ گیا ہے اور معلوم نہیں کہ وہ کتنے دن کے لیے ہے، آہ –
حریفان باده ہا خوردند و رفتند-
علامہ شبلی مرحوم نے اقبال کو اسی وقت پہچان لیا تھا ، جب ہنوز ان کی شاعری کے مرغ شہرت نے پر و بال نہیں پیدا کئے تھے ، چنانچہ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ حالی و آزاد کی جو کرسیاں خالی ہوں گی ان میں سے ایک اقبال کی نشست سے پر ہو جائے گی ۔ افسوس کہ آج اڑتیس برس کے بعد وہ کرسی خالی ہو گئی اور اب اُس کے پر ہونے کی کی کوئی صورت نہیں۔
اقبال ہندوستان کا فخر، اقبال اسلامی دنیا کا ہیرو، اقبال فضل و کمال کا پیکر، اقبال حکمت و معرفت کا دانا، اقبال کاروانِ ملت کا رہنما، اقبال رخصت، رخصت، الوداع، الوداع، سلام الله عليك ورحمته الى يوم التلاق !
ربیع الاول 1357ھ
مئی 1938ء(یاد رفتگاں ،ص،181-18)
کلام اقبال کا امتیازی پہلو:
وہ جب زندگی کے مسائل سے بحث کرتا ہے اور فلسفے کی گتھیاں سلجھاتا ہے ، تو اس کی حیثیت کچھ عجیب سی ہو جاتی ہے، زندگی کے مسائل سے وہ لوگ بھی بحث کرتے ہیں جن کا پیشہ قیادت اور رہنمائی ہے، جو اقتصادیات
ومعاشیات کے عالم ہیں، جو سیاست بین الاقوام کے امام ہیں، لیکن ان کے ایک ایک بول اور ہر ہر لفظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے ، جیسے یہ زندگی سے خائف ہیں، اس سے ڈرتے ہیں، جھجھکتے ہیں ، اس کی خاطر اسے خوش کرنے کے لئے اسے حاصل کرنے کے لیے ، یہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ان کے قدم جب بھی اُٹھتے ہیں، تو یہ کچھ تھکے تھکے سے ، ہراساں ہراساں سے، سہمے سہمے سے نظر آتے ہیں ، یہی حال ان لوگوں کا ہے، جو فلسفے کی گتھیاں سلجھاتے ہیں وہ ڈور کی گرہیں کھولتے ہیں، لیکن ڈور کا سرا نہیں ملتا، وہ فلسفہ حیات و مابعد الطبیعات سے بحث کرتے ہیں، لیکن کچھ اور الجھنیں پیدا کر دیتے ہیں ۔ کچھ نئے مسائل پیدا کر دیتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو فلسفہ کے سامنے سپر افگندہ ہو چکے ہیں، جو فلسفہ سے مرعوب ہیں، جو فلسفہ کا اتنا ہی احترام کرتے ہیں، جتنا ایک سپاہی سپہ سالار کا ، اور جو فلسفے سے اتنے ہی ترساں و لرزاں ہیں جتنا ایک اچھوت برہمن سے اور جو فلسفہ کو اتنا ہی ناگریز سمجھتے ہیں جتنا ایک مے خوار ، بادہ گلرنگ کو ، لیکن اقبال کی شان مختلف ہے ، وہ زندگی کے مسائل سے اس طرح بحث کرتا ہے، جس طرح ایک فاتح اور کشور کشا، اپنے باج گزاروں اور مفتوحوں سے مخاطب ہوتا ہے ، وہ فلسفہ کے سامنے سپرافگندہ نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ وہ فلسفی نہیں ہے، وہ فلسفہ ساز ہے، فلسفہ گر ہے، اس کی جولان گاہ افکار میں فلسفہ تخلیق ہوتا ہے، اور وہاں سے ڈھل کر اس طرح نکلتا ہے جیسے ٹکسال سے سکہ,اس کی کارگاہ فکر میں فلسفہ کے نظریے اس طرح تراشے جاتے ہیں، جس طرح جوہری کی کارگاہ سے ہیرا ترش ترشاکر، نئے آب و رنگ اور شان وجمال کے ساتھ گاہکوں کے ہاتھ میں جانے کے لئے دکان پر پہنچتا ہے ۔ وہ زندگی پر بھی حکومت کرتا ہے اور فلسفہ پر بھی۔ وہ زندگی کے لئے قالب کا سانچا بناتا ہے۔ وہ فلسفہ کو جلا دیتا اور نکھارتا ہے ، دونوں اس کے محکوم ہیں، تابع ہیں ، دست نگر ہیں ۔ وہی زندگی جو دوسروں کے ہاں روکھی پھیکی نظر آتی ہے، اقبال کے تصرف میں آکر اس کی قیمت بھی بدل جاتی ہے اور قسمت بھی، اب یہی زندگی، رعنائی کا پیکر اور برنائی کی تمثیل بن جاتی ہے ، وہی فلسفہ جو دوسرے فلاسفہ کے ہاں” فیل مست بے زنجیر” نظر آتا ہے اقبال کے دربار میں اس کی حیثیت مور ناتواں سے زیادہ نہیں ۔ وہ فلسفہ کے طالب علموں کو نہیں مخاطب کرتا ، نہ فلسفہ کے مریدوں کی طرف روئے سخن کرتا ہے وہ وقت کے فلاسفہ کو ٹوکتا اور اپنی حکمت سے فلسفہ کو نیا آب و رنگ عطا کرتا ہے ۔
اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ وہ بصارت بھی رکھتا ہے اور بصیرت بھی، فراست کا حامل بھی ہے اور ذکاوت کا بھی، وہ نزدیک بین بھی ہے ، اور دور اندیش بھی ۔( اقبال اپنے آئینے میں ،ص،39-41)
مثنوی رموز بیخودی ،اقبال کے
فلسفہ اور پیام کی روح ہے ،جس نے اسے سمجھ لیا اس نے اقبال کو سمجھ لیا- یہ کتاب انہوں نے بڑے ولولہ اور ہمہمہ کے ساتھ ملت اسلامیہ کی خدمت میں پیش کی ہے ،اور اپنی ملت کو مخاطب کرکے انہوں نے آغاز اسلام سے پہلے دو دو باتیں کی ہیں ،ان باتوں میں اپنا ذکر بھی ہے اور قوم کا بھی-وہ اپنی ملت سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اے ترا حق خاتم اقوام کرد!
بر تو ہر آغاز انجام کرد!
خدائے بزرگ و برتر نے تجھے یہ عزت بخشی ہے کہ تو فاتح اقوام ہے ہر آغاز کاانجام ہے ہے ،تو آخر الزماں صلی الله عليه وسلم کی امت ہے ،جس طرح محمد کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،اسی طرح امت اسلامیہ کے بعد کوئی قوم نہیں نمودار ہوگی ،یہ آخری قوم ہے جو تعلیمات الہی اور ہدایات نبوی کی روشنی میں دنیا کی اصلاح و ہدایت کے لئے بھیجی گئی ہے-( ایضا ،ص،495)
"نقوش اقبال” ( مصنفہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ) کے دیباچہ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی تحریر فرماتے ہیں کہ:-
محمد بھی ترا جبریل بھی قرآن بھی تیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا”
یہ وہ عظیم شاعری ہے جو صحف سماوی کی مانند لا زوال ہوتی ہے اس لئے انہیں صحائف کی دی ہوئی اور انہیں کی ترجمانی ہوتی ہے یہ شاعری مذہب کو تہذیب سے تہذیب کو مذہب سے اور دونوں کو زندگی سے مربوط، مستحکم اور تازہ رکھتی ہے- اردو شاعری میں اقبال کا یہی مرتبہ ہے-
ڈاکٹر تارا چند نے اپنی کتاب
” تاریخ تحریک آزادی ہند ” کی جلد سویم ( انگریزی ) میں ایک باب پنجم ” مسلم افکار اور سیاست” قائم کیا ہے- اس کا اہک ضمنی عنوان” اقبال” صفحہ 253 پر ہے اس میں وہ لکھتے ہیں :” بیسوی صدی میں ہندوستان کے اندر رہنمایان مسلم افکار میں جو سب سے زیادہ عظیم تھا اور جس نے سب سے زیادہ اثر ڈالا وہ محمد اقبال تھے”-
اقبال نے اپنی بات کو تو ایک جگہ” قدسی الاصل” کہا ہے-” جواب شکوہ” یہ دو ابتدائی شعر دیکھے-
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں ،طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پر گزر رکھتی ہے
علوم مغرب سے متعلق علامہ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر تاثیر مرحوم نے نہایت عمدہ بات کہی:”مقالات یوم اقبال ” کے دہباچے میں آپ لکھتے ہیں :” اقبال نے یورپی تہذیب کی روح تک پہچنے کی کوشش کی اور اور اسلام کو جدید یورپی خیالات کی روشنی میں پیش کیا-” ڈاکٹر تاثیر کے یہ چند الفاظ اقبال کو پوری طرح سمجھنے کے لئے ایک چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور دراصل جو کچھ تاثیر مرحوم نے کہا ہے وہ خود علامہ کے اپنے افکار ہی کا پرتو ہے- اقبال اپنی تصنیف”اسلام میں افکار الہیہ کی تشکیل جدید ” میں لکھتے ہیں،”تاریخ جدید کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آج دنیائے اسلام بڑی تیزی کے ساتھ مغرب کی طرف گامزن ہے – مغرب کی طرف اس جادہ پیمائی میں کوئی خرابی نہیں ہے… اندیشہ صرف یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم مغرب کی ظاہری چمک دمک ہی سے مسحور ہو جائیں اور مغربی تہذیب کی گہرائی تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہ جائیں- اس کے ساتھ ہی علامہ فرماتے ہیں ،” ہمارے سامنے واحد راستہ یہی ہے کہ ہم علوم جدید کی جانب ایک مودبانہ اور آزادانہ رویہ اختیار کریں اور انہی علوم کی روشنی میں تعلیم اسلام کو سمجھیں”( اقبال اور مغربی مفکرین ،ص،13- 14)
الغرض جس طرح کہ اسلام انسان کے ہر شعبہ حیات پر حاوی ہے اور اس کے لئے ایک واضح تعلیم رکھتا ہے ،اقبال نے بھی انسان کے ہر شعبہ حیات پر نظر ڈالی ہے اسے پرکھا اور جانچا ہے اور اسی تعلیم کو خوب صورت شاعری میں ہیش کیا ہے اور یہی شاعر اقبال کا مذہب ہے-
بلاشبہ اقبال دنیا کے ان گنے چنے چند شاعروں میں ہیں جنہوں نے غلامی کی اندھیری رات میں اپنے ملک کی ہی نہیں پورے ایشیا کی آزادی کا خواب دیکھا ،پورے عالم انسانیت کی نجات اور روحانی آسودگی اور بالیدگی کی فکر کی اور اس لحاظ سے عالمی ادب ہی نہیں عالمی فکر میں ان کا مقام ہے- اس کوشش میں اردو شاعری کو بھی اقبال کے ذریعے نئ جہت مل گئی اور فکر و فن کے نئے امکانات سامنے آئے- ( مطالعہ اقبال،ص،6)
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اقبال نے نہ صرف اردو شاعری کو ایک نئی فکری جہت عطا کی بلکہ اس کے دامن کو وسعت بخشی۔ اُن کے ذریعے شاعری محض حسن و عشق تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک فکری تحریک، ایک دعوتِ عمل اور ایک انقلابی منشور کی شکل اختیار کر گئی۔ اسی لیے اقبال کی آواز آج بھی زندہ ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی ان شاء اللہ زندہ رہے گی
