بارہ بنکی (نمائندہ خصوصی ڈاکٹر شارب موراویں): کربلا سول لانس بارہ بنکی میں جناب سید عمران رضوی صاحب کی والدہ محترمہ کی برسی کے موقع پر مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف ذاکر اہل بیت مولانا سید سعید الحسن نقوی صاحب نے خطاب فرمایا۔

مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسے مولانا ہلال عباس صاحب قبلہ نے انتہائی دلنشیں انداز میں پیش کیا۔ اس کے بعد پیشخوانی کے دور میں معروف شاعروں نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا جن میں استاد شاعر ڈاکٹر رضا موراویں صاحب، سعید زیدپوری، اجمل کنتوری، ڈاکٹر محب موراویں اور مظفر امام صاحب شامل تھے۔

خاندانی ہم آہنگی کا پیغام:

مولانا سید سعید الحسن نقوی صاحب نے اپنے خطاب میں گھریلو زندگی میں ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ "جب خاندان میں کوئی نیا فرد شامل ہوتا ہے تو ذمہ داریوں کی تقسیم ضروری ہوتی ہے۔ کام کی منصفانہ تقسیم سے نہ صرف گھر کے نظام میں بہتری آتی ہے بلکہ خاندانی تعلقات بھی بہتر ہوتے ہیں۔”

گھریلو ذمہ داریوں کا اسلامی تصور:

مقرر نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام کے گھریلو نظام کو بہترین مثال قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ "آپ دونوں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ گھر کے اندر کے کام حضرت فاطمہ زہرا کے حوالے تھے اور باہر کے کام حضرت علی علیہ السلام کے ذمہ تھے۔ یہ تقسیم کار ہی درحقیقت خاندانی کامیابی کی کنجی ہے۔”

انسانی رشتوں کی اہمیت:

مولانا نقوی نے انسانی رشتوں کی sanctity پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ "قرآن مجید نے رشتوں کو خاص اہمیت دی ہے۔ سب سے پہلا رشتہ جو کائنات میں وجود میں آیا وہ زوجیت کا تھا، جو انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو اللہ کی عطا کردہ نعمت سمجھتے ہوئے ان کی قدر کرنی چاہیے۔”

عملی زندگی کے لیے رہنمائی:

خطاب کے دوران انہوں نے حاضرین کو نصیحت فرمائی کہ "کام کرتے وقت دوسرے کے جذبات اور حالات کو مدنظر رکھیں۔ فعال رہنا صحت کے لیے بھی مفید ہے اور خاندانی تعلقات کے لیے بھی۔ ہمیں کبھی بھی اپنے اوپر یا دوسروں پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔”

مجلس کے آخر میں دعائے فرج پیش کی گئی جبکہ شرکاء کے لیے تام کا اہتمام بھی کیا گیا۔ مجلس میں شہر کے معززین، علمائےدین اور کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

اختتام پر خصوصی دعا:

مجلس کے اختتام پر مرحومہ کی مغفرت اور تمام حاضرین کے لیے دعائے خیر کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے