بیدر۔ 13؍نومبر (محمدیوسف رحیم بیدری): سابق ایم ایل سی جناب اروندکمارارلی نے ڈپٹی کمشنر بیدر کو ایک مکتوب لکھ کر ضلع کے گناکسانوں کے گنے کی قیمت فی ٹن 3000(تین ہزار) روپئے مقرر کرنے کامطالبہ کیاہے۔انھوں نے اپنی یادداشت میں لکھاہے ضلع بیدر کے کسان پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس سال ضلع بیدرمیں شدید بارشوں کی وجہ سے ان کی تمام تجارتی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ان کا درد بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کسان ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اب وہ گنے کی فصل کا ریٹ طے کرنے کے لیے شوگر فیکٹریوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کسان زیادہ قیمت نہیں مانگ رہے ہیں۔ تاہم، مشکل وقت میں، کسان اپنی اگائی ہوئی فصل کی مناسب قیمت مانگ رہے ہیں۔ وہ اپنی محنت کا اجر مانگ رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کسانوں کی فریاد پر آگے آئی ہے اور ریکوری کی بنیاد پر امدادی قیمت مقرر کی ہے۔ حکومت کے مطابق، ضلع کے کارخانے کے صدور/مالکان کو چاہیے کہ وہ 2950 روپئے فی ٹن گنے کی کم از کم قیمت کا اعلان کریں۔جناب ارلی نے کہاہے کہ فیکٹریوں کو سرکاری امدادی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کرنا چاہیے، جس سے کل 3000/- روپے بنتے ہیں کیونکہ ضلع کے کسی بھی کارخانے میں 10 فیصد نفع سے کم نہیں ملتا اور درست طریقے سے کرش ہونے پر 11.5 فیصد تک وصول کیا جاسکتا ہے، لہٰذاکم ازکم 3000 روپے فی ٹن دینے کے اقدامات کیے جائیں۔
