کلبرگی 17 / نومبر: مجیب علی خان کلچرل ڈیولپمنٹ سوسائٹی گلبرگہ نے قومی یومِ صحافت کے موقع پر ممتاز صحافی ڈاکٹر ماجد داغی کی صحافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر منظور احمد دکنی لکچرر شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی اور انجنئیر ایس زیڈ عارفین عرف وسیم عارف صاحب کے ہاتھوں انہیں یادگار مومنٹو اور توصیفی سند عطا کی ۔ اس موقع پر جناب مجیب علی خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1978 میں پریس کونسل آف انڈیا (Press Council of India) کے قیام کے بعد سے ہم 16 / نومبر کو ہندوستان بھر میں قومی یومِ صحافت کے طور پر مناتے ہیں اور اس خوشگوار موقع پر ہمیں ڈاکٹر ماجد داغی کی طویل مدتیی صحافتی خدمات کے اعتراف کے ساتھ انہیں تہنیت پیش کرتے ہوئے مسرت محسوس کرتے ہیں۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ 2006 میں اردو صحافت میں انقلاب پیدا کرنے والی عظیم شخصیت مدیرِ اعلیٰ روز نامہ منصف حیدرآباد جناب خان لطیف محمد خان نے منصف آڈیٹوریم حیدرآباد میں انہیں ” ریاست کرناٹک کے ایکسیلینٹ صحافی” کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ جبکہ 2013 میں کرناٹک ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن بنگلور کی جانب سے ” گرنوبل” ، 2015 میں کرناٹک اردو رپورٹرز فورم بنگلور ، 2019 میں ” تعمیرِ ملت” اور سالانہ عرس شریف حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کے موقعوں پر بھی سجادگانِ بارگاہِ بندہ نوازؒ نے ان کی صحافتی خدمات کا اعتراف کیا ۔
                واضح رہے کہ ڈاکٹر ماجد داغی کی ادبی، سماجی اور ثقافتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے "گلبرگہ کے انمول رتن”، ” حیدرآباد کرناٹک کے انمول رتن” اور ” کارنجہ رتن” ایوارڈس کے بشمول ریاستی و قومی سطح پر سرکاری، نیم سرکاری اور باوقار اداروں، اکاڈمیز اور انجمنوں کی جانب سے انہیں اب تک 40 سے زائد ایوارڈس ، اعزازات اور توقیر و سنمان سے نوازا گیا ہے۔
               ڈاکٹرماجدداغی کی اب تک دس کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن میں دو کتابوں پر ریاستی اور ایک کتاب پر انہیں قومی انعام سے نوازا گیا.
               ڈاکٹر ماجد داغی حکومتِ کرناٹکا کے "کلیان کرناٹکا پردیشدا اتہاس رچناسمیتی”  اور "ضلع کنڑا جاگرتی سمیتی کے رکن ہیں۔ آپ دو مرتبہ کرناٹکا اردو اکاڈمی بنگلور کے رکن رہے، گزشتہ 27 برسوں سے خدمات انجام دے رہی ہمہ لسانی ادبی تنظیم "لوک ساہتیہ منچ” کے بانی معتمد اور موجودہ صدر اور جنوبی ہند کی انتہائی سرگرم انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے دوسری مرتبہ معتمد ہیں۔
                   حیدر آباد کرناٹکا کی غیر سیاسی تنظیموں کے مُتحدہ محاذ نے 4 / مارچ 2014 ء کو "وجئے اُتسو” کے موقع پر منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ تہنیت میں ان کی نمایاں سماجی خدمات کے اعتراف میں وزراء ڈاکٹر قمرالاسلام، ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل اور ڈاکٹر شرن بسوپپااپا چانسلر بسوا یونیورسٹی و دیگر کے ہاتھوں انہیں ” اعزاز برائے جہدکار 371 (جے) سے سرفراز کیا۔
ان کی ادبی، صحافتی و تدریسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی نے ” ڈاکٹر ماجد داغی حیات اور کارنامے” کے زیرِ عنوان تعلیمی سال 2021ء میں ڈزرٹیشن (Dissertation) قلمبند کروایا۔
ڈاکٹر ماجد داغی نے ادب، صحافت اور امن و بھائی چارہ سے متعلق کئی ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سِمِینارس ، کانفرنسوں اور کارگاہوں میں تحقیقی مقالات پڑھے اور یادگار توسیعی لکچرز دئے ، دوردرشن و مختلف چینلز اور ریڈیو پر خصوصی پروگرامس کی پیشکشی اور ملک کے مُؤَقَّر رسائل، جرائد اور اخبارات میں ان کے تحقیقی و تنقیدی مقالات کی اشاعتیں قابلِ ذکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے