غزل

نومبر 18, 2025

میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

جو شیطان آتا جائے گا
انساں سے ناطہ جائے گا

ممکن ہم سے تو نہیں یارو
کوئی غلط بھاتا جائے گا

دنیا کا دستور نرالا
کھوئے گا پاتا جائے گا

جس کو گانا آتانہیں ہے
وہ بھی تو گاتاجائے گا

ایسا یقین سلامت رکھے
پیسہ ہے آتا جائے گا

اس کوستانا کھونا ہے رزق
روٹھ کے ان داتا جائے گا

تیزہوا ہے شب کی اے میرؔ
سر سے یہ چھاتاجائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے