مکرمی! یہ حقیقت ہے کہ جب انسان اپنی طاقت و سیاست پر غرور کرنے لگتاہے تو اللہ تعالیٰ کو یہ تکبروغرور پسند نہیں آتاتو اس کے غرور کو تار تار کر کے رکھ دیتا ہے، تو دوسری طرف فریق مخالف کی عجز و انکساری کو بلندی عطا فرماتا ہے جیسا کہ بہار کے اس حالیہ الیکشن میں دیکھنے کو ملا، ملک کے محبوب و مقبول سیاسی لیڈراسدالدین اویسی نے متحدہ محاذ میں شریک ہونے کی خواہش ظاہر کی مگر متحدہ محاذنے ٹھکرادیا، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ متحدہ محاذ کو ایسی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی قطعا کسی کو امید نہیں تھی یہ درحقیقت متحدہ محاذ کی بہت بڑی کمزوری ہے کہ اسے اویسی کی طاقت کا اندازہ نہیں ہو سکاورنہ آج شکست فاش کا سامنا نہ کرنا پڑتا، اویسی کی بلندی کی بات ہیکہ ۲۵ سیٹوں پر محاذ آرائی کا اعلان کیا اور متحدہ محاذ سے صرف ۶ سیٹوں کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ وہ دس سیٹوں سے زائد کا بھی مطالبہ کر سکتے تھے اور اگر یہ مطالبہ پورا ہو جاتا تو جہاں دس سیٹوں پر کامیاب ہوتے وہیں درجنوں سیٹیں متحدہ محاذ کی بھی نکل سکتی تھیں مگر متحدہ محاذ کو اس ابھرتی ہوئی پارٹی کی طاقت و مقبولیت کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکا جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
اگر ایم ایم آئی پارٹی کی مقبولیت کا جائزہ لیاجائے تو یہ بڑی خود اعتمادی سے کہاجاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پارٹی کیلئے کروڑوں مسلمانوں کے دل میں جگہ کی ہے اور عام مسلمان و غیر متعصب برادران وطن کے دل میں اسکے لئے جگہ پیدا کردیا ہے، اسلئے آئندہ متحدہ محاذ کو اپنی صف میں شامل کر لینا چاہئے،نیز اویسی صاحب جو یوپی میں آنے کی بات کرتے ہیں یہاں بھی ان کیلئے زمین ہموارہے، یہاں سے بھی سیٹیں ان کی نکل سکتی ہیں اسلئے ایسے گوہر نایاب کو نظر انداز کردینا متحدہ محاذ کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔
اویسی تجھ کو سلام! تیری اس خود اعتمادی کو مبارکباد!اویسی تیری ایمانی غیرت کو سلام !اویسی تیری ایمانی فراست کو سلام!اویسی تیری مقبولیت و محبوبیت کو مبارکباد۔
خدا رکھے آباداں ساقی تیرے محفل کو
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا
فاروق نگر۔ کسیا۔ کشی نگر
