قفس میں قید پرندے اڑان بھول گئے
زمیں کی بات ہی کیا آسمان بھول گئے
سہارنپور (احمد رضا): شہر سہارنپور کی متحرک اور فعال ادبی تنظیم سُخن شناس کے زیرِ اہتمام ایک شاندار، پُر وقار اور خوبصورت شعری نشست کا انحقاد کیا گیا۔ شعری نشست کی صدارت معروف شاعر و صحافی ڈاکٹر رئیس کمال صاحب نے فرمائی۔مہمانِ خصوصی صاحبِ دیوان شاعر فیاض ندیم صاحب رہے۔ شعری نشست کی کامیاب نظامت کے فرائض بہترین شاعر اسلم محسن صاحب نے انجام دیئے۔صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر رئیس صاحب نے اُردو زبان کی زبوں حالی اور تنزلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم بظاھر تو اُردو زبان کے فروغ و اِرتقاء کی بات کرتے ہیں، مگر ہم اُردو دوستی سے کوسوں دور ہیں،آج بھی کچھ اُردو دشمن شاعر اپنا کلام ہندی میں لکھ کر لے جاتے ہیں جو مشاعروں اور نشستوں میں بڑے فخر کے ساتھ پڑھتے ہیں، آپنے فرمایا کہ  اگر ہمیں اُردو زبان کو زندہ و جاوید رکھنا ہے تو ہم سب کو اُردو رسم الخط کو ایمانداری سے اپنانا اور عام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپنا نعرہ بلند کیا، اُردو بو لئے، اُردو پڑھیئے اور اُردو لکھیئے۔ مہمانِ خصوصی فیاض ندیم صاحب نے کہا کہ ہمیں شعری محفلوں میں ادب و اکرام کو ملحوظِ خاص رکھنا چاہئے۔ ایک دوسرے کی عزت و توقیر کرنی چاہئے۔کیونکہ یہی تو ادبی محفلوں کا تقاضہ ہے۔
معروف استاد شاعرِ ڈاکٹر محمد احمد امجد نے فرمایا کہ ہم سب کو  اُردو زبان کے فروغ اور اِسکی چاشنی کو پھیلانے کیلئے معتدد ادبی شعری نشستوں کا متواتر انحقاد کرتے رہنا چاہئے ادبی تنظیم سُخن شناس کے بانی و جنرل سیکرٹری مترنم شاندار شاعر مرسلین حیدر صاحب نے ادبی تنظیم سُخن شناس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی، آپنے اپنی اُردو دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا حالانکہ میں انگلش کانونٹ اسکول سے پڑھکر آیا ہوں، جہاں اُردو ادب و تمدن کا بالکل بھی ماحول نہیں تھا۔ مگر اُردو زبان کی شگفتگی اور مٹھاس نے مجھے اسقدر متاثر کیا کے میں بس اُردو زبان کا ہوکر ره گیا ہوں۔اب صرف اُردو ادب و سُخن ہی میرا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔دعوتِ طعام کے بعد شعری محفل رات 9:30 بجے شروع ہوکر رات 1 بجے اختتام پذیر ہوئی۔
 شعری محفل کا آغاز فیاض ندیم صاحب کی نعت رسول مقبول صلی علیہ وسلم سے ہوا۔
روشن ہوا زمانہ مُحمّد کے نور سے
ہم روشنی میں آئے ہیں اُن کے ظہور سے
معزز قارئین کی خدمت میں شعراء اکرام کے منتخب اشعار پیش کئے جارہے ہیں۔
ابھی تو پلکوں پہ شعلوں کا رقص دیکھا ہے
دُھواں اُٹھے گا ابھی دِل سے تیری جاں سے نہیں
(سکندر حیات کیلاش پوری)
جھوٹ اتنی صفائی سے بولو
سچ کے چہرے پہ داغ آجائے
(ڈاکٹر محمد احمد امجد)
یہ کیا کہ مجھ سے تیرا واسطہ بھی نہیں
میرے لیئے تیرے دامن میں بدعا بھی نہیں
(ڈاکٹر رئیس کمال)
یہ تیرے حُسنِ کو تحفہ میں ملا ہے ربّ سے
آئینہ دیکھ کے نظروں کو جھکانے کا ہنر
(مرسلین حیدر)
میں نے جس روز سے جانا ہے تیرے بارے میں
اے سیاست تری فطرت نہیں اچھی لگی
(فیاض ندیم)
زندگی ڈور کی مانند ہے اُلجھی اُلجھی
جتنا سلجھاؤ اُسے اور اُلجھتی جائے(اسلم محسن)
جہاں اِک سنہرے باب کا آغاز ہونا تھا
وہی اوراق غائب ہیں کتاب زندگانی کے
(عادل تابش)
ضروری وقت کی تعلیم بھی ہے دین کے ساتھ
چراغ ہم نے جلائے ہیں اِس یقین کے ساتھ
(طاہر امین اکملی)
مجھے بچپن کی جب بھی چاہت یاد آتی ہے
تو پھر امی کی اور ابّو کی صورت یات آتی ہے
(ڈاکٹر عابد حسن وفا)
جو انساں سر اٹھا کر بولتا ہے
مقدر ہنس کے اُس پر بولتا ہے
(انور صابری)
میں چپ گزرا ہوں جن جن مرحلوں سے
مچائے شور واں فرہاد کتنا
(سلمان شہید)
مہمان کی تواضع جو کرنے لگا ہوں میں
روزی میں رزق میں میرے برکاتہ سی ہوگئی
(انصر سہارنپوری)
تیری رضا ہے ڈبو دے اُسے کہ پار لگا
بھنور میں ڈال دی کشتی تیری پناہو میں
(ڈاکٹر نوشاد حامی)
کالی گھٹا جب جُھوم کے آئی
دِل نے لی میرے انگڑائی
(افضال امیر)
شعری محفل میں معتدد سامعین نے شرکت فرمائی۔  شاہد سلمانی، عمران خان، ندیم احمد، عبدالقادر، سلمان قاضی، ہارون خان، فراز زبیری، شعیب زبیری، توقیر احمد، ضمیر احمد، ندیم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ آخر میں کنوینر مرسلین حیدر اور قاضی ثاقب نے شعری ادبی محفل میں شامل سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے