رخسانہ نازنین
بیدر
مدتیں ہوئیں قصر دل سونا پڑا تھا. کئی رتیں آئیں اور گئیں. لیکن اس میں کوئی مہماں ہوا نہ مکین بنا. حالانکہ یہ محل نوریہ کے صاف وشفاف جذبوں. نیک خیالات. پاکیزہ کردار. خلوص اور سادگی کے گلوں سے سجا تھا. لیکن اس قصردل کی خوبصورتی محسوس کرنے اور جاننے کی کسی نے ضرورت نہ سمجھی. لوگ چہروں پہ نظر رکھتے ہیں. دلوں کی خوبصورتی کون دیکھتا ہے. اسکے عام سے نقوش نیک سیرتی پہ حاوی رہے. حسن کی پرستش کرنے والے اسے نظرانداز کرتے رہے۔
وقت کا طائر محو پرواز رہا. ٹوٹتی بکھرتی نوریہ اپنی بے وقعتی کا عذاب سہتی رہی. اورعہد شباب گزرگیا. سونا دل اور سونی مانگ…. تنہائیوں کی اذیت… لوگوں کی ہمدردی کی آڑ میں چھپی طنزیہ باتیں… زندگی نے ان سوغاتوں سے خوب نوازا تھا….. والدین کی وفات کے بعدوہ اور بھی تنہا ہوگئی. کوئی ہمدرد تھا نہ غمگسار…… جینے کے لئے کوئی بہانہ چاہیئے تھا۔
پڑوس کے جاوید انکل بیٹوں کے پاس امریکہ چلے گئے اور اپنی کوٹھی اولڈ ایج ہوم کے نام کردی. اپنی اولاد کے ناروا سلوک اور خودغرضی سے بےگھر ہوئے ضعیفوں کا مسکن….. ہر چہرہ درد کی ایک کتاب…. ہر کہانی خون کے آنسو رلاتی….. نوریہ نے ان کی خدمت اور دیکھ بھال کرنے کا ذمہ لے لیا. یوں اسکا وقت گزر جاتا اور ان ضعیفوں کی دلجوئی بھی ہوجاتی. رفتہ رفتہ وہ ان تمام ضعیفوں کی ضرورت بن گئی. اور اسے بھی ان لوگوں کے بنا چین نہ آتا. نوریہ کی خدمت. خلوص اور اپنائیت سے متاثر وہ سب اس کے گرویدہ ہوچکے تھے. اس نے بھی خدمت خلق کے عظیم جذبے سے قصر دل سجا لیا۔
