میرؔبیدری۔ بیدر،کرناٹک
فریضہ یاد آنا چاہیے تھا
کہ سوتوں کو جگانا چاہیے تھا
جسے ملکہ سمجھ بیٹھے ہو دِل کی
اُسے بھی تو بتانا چاہیے تھا
میں اپنے آپ پر حاوی ہوں پیارے
کسے پھر ورغلانا چاہیے تھا
جسے سن کر پسینے چھوٹ جائیں
وہی قصہ بھُلانا چاہیے تھا
بھلے ہی اندرا کنٹین میں ہو
اُسے میٹھا کھلانا چاہیے تھا
چھپاتے کس طرح تم جرم اپنا
کہانی کو مٹانا چاہیے تھا
اپوزیشن بھی بلوہ دیکھتی تھی
اُسے بھی اک فسانہ چاہیے تھا
اسی سے میرؔ ڈیولپمنٹ ہوگا
مسلماں کو ستانا چاہیے تھا
