امن و صبر کا دامن تھامنے والوں پر ظلم و جبر کی گھنونی یلغار قابل مزمت!
سہارنپور (احمد رضا): عمر خالد اور شرجیل امام کے کیس سے جو بھی نتائج دو روز قبل برآمد ہوئے ہیں وہ پوری دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیئے ہیں اگر اب بھی آپ فرقہ پرستی کے خلاف کھڑے نہ ہوں گے تو روز بہ روز حالات مزید تشویشناک رخ اختیار کر سکتے ہیں اس لئے لازم ہے کہ قرآن مجید کی جانب لوٹ آؤ کیونکہ قرآن مجید ہی راہ نجات اور سر بلندی کا سر چشمہ ہے غور سے سنو قرآن مجید مکمل نظام حیات ہے ہر سنگین سے سنگین اور بد سے بد ترین حالات میں قرآن کریم جو راستہ دکھا رہا ہے وہی اصل راہ نجات ہے! مومن کے لئے بزدلی اور نا امیدی کفر ہے مومن حق کے لئے ہر وقت ہر صورت مظلوم کی حمایت میں کھڑا نظر آتا ہے اگر ظلم اور حق تلفی پر مومن خاموشی اختیار کر ے تو پھر آج از خد نتیجہ اخذ کریں کہ کیا ایمان کا کمزور شخص مومن کھلانے کے لائق ہے کہ نہی ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام کی آیات پیارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں اتارتے وقت لفظ بہ لفظ آنے والی قیامت تک کی مکمل انسانی زندگی کا ورق کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اور آج جو کچھ بھی ہم انسانوں کے سامنے پیش آ رہا ہے وہ لفظ بہ لفظ قرآن مجید سے ثا بت ہے ، قرآنِ حکیم کا فرمان حق ہیکہ ” آزمائے ہوئے کو آزمانا بیوقوفی” اصلی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا ہونے کا اصل سبب دین اسلام سے گمراہی دین اسلام کے احکا مات اور دین اسلام کی تعلیمات سے دوری بنائے رکھنا ہی ایمان کے کمزور پڑ جانے کی علامت ہے” ایمان کے کمزور پڑ نے سے ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اچھے برے کے درمیان اندازہ لگایا جا نا مشکل ہو جاتا ہے آج ملت اسلامیہ کی تنزلی اور پستی کی بنیادی وجہ سیرت النبی اور دین کی تعلیم سے نا واقفیت کے سواۓ کچھ بھی نہیں” یہ بات واضح رہے کہ اللہ رب العزت نے جس امت کے پاک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لئے اپنے عرش عظیم پر بلایا اور عزت افزائی کی اسلئے ہم پر یہ بڑی زمہ داری ہے کہ ہم جہاں مسلسل معجز ه معراج النبی کا جشن منائیں وہیں عام لوگوں کو اس عظیم الشان واقعہ کے عظمت اور اس معجزہ کے جامع پیغام کو لفظ بہ لفظ سمجھانے اور سکھانے کا بھی نظم بنائیں تاکہ حقیقی حالات سے ملت اسلامیہ کی نسلوں کو پیغام خدا وند کریم لفظ بہ لفظ سہی صورت میں پہنچایا جائے یاد رہے کہ جب تک ہم دین اسلام کی تعلیمات کو سہی طور سے نہی اپنائیں گے تب تک مکر و فریب سے گھر ے رہیں گے بزدل بنے رہیں گے کم عقل اور کم ظرف قوم ہمکو ڈراتی اور دھمکا تی رہیگی یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ دین حق پر چلنے والے افراد کی کوئی مدد کو آگے نہی آئیگا مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمتیں ہمیشہ دین حق پر چلنے اور قائم و دائم رہنے والوں کے ساتھ رہتی ہیں مشکلیں اور تنگیاں صرف اور صرف کچھ عرصہ کے لئے آتی ہیں صبر کرنے والے افراد کے لئے ایسی صورت حال بہت جلد چھٹنے لگتی ہے از خد حکم رب العالمین ہے "نصرم من اللہ و فتح قریب ” آج ملت اسلامیہ کی قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے جگہ جگہ مسجدیں اور مدارس اسلامیہ پر بلڈوزر چلا ئے جا رہے ہیں مزارات کو مسمار کیا جا رہا ہے دین اسلام کا مزاق اڑایا جا رہا ہے جگہ جگہ مسلم طبقہ کے خلاف نفرت ہی نفرت دیکھی جا رہی ہے شکایت کرنے والے کو جیل بھیج دیا جاتا ہے ظالم اور گنہگاروں کی سرکاری مشینری پشت پناہی کر نے میں سرگرم ہے نیز نبی کریم محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مسلسل گستاخی کرنے والے ظالم جابر آزاد گھوم رہے ہیں مسلم افراد پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مسلم افراد کو زندہ جلا کر راکھ کر دینے والے بھی آزاد ہیں ؟ آج جابروں اور ظالموں کو مسلم طبقہ سے نفرت ، حسد , آزان سے تکلیف ،نمازوں سے درد اٹھتا ہے مدارس اور مسجد یں انکو برداشت نہیں ہو رہے ہیں اب مسلم افراد انکو برداشت نہیں ہو ر ہے ہیں بے قصور جیلوں میں بند ہیں ظلم کرنے والے قاتل آزاد بلڈوزر مسلم آبادی پر خوب زور شور سے چلایا جا رہا ہے اسکے بعد بھی ہم مسلم خاموش بیٹھے ہوئے ہیں صبر کر رہے ہیں مگر برادشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اسلئیے اپوزیشن جماعتوں کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف صرف انصاف کے لئے مظلومین کی حمایت میں آگے آئیں یہ ملک ان سے زائد ہمارا ہے ہمارے بزرگوں اور اکابرین نے اس ملک کی آن بان ، شان و شوکت اور آزادی کے لئے حیثیت سے بڑھ کر جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں ہم کسی سے ڈرتے نہی مگر دین اسلام کے خلاف فساد اور تشدد سے بچنا اپنا پہلا فرض ما نتے ہیں مسلم افراد سے نفرت کرنیوالے حاسد ، جابر ،ظالم شاطر ایک بدزبان اور جاہل سادھو گنگا گر ی نے دو روز قبل مراٹھی زبان میں ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے پیارے نبی اکرم محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں شدید گستاخی کی ہے یہ گستاخی ہندوستان کی زمین پر میرے سردار حضور محبوب خدا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اب تک کی سب سے بڑی گستاخی اگر ہماری آنکھوں کے سامنے مسجدیں اور مدارس شہید ہوتے رہیں گے تو پھر اس زندگی کو مسلم نام دیکر جینے سے کیا فائدہ آپ یقین کریں کہ پچہلے 7 روز کے دوران اٹر پردیش ،مدھیہ پردیش ،بھار ، ممبئی ،پربھنی , حیدر آباد اور اتر کھنڈ کے ہلدوانی اور ہردوار اور پلاننگ کے تحت پولیس کی موجودگی میں حملے ہوئے مسلم افراد کو بری طرح سے ما رتے پیٹتے جے شری رام کانعرہ دینے پر مجبور کیا گیا وہیں ہلدوانی کے بنپھول پورا میں مسجد ،مدرسہ ،مزار شریف اور مسلم آبادی کے گھر اور دکانیں کو تحس نحس کر دیا گیا مسلمانوں پر سیدھی فائرنگ کی گئی جسمیں درجنوں زخمی ہوئے اور چھ نے موقعے پر ہی جان گنوادی ہے مگر اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی سبھی سیاست داں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں! قرآنِ حکیم کا فرمان ہے کہ ” آزمائے ہوئے کو آزمانا بیوقوفی” اصلی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا ہونے کا اصل سبب” دین اسلام سے دوری اور ایمان کا کمزور پڑ جانا ایمان کے کمزور پڑ نے سے ضمیر مردہ ہوجاتا ہے اچھے برے کے درمیان اندازہ لگایا جانا مشکل ہو جاتا ہے آج ملت اسلامیہ کی تنزلی اور پستی کی بنیادی وجہ دین کی تعلیم سے نا واقفیت کے سواۓ کچھ بھی نہیں” اللہ رب العزت نے جس امت کے پاک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے لئے اپنے عرش عظیم پر بلایا اور عزت افزائی کی اسلئے ہم پر یہ بڑی زمہ داری ہے کہ ہم جہاں مسلسل معجزه معراج النبی کا جشن منائیں وہیں عام لوگوں کو اس عظیم الشان واقعہ کے عظمت اور اس معجزہ کے جامع پیغام کو لفظ بہ لفظ سمجھانے اور سکھانے کا بھی نظم بنائیں تاکہ حقیقی حالات سے ملت اسلامیہ کی نسلوں کو پیغام خدا وند کریم لفظ بہ لفظ سہی صورت میں پہنچایا جائے یاد رہے کہ جب تک ہم دین اسلام کی تعلیمات کو سہی طور سے نہی اپنائیں گے تب تک مکر و فریب سے گھر ے رہیں گے بزدل بنے رہیں گے کم عقل اور کم ظرف قوم ہمکو ڈراتی اور دھمکا تی رہیگی یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ دین حق پر چلنے والے افراد کی کوئی مدد کو آگے نہی آئیگا مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور رحمتیں ہمیشہ دین حق پر چلنے اور قائم و دائم رہنے والوں کے ساتھ رہتی ہیں مشکلیں اور تنگیاں صرف اور صرف کچھ عرصہ کے لئے آتی ہیں صبر کرنے والے افراد کے لئے ایسی صورت حال بہت جلد چھٹنے لگتی ہے از خد حکم رب العالمین ہے "نصرم من اللہ و فتح قریب ” !
