بلوا سینگر(سنت کبیر نگر): سہ روزہ دعوت کے سابق مدیر، جماعت اسلامی ہند کے سینئر رکن، باوقار قلم کار اور ذمہ دار صحافت کی روشن علامت جناب پرواز رحمانی کے انتقال پر مدرسہ تجوید القرآن رکسا کلاں میں ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ اس نشست کی صدارت معروف صحافی سلمان کبیرنگری (ایڈیٹر: نئی روشنی) نے کی۔
تعزیتی نشست میں مرحوم کی دینی، صحافتی اور تحریکی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ شرکائے نشست نے اس بات پر زور دیا کہ پرواز رحمانی جیسے بااصول، نظریاتی اور ذمہ دار صحافی کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکتا۔ ان کی وفات نہ صرف جماعت اسلامی ہند یا اخبار دعوت بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محب الرحمن قاسمی نے کہا کہ مرحوم نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں اعلیٰ صحافتی اقدار، دیانت داری، فکری استقامت اور اعتدال کی درخشاں مثال قائم کی۔ انہوں نے کبھی سنسنی خیزی یا غیر ذمہ دارانہ صحافت کا سہارا نہیں لیا، بلکہ ہر حال میں حق گوئی اور توازن کو ترجیح دی۔ ان کا اسلوبِ نگارش شفاف، دوٹوک اور گہری بصیرت کا حامل تھا۔
پرواز رحمانی کا مشہور کالم "خبر و نظر” سیاسی و سماجی حلقوں میں خاص پہچان رکھتا تھا، جس کے ذریعے وہ حالاتِ حاضرہ کا اسلامی نقطۂ نظر سے تجزیہ پیش کرتے تھے۔ وہ جماعت اسلامی ہند کی اعلیٰ مجلسِ نمائندگان اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ان کی ادارت میں شائع ہونے والے دعوت کے خصوصی شمارے تعمیری اور باوقار صحافت کی بہترین مثال سمجھے جاتے ہیں۔
مرحوم کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع بلڈانہ کے شہر کھام گاؤں سے تھا۔ انہوں نے نوجوانی ہی میں جماعت اسلامی ہند کے سہ روزہ اخبار دعوت سے وابستگی اختیار کی اور پوری زندگی اس ادارے اور مشنِ صحافت کے لیے وقف کر دی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے وہ علیل تھے اور علاج کے دوران داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
تعزیتی نشست میں نوشاد احمد، عبد القدوس، نظام الدین، اخلاق احمد، نیاز احمد اور ابو الحسن ضیاء الدین سمیت دیگر احباب بھی موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے