محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ پرسکون زندگی
’’آپ پیچھے ہٹ رہے ہیں‘‘ توجہ دِلائی گئی۔ ’’صرف کچھ دن کے لئے ‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’مگر جو نقصان اس دوران ہوگا‘‘پوچھاگیا’’نقصان کے بغیر کام بن جائے ، یہ فارمولہ دنیا میں کہیں نہیں چلے گا‘‘اس کاجواب تھا۔پھرتو غصہ میں پوچھاگیا’’یعنی تم نقصان چاہتے ہو؟‘‘ اس نے آہستگی سے کہا’’پتہ نہیں،لیکن نقصان کی صورت قربانی بھی ضروری ہے ۔ میں چلتاہوں ‘‘ پھر وہ چلاگیا۔اس کے بعد وہ کئی سال تک اسکرین سے غائب رہا۔ سنا ہے اس دوران وہ کافی پرسکون زندگی گزارتارہا۔ایک موقع پر اس نے کہا ’’نہ چاہتے ہوئے بھی کئے جانے والے فیصلے نعمت غیرمترقبہ ہوتے ہیں، او راطمینان سے بڑھ کر کوئی نعمت بھی تو نہیں ہوتی، چاہے وہ نعمت ہمارے مخالف کو ملے‘‘
۲۔مثالی جوڑا
وہ وہی چاہتی تھی جو میں چاہتاتھا۔ پھر ہم نے ساری عمرایک دوسرے کی صحبت میں گزار دی۔آج ہمارے بچے بھی رشک کرتے ہیں کہ مثالی جوڑاہے۔ میں دراصل اپنے رب کوراضی کرناچاہتاتھا، اس کے علاوہ میری زندگی کامقصد کچھ اور نہیں تھا۔
۳۔ آخری ضدی
غلطیاں مجھ سے بھی ہوئیں۔ میں بھی غلط تھاکئی مقامات پر ، یہ احساس زندگی بھر رہا۔ اسی لئے تو کہیں معافی مانگ لی ۔ کہیں سے سرجھکاکرچلاآیا۔لیکن جہاں میں غلط نہیں تھاوہاں جھکنے کے بجائے اپناموقف رکھا۔ معترض کو سمجھایا بھی گیا۔کچھ گالی دے کر چلے گئے اور کچھ ہاتھ ملاکر معافی مانگتے ہوئے ۔ ان میں چندا یسے بھی تھے جو زندگی بھر نہ ملنے کے لئے چلے گئے لیکن ایسے دوہی شخص تھے ۔ وہ آخری ضدی یاد آتے ہیں۔
۴۔ چھوٹے چھوٹے قدم
’’خوشیاں چھوٹے چھوٹے قدموں سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔بڑے اقدامات تو خوشیاں نہیں خوشیوں کے حصول کے لئے انسان کو عمر بھر مصروف کردیتے ہیں ‘‘ابا یہی کہاکرتے تھے۔ آج جب ابا کی بات کا تجزیہ کرتاہوں تو مجھے قدموں سے اقدامات تک میں چھوٹے چھوٹے ’’قدم‘‘ اچھے لگتے ہیں۔ اورمیں ان قدموں کے پاس جاکر ایسے کھڑا ہوجاتاہوں، جیسے کوئی سہانا خواب دیکھ رہاہوں۔ دوست کہتے ہیں ، اسی لئے تو نے ترقی نہیں کی ڈفر لیکن جماعتی احباب کہتے ہیں، ’’دنیا کاغم نہ پالنا ، فرصت کے لمحات کاملنا یہ تو خدائی نعمت ہے ۔دنیوی مشغولیت کو بالائے طاق رکھنے کے لئے قوموں کی زندگیاں بیت جاتی ہیں ، لیکن قومیں ایسا نہیں کرپاتیں ‘‘۔میں دوستوں کی تنقید اور جماعتی احباب کی تعریف سے منفی یامثبت طورپر جھلایاہوایا متاثر نہیں ہوں۔ صرف یہ دیکھ رہاہوں کہ مجھے اطمینان چھوٹے چھوٹے اٹھائے گئے قدموں سے ملتا ہے۔اورمیں یہیں خود کوپاتا ہوں ۔
