سہارنپور( احمد رضا): اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے بیشتر علاقوں سے مسلسل مسلم افراد کے ساتھ پر تشدد واقعات کی دردناک خبریں موصول ہو رہی ہیں مگر سرکاری مشینری ایسے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کے بجائے صرف اور صرف مسلم افراد کے خلاف ہی ایکشن لینے پر بضد ہے غور کریں کہ ایک شدت پسند گروپ کے سربراہ للت شرما نے کہا کہ غازی آباد میں بجرنگ دل کے لیڈر بھو پندر چودھری اور دکش چودھری نے تلواریں بانٹ کر کچھ بھی برا نہیں کیا مسلم طبقہ کو سبق سکھانے کے لئے ہتھیار استعمال کرنا غلط نہیں ہے۔ اتراکھنڈ میں آزان اور نماز ادا نہی کرنے دیں گے مسلمان یہاں رہتا ہے تو ہمیں کسی بھی طرح سے برداشت نہیں ہے اتنا سب کچھ بکواس کرنے اور ہندو مسلم کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے بعد بھی اتراکھنڈ کی سرکار شدد پسند ہندو لیڈر للت شرما کے خلاف کچھ بھی کروائی کرنے کے لئے راضی نہیں ہے اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں یہ متیصب جابر افراد روز بہ روز نفرت اور تشدد کو بڑھا وا دینے والے بيانات جاری کر رہے ہیں نتیجہ کے طور پر مسلم آبادی میں خوف پھیلتا جا رہا ہے سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے! واضع رہے کہ لگاتار بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والی ریاستوں کے زیادہ تر ہندو شدت پسند گروپ کے افراد اپنی سوچ اور نفرت آمیز زبان کے ذریعہ اعلانیہ نفرت اور حسد کا زہر پھیلا کر مسلم آبادی کو ٹارگیٹ کرنے میں سرگرم ہیں مست ہاتھی کی مانند جب چاہے جہاں چاہے مسلم افراد کو دبایا اور کچلا جا رہا ہے دین اسلام کی تبلیغ ، مدارس اسلامیہ ، نماز ، آزان ، تبدیلی مذہب ، آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حجاب کے بہانے سے پچھلے بارہ سال سے مسلم آبادی پر بلڈوزر چلا کر سنگین نوعیت کا ( اسرائیلی طرز) ظلم اور جبر ڈھا یا جا رہا ہے، مہذّب دستور ی نظام سے چلنے والے جمہوری نظم و نسق والے اس ملک کے مختلف علاقوں میں 12 سالوں میں جس قدر ظلم اور جبر ملت اسلامیہ پر ہوتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے اسکو با ر با ر بیان کر پانا بہت مشکل ہے قابل احترام ہیں ملک کے تیس کروڑ مسلم عوام کے آج بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں سیاست وہ بھی سرکار ی سطح کی کہ جس میں مجرموں کو چھوٹ اور بیقصور مسلم آبادی کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے اور انکے گھروں اور تجارتی مراکز پر اعلانیہ بلڈوزر چلا یا جا رہا ہے جس وجہ سے ریاستوں میں مقیم عوام کے دلوں میں نفرت، تعصب، دشمنی، تنگ نظری میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے ہندو مسلم آبادی کے درمیان زبرست خلیج پیدا ہو رہی ہے واضع رہے کہ ہندو مسلم آبادی کے درمیان یہ دوریاں یہ تعصب اور دشمنی ملک کو تہس نہس کر کے رکھ دے گی! آپ کو یاد رہے کہ پچہلے 12 سالوں سے بھاجپا قیادت والی ریاستوں میں مسلم آبادی پر زندگی دشوار سے دشوار کردی گئی۔ مسلم آبادی پر مسلسل ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ہزاروں مکانات ، دکانات اور قیمتی سے قیمتی بلڈ گیں زمین میں ملا دی گئی مگر عدالتیں بھی خاموش اور اپوزیشن جماعتوں کی بھی زبانیں بند ہیں دین اسلام کی ہر بات میں شاید ان ہندو شدت پسند افراد کو اپنی ہلاکت نظر آرہی ہے تبھی تو یہ آزان ،نماز , قرآن مجید ،مساجد اور مدارس برادشت ہی نہیں کر پا رہے ہیں جگہ جگہ مسلم آبادی کے خلاف نفرت حسد اور پرانی دشمنی جیسا نظارہ دکھائی دے رہا ہے پتہ نہیں ہم سے کون سا بدلہ لیا جا رہا ہے سامنے آکر لڑنے کی ہمت اور حوصلہ نہی صرفِ اور صرفِ پولیس کی موجودگی میں پولیس کی طاقت پر پچھلے دس سالوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حد سے زیادہ ظلم و جبر فرعونیت کے طرز پر کئے جاتے ہیں!
