جامع مسجد اہلِ حدیث سلیمان مسجد، اٹوا بازار، ضلع سدھارتھ نگر (یوپی) سرکاری اسپتال کے سامنے تاریخ: 16 جنوری 2026ء خلاصہ خطبہ جمعہ قارئین کی خدمت میں افادہ عام کی خاطر پیش ہے۔
تحریر: حافظ صفی الرحمن فرقانوی
اٹوا بازار (سدھارتھ نگر یوپی)
آج جامع مسجد اہلِ حدیث سلیمان مسجد اٹوا میں خطبہ جمعہ کے موقع پر ایمان افروز اور فکر انگیز خطاب ہوا، جس میں دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا پیغام دیا گیا۔ یہ عظیم خطاب فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ (ناظم جمعیت اہلِ حدیث حلقہ اٹوا بازار، سدھارتھ نگر یوپی) نے نہایت حکمت، اخلاص اور دردِ دل کے ساتھ ارشاد فرمایا۔
فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے خطبہ کا آغاز اللہ رب العزت کی حمد و ثنا، اس کی کبریائی اور عظمت کے بیان سے فرمایا اور اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ تمام تعریفیں اسی ذات کے لیے ہیں جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انسانیت کی ہدایت کے لیے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور آپ ﷺ کو پوری کائنات کے لیے اسوہ قرار دیا۔
قرآن و احادیث کی روشنی میں اسراء و معراج کا عظیم معجزہ:
فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے واضح فرمایا کہ واقعۂ اسراء و معراج محض تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد اور عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (سورۃ الإسراء: 1)
آپ نے فرمایا کہ لفظ "عبدہ” اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ سفر جسم و روح کے ساتھ حقیقی تھا، محض خواب نہیں تھا۔
حدیث کی روشنی میں معراج کی تفصیل:
صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات کی روشنی میں بتایا کہ نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہو کر مسجدِ اقصیٰ تشریف لے گئے، وہاں تمام انبیاء علیہم السلام کو نماز پڑھائی، پھر آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔
یہ امامت اس بات کا اعلان ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء کے امام اور خاتم النبیین ہیں۔
نماز — معراج کا عظیم ترین تحفہ:
فضیلۃ الشیخ فخرالدین ریاضی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ معراج کا سب سے عظیم تحفہ نماز ہے۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں، پھر اللہ کی رحمت سے پانچ رہ گئیں، مگر اجر پچاس ہی کا برقرار رکھا گیا۔
حدیث کے الفاظ:
> فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً (صحیح بخاری)
قرآن کا حکم:
> وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ (سورۃ البقرہ: 43)
رسول اللہ ﷺ کا فرمان:
> بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ وَالشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ (صحیح مسلم)
نماز ایمان کی پہچان اور بندے کا اپنے رب سے مضبوط تعلق ہے۔
شبِ معراج اور بدعت سے اجتناب:
معراج کی کوئی متعین تاریخ صحیح سند سے ثابت نہیں، اور 27 رجب کو مخصوص عبادات نبی ﷺ اور صحابہؓ سے ثابت نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان:
> مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ایمان، قربانی اور جنت کی خوشبو:
انہوں نے معراج میں پیش آنے والے واقعات میں سے فرعون کی بیٹی کو کنگھی دینے والی کنیز کا مختصر واقعہ ذکر کر کے فرمایا کہ فرعون کی کنیز کے ایمان افروز واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان قربانی مانگتا ہے، مگر انجام جنت اور رضائے الٰہی ہے۔
اسراء و معراج کے عملی پیغامات:
اسراء و معراج پر ایمان رکھنا فرض ہے۔
رسول اللہ ﷺ تمام انبیاء کے رہبر ہیں۔
نماز ہر حال میں قائم رکھنا لازم ہے۔
بدعت سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
نجات صرف سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں ہے۔
اختتامیہ
آخر میں امتِ مسلمہ کی اصلاح، نماز کی پابندی اور ایمان کی مضبوطی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم واقعہ کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
