شاعر: سرفراز بزمی

ہوں جب سے ترے حلقۂ فیضان نظر میں

دنیا سمٹ آئی ہے مرے دیدہء تر میں

ہے قلزم ادراک کی موجوں میں تلاطم

اب چین میسر ہے سفر میں نہ حضر میں

اے گنبد خضرا کے مکیں وقت دعا ہے

کعبے کے مصلے ہیں کلیسا کے اثر میں

اے میر عرب شوکت و سطوت کی ڈھلی شام

ہر لمحہ سفر برق و شرر خوف و خطر میں

رکھ شیشہ ء دل گرد کدورت سے مصفی

مٹی کوئی رکھتا ہے کہیں کانچ کے گھر میں

گرداب کی موجوں سے صدف ہوتے ہیں سیراب

کچھ خیر کے پہلو بھی ہوا کرتے ہیں شر میں

اس شمع کی دنیا کو ضرورت ہے بہت آج

جو شیخ لیے بیٹھا ہے اللہ کے گھر میں

بزمی تن خاکی کا تقدس نہیں مطلوب

ہے عظمت گوہر کی بنا آب گہر میں

 

سرفراز بزمی

باطن کی روشنی، فکر کی وسعت اور روایت کی تازہ معنویت

سرفراز بزمی کی طرحی غزل کا جامع تنقیدی مطالعہ

محمد امین نواز

سرفراز بزمی کی یہ طرحی غزل اردو غزل کی کلاسیکی روایت سے مضبوط رشتہ قائم رکھتے ہوئے عصری شعور اور روحانی بصیرت کا ایک وقیع اور بامعنی اظہار بن کر سامنے آتی ہے۔ شاعر نے محض طرح کی زمین اور ردیف و قافیہ کی فنی پابندی کو نبھانا ہی اپنی تخلیقی ذمہ داری نہیں سمجھا، بلکہ اس سانچے کے اندر فکری وحدت، علامتی معنویت اور خیال کے تسلسل کو پوری دیانت داری کے ساتھ برتنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وصف اس غزل کو محض فنی مشق کے درجے سے بلند کرکے ایک سنجیدہ ادبی تخلیق کی سطح پر لے آتا ہے۔ اشعار میں پھیلا ہوا فکری ربط اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر کے یہاں خیال منتشر نہیں بلکہ ایک داخلی نظم و ضبط کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں پوری غزل ایک وحدتِ تاثر قائم کرتی ہے۔اس غزل میں عشقِ حقیقی محض ایک جذبہ نہیں بلکہ روحانی ارتقا کا وسیلہ بن کر ابھرتا ہے، جہاں ذات کی معرفت اور کائنات کے ادراک کا راستہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ شاعر مذہبی شعور کو تنگ نظری یا رسمی عقیدت تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اخلاقی تطہیر، باطنی صفائی اور انسانی اقدار کے فروغ سے جوڑ دیتا ہے۔ خیر و شر کا فلسفہ بھی محض تجریدی بحث کے طور پر نہیں بلکہ عملی زندگی کے تجربات کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے، جہاں آزمائش، اضطراب اور کرب کے پہلوؤں میں بھی خیر کے امکانات تلاش کیے جاتے ہیں۔ زبان کی شائستگی، تراکیب کی معنوی گہرائی اور اسلوب کی سنجیدگی مل کر اس غزل کو شعری وقار عطا کرتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ سرفراز بزمی روایت کی پاس داری کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے فکری تقاضوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔

غزل کا مطلع قاری کو فوراً شاعر کی داخلی اور روحانی دنیا میں داخل کر دیتا ہے اور ابتدا ہی میں اس کی فکری سمت متعین ہو جاتی ہے۔”ہوں جب سے ترے حلقہء فیضان نظر میں:: دنیا سمٹ آئی ہے مرے دیدہء تر میں“ میں شاعر نے جس”حلقہء فیضان“کا ذکر کیا ہے وہ کسی ظاہری تعلق، دنیاوی وابستگی یا رسمی نسبت سے کہیں بڑھ کر ایک باطنی رشتے اور روحانی وابستگی کی علامت ہے۔ یہ نسبت شاعر کے شعور پر اس قدر اثر انداز ہوتی ہے کہ کائنات کی وسعتیں اس کی نگاہ کے دائرے میں سمٹ آتی ہیں، گویا خارجی دنیا داخلی تجربے میں تحلیل ہو جاتی ہے۔”دیدہء تر“کی ترکیب محض آنکھ کی نمی تک محدود نہیں رہتی بلکہ عشق کی شدت، قلبی انکسار اور روحانی کیفیت کا جامع استعارہ بن جاتی ہے، جس میں جذبے کی حرارت اور معرفت کی لطافت یکجا ہو جاتی ہیں۔ اس شعر میں شاعر نے ذات سے کائنات تک کے سفر کو نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے، جہاں ایک فرد کا باطنی تجربہ پوری کائنات کے ادراک کا وسیلہ بن جاتا ہے، اور یہی کیفیت اس مطلع کو فکری اور جمالیاتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت عطا کرتی ہے۔

غزل کے دوسرے شعر میں شاعر کی فکری کیفیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جہاں اضطراب اور تشویش محض ذہنی بے چینی نہیں بلکہ شعوری ارتقا کی علامت بن جاتی ہے۔ ”ہے قلزمِ ادراک کی موجوں میں تلاطم:: اب چین میسر ہے سفر میں نہ حضر میں“ میں ”قلزمِ ادراک“کی ترکیب نہایت بامعنی اور گہری ہے، جو شاعر کے فکری افق کی وسعت اور شعور کی تہہ داری کو ظاہر کرتی ہے۔ یہاں ادراک محض معلومات یا سطحی علم کا نام نہیں بلکہ وہ گہرائی ہے جہاں فکر کی موجیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور ہر جواب نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اسی سبب شاعر کو نہ سفر میں سکون میسر ہے اور نہ حضر میں، کیوں کہ جستجو اب اس کی فطرت اور اس کا مقدر بن چکی ہے۔ یہ کیفیت اس روحانی سالک کی یاد دلاتی ہے جو حقیقت کی تلاش میں ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں قرار کا تصور ہی مٹ جاتا ہے اور اضطراب خود معرفت کی ایک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح یہ شعر اردو کی صوفیانہ شعری روایت سے مضبوط ربط قائم کرتے ہوئے فکر و احساس کے اس مرحلے کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے جہاں بے چینی ہی شعور کی زندگی کی علامت بن جاتی ہے۔

تیسرے شعر میں شاعر کی فکری پرواز ایک وسیع تر روحانی اور انسانی افق کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے، جہاں مذہبی شناختیں اپنی ظاہری حد بندیوں سے بلند ہو کر ایک ہمہ گیر روحانی وحدت میں ڈھل جاتی ہیں۔”اے گنبدِ خضرا کے مکیں وقتِ دعا ہے:: کعبے کے مصلے ہیں کلیسا کے اثر میں“ میں شاعر محض اسلامی مقدسات کا حوالہ نہیں دیتا بلکہ دعا کو ایک آفاقی روحانی عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ گنبدِ خضرا اور کعبہ اسلامی روحانیت کے مرکز ہیں، جب کہ کلیسا کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ اخلاص، بندگی اور دعا کی روح کسی ایک مذہبی دائرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسانیت کے مشترکہ شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ شاعر نے بڑی رمزیت کے ساتھ یہ پیغام دیا ہے کہ جب نیت خالص ہو اور دل دعا کے نور سے منور ہو تو عبادت گاہوں کی ظاہری تفریق اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ اس شعر میں رواداری، وسعتِ نظر اور انسان دوستی کا پیغام نہایت شائستہ اور باوقار اسلوب میں ادا ہوا ہے، جو شاعر کی فکری بلوغت اور انسانی قدروں سے گہری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

چوتھے شعر میں شاعر کا شعور تاریخ اور حال کے درمیان ایک بامعنی ربط قائم کرتا ہوا نظر آتا ہے، جہاں ماضی کی عظمت اور حال کا اضطراب ایک ہی شعری پیکر میں سمٹ آتے ہیں۔”اے میرِ عرب شوکت و سطوت کی ڈھلی شام:: ہر لمحہ سفر برق و شرر خوف و خطر میں“ میں ”میرِ عرب“محض ایک شخصی یا تاریخی حوالہ نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی، فکری اور روحانی ورثے کا استعارہ ہے، جو اپنی شان و شوکت کے ساتھ ذہن میں ابھرتا ہے۔ اس کے مقابل”شوکت و سطوت کی ڈھلی شام“زوال، آزمائش اور بدلتے ہوئے زمانے کی علامت بن کر سامنے آتی ہے، جہاں عظمت کی روشنی مدھم پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ برق و شرر، خوف و خطر جیسی تراکیب عصرِ حاضر کی بے یقینی، عدم تحفظ اور مسلسل کشمکش کی فضا کو نہایت شدت کے ساتھ نمایاں کرتی ہیں۔ شاعر یہاں محض ماضی کی شان پر حسرت نہیں کرتا بلکہ اس تاریخی شعور کو حال کے کرب سے جوڑ کر ایک زندہ اور متحرک کیفیت پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ شعر ایک اجتماعی اضطراب اور تہذیبی فکر کا بلیغ اظہار بن جاتا ہے۔

پانچویں شعر میں شاعر کا لہجہ وعظ یا خطابت کا نہیں بلکہ تجربے سے کشید کی ہوئی حکمت کا حامل نظر آتا ہے، جہاں اخلاقی تطہیر اور باطنی صفائی کو انسانی زندگی کی بنیادی شرط کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ”رکھ شیشہء دل گردِ کدورت سے مصفی:: مٹی کوئی رکھتا ہے کہیں کانچ کے گھر میں“ میں ”شیشہء دل“نہایت بلیغ استعارہ ہے جو انسانی دل کی نزاکت، شفافیت اور حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ”کانچ کا گھر“زندگی کی ناپائیداری اور وجود کی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر اس تقابل کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ جس طرح کانچ کے گھر میں مٹی رکھنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، اسی طرح آلودہ جذبات، حسد، کینہ اور نفسانی میلانات کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرنا ممکن نہیں۔ یہاں ”مٹی“محض ظاہری گندگی نہیں بلکہ وہ باطنی آلائشیں ہیں جو دل کی شفافیت کو مجروح کر دیتی ہیں۔ اس شعر میں نصیحت اس انداز سے ادا ہوئی ہے کہ وہ بوجھل محسوس نہیں ہوتی بلکہ فطری اور دل نشیں معلوم ہوتی ہے، جو شاعر کی فکری سنجیدگی اور اخلاقی شعور کا واضح اظہار ہے۔

چھٹے شعر میں شاعر خیر و شر کے باہمی تعلق کو نہایت متوازن اور بالغ نظر زاویے سے دیکھتا ہے، جہاں زندگی کے منفی تجربات بھی امکاناتِ خیر سے خالی نہیں رہتے۔”گرداب کی موجوں سے صدف ہوتے ہیں سیراب:: کچھ خیر کے پہلو بھی ہوا کرتے ہیں شر میں“ میں ”گرداب“بظاہر تباہی، خطرے اور ہلاکت کی علامت ہے، مگر شاعر اسی گرداب کو صدف کی سیرابی اور گوہر کی تخلیق کا سبب قرار دے کر معنی کی ایک نئی جہت پیدا کرتا ہے۔ یہ تصور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آزمائش، مصیبت اور کرب محض منفی تجربات نہیں بلکہ انسان کی فکری اور روحانی تربیت کے مراحل بھی ہو سکتے ہیں۔ شاعر کا یہ رجائی اور مثبت رویہ قاری کو مایوسی کے بجائے امید اور حوصلے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ شر کے پردے میں بھی خیر کے امکانات پوشیدہ ہوتے ہیں، بشرطیکہ نگاہ بصیرت سے کام لیا جائے۔ اس شعر میں فلسفیانہ گہرائی کے ساتھ ساتھ ایک عملی پیغام بھی موجود ہے، جو زندگی کے تلخ حقائق کو قبول کرتے ہوئے ان سے ارتقا کا راستہ تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ساتواں شعر شاعر کے سماجی شعور اور مذہبی فکر کی گہرائی کو نمایاں کرتا ہے، جہاں وہ نہایت شائستہ مگر معنی خیز انداز میں ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔”اس شمع کی دنیا کو ضرورت ہے بہت آج:: جو شیخ لیے بیٹھا ہے اللہ کے گھر میں“ میں ”شمع“علم، ہدایت، اخلاقی کردار اور روحانی روشنی کی علامت کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کی ضرورت آج کے پُرآشوب اور فکری انتشار کے شکار معاشرے کو سب سے زیادہ ہے۔ شاعر کا شکوہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یہ روشنی، جو دراصل پوری انسانیت کے لیے ہے، محدود دائرے میں قید ہو کر رہ گئی ہے اور عملی زندگی تک اس کی رسائی کمزور پڑ گئی ہے۔ اس شعر میں مذہبی پیشوائیت پر براہِ راست تنقید نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے کہ علم و ہدایت محض عبادت گاہوں تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کی فکری و اخلاقی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔ یوں یہ شعر سماجی بیداری، عملی کردار اور اخلاقی قیادت کی ضرورت کو نہایت وقار اور رمزیت کے ساتھ اجاگر کرتا ہے۔

مقطع میں شاعر اپنی فکری بنیاد اور تخلیقی شعور کو نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کر دیتا ہے اور یوں پوری غزل کے معنوی سفر کو ایک واضح انجام تک پہنچاتا ہے۔”بزمی تنِ خاکی کا تقدس نہیں مطلوب:: ہے عظمتِ گوہر کی بنا آبِ گہر میں“ میں شاعر جسمانی وجود، ظاہری ہیئت اور مادی نسبتوں کو ثانوی حیثیت دیتا ہے اور اصل قدر کو جوہرِ انسانیت، باطنی صفات اور روحانی بالیدگی سے وابستہ کرتا ہے۔”تنِ خاکی“انسان کے فانی اور ناپائیدار وجود کی علامت ہے، جب کہ”گوہر’“س کی داخلی صلاحیت، اخلاقی عظمت اور روحانی امکان کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی طرح”آبِ گہر“محض پانی نہیں بلکہ معرفت، تربیت، تجربے اور روحانی شعور کا استعارہ ہے، جو گوہر کو نکھارتا اور قیمتی بناتا ہے۔ اس مقطع میں شاعر نہ صرف اپنے تخلص کی معنوی توجیہ پیش کرتا ہے بلکہ پوری غزل میں بکھرے ہوئے فکری عناصر کو یکجا کرکے یہ واضح کر دیتا ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اس کے باطن کی روشنی میں مضمر ہے، اور یہی فکر اس غزل کا مرکزی اور دیرپا پیغام بن کر سامنے آتی ہے۔

مجموعی طور پر سرفراز بزمی کی یہ طرحی غزل فنی پختگی، فکری گہرائی اور زبان کی شائستگی کا ایسا متوازن اور ہم آہنگ امتزاج پیش کرتی ہے جو کم کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ شاعر نے بحر، زمین اور قافیہ و ردیف کی پابندی کو محض ایک فنی ذمہ داری کے طور پر نہیں برتا بلکہ انہیں اظہارِ خیال کے مؤثر وسیلے میں ڈھال دیا ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ معنوی وزن رکھتا ہے اور ساتھ ہی پوری غزل کے فکری دھارے سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے، جس کے باعث غزل میں وحدتِ تاثر پیدا ہوتی ہے۔ زبان کی صفائی، تراکیب کی برجستگی اور اسلوب کی سنجیدگی اس امر کی شاہد ہے کہ شاعر کلاسیکی روایت سے گہری واقفیت رکھتا ہے اور اسے شعوری طور پر برتنے کا ہنر جانتا ہے۔اس غزل کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ شاعر نے روایت کی پاس داری کرتے ہوئے اپنے عہد کے فکری اور سماجی سوالات کو نظرانداز نہیں کیا۔ عشقِ حقیقی، معرفت، اخلاقی تطہیر اور خیر و شر کے فلسفے جیسے ازلی موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ عصرِ حاضر کی معنوی الجھنوں اور روحانی تشنگی سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ غزل ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط پُل قائم کرتی ہے، جہاں کلاسیکی شعری اقدار جدید حسیت کے ساتھ ہم قدم نظر آتی ہیں۔ شاعر کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ روایت جامد نہیں بلکہ زندہ اور متحرک حقیقت ہے، جسے ہر دور میں نئے معنی عطا کیے جا سکتے ہیں۔انہی اوصاف کی بنا پر سرفراز بزمی کی یہ طرحی غزل محض ایک مشق یا فنی اظہار تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک بامعنی، فکری اور دیرپا تخلیق کے طور پر سامنے آتی ہے۔ قاری اس غزل میں نہ صرف جمالیاتی لذت محسوس کرتا ہے بلکہ سوچنے اور ٹھہر کر غور کرنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو کسی بھی تخلیق کو یادگار بناتی ہے اور شاعر کو محض روایت کا پیروکار نہیں بلکہ اس کا باشعور اور بامقصد امین ثابت کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے