(رمضان اسپیشل)
روزہ سائنسی اور طبّی ریسرچ میں بھی صحت و تندرستی کے لیے کافی مفید ثابت بتایا گیا ہے۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر۔
رمضان میں تیس روزے رکھنے سے انسان کی جسمانی اور روحانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
روزہ نہ صرف بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس دلاتا ہے بلکہ انسانیت کا درس بھی دیتا ہے۔ روزہ کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے نجات کا بہترین ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں لوگوں کو اپنے طریقے سے روزہ رکھنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ روزے کی اہمیت اور مفاد کو سائنسی نقطہ نظر نے بھی تسلیم کیا ہے۔
روزے کے پہلے دو دنوں سے خون میں شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے یعنی خون میں شوگر کے مضر اثرات کم ہو نے لگتے ہیں۔ دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ رگیں ذخیرہ شدہ گلوکوز خارج کرتی ہیں جس سے جسم میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ مادوں کی صاف صفائی کے پہلے مرحلے کے نتیجے میں سر درد، چکر آنا اور سانس کی بدبو ختم ہو جاتی ہے۔
تیسرے سے ساتویں روزے تک جسم کی چربی ٹوٹنے پھوٹنے لگتی ہے اور پہلے مرحلے میں گلوکوز میں تبدیل ہونے لگتی ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کی جلد نرم اور چکنی ہو جاتی ہے۔ جسم بھوک کے مطابق کام کرنے لگتا ہے اور یوں سارا سال مصروف رہنے والا نظام ہاضمہ ٹھیک ہونے لگتا ہے۔ خون کے سفید خلیات اور قوت مدافعت بہتر ہونے لگتی ہے۔ روزہ داروں کو شروعاتی دورمیں پھیپھڑوں کے معمولی مسائل سے دو چار ہونا پڑ تا ہے کیونکہ اس دوران مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہونے لگتا ہے۔ آنتوں اور دیگر اعضاء کی مرمت شروع ہو جاتی ہے اور آنتوں کی دیواروں پر جمع پیپ ڈھیلی ہونے لگتی ہے۔
آٹھویں سے پندرہویں روزے تک روزہ دار پہلے سے زیادہ قوت و توانائی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ وہ ذہنی طور پر بھی خود کو چاک چوبند اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کوئی پرانی چوٹ یا زخم ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
کیونکہ روزہ دار کا جسم خود کو محفوظ رکھنے میں زیادہ متحرک اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ جسم اپنے مردہ خلیات کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے جنہیں عام طور پر کیموتھراپی کے ذریعے مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے خلیات میں پرانی بیماریوں اور درد کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا فطری نتیجہ ہے جو کہ جاری مدافعت کی علامت ہے۔ اس سے بچنے کے لیے روزے داروں کو روزانہ نمکین پانی سے کلّی کرنا اعصاب کی اکڑن کا بہترین علاج ہو سکتا ہے۔
سولہویں سے بیسویں روزے تک انسانی جسم بھوک اور پیاس کا پوری طرح سے عادی ہو جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والے لوگ توانائی سے بھرپور اور صحت و تندرستی کا احساس کرتے ہیں۔ ان دنوں میں روزہ دار کی زبان بالکل صاف ہو جاتی ہے۔ سانس تازہ ہو جاتی ہے۔ جسم کے تمام زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں۔ نظام ہاضمہ خود کو ٹھیک کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم سے فاضل چربی کا اخراج ہونے لگتا ہے۔ جسم پوری قوت و توانائی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے لگتا ہے۔
بیس روزوں کے بعد دماغ اور یادداشت تیز ہو نے لگتی ہے۔ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہونے لگتاہے۔ درحقیقت اس دوران روزے دار کا جسم اور روح تیسرے عشرہ کی برکات کو مکمل طور پر محسوس کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
یہ ایک دنیوی فائدہ ہے جسے مولائے کائنات نے بلا شبہ روزے داروں کے مفاد کی خاطر فرض قرار دیاہے۔
رمضان المبارک میں روزانہ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرنے سے جسمانی اور ذہنی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نفس پر قابو پانے کی صلاحیت یعنی حواس کو تقویت ملتی ہے۔ روزہ برائی کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم میں پنپنے والے پرجیویوں یعنی سیلز کو ختم کرتا ہے۔ روزہ پرہیزگاری میں اضافہ کرتا ہے۔
لہٰذا یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اسلام پر مکمل یقین رکھنے والے مسلمانوں کو روزے کو فرض عبادت قرار دینے پر اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہیےجس سے نہ صرف ان کی دنیاوی زندگی بلکہ اُن کی آخرت کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ فراہم کیا گیا ہے۔
