بیدر۔ 21؍فروری (پریس نوٹ): اردو کے شاعر وصحافی اور دکنی زبان کے مبلغ شاعر جناب میرؔبیدری نے آج ’’عالمی یومِ مادری زبان‘‘ کے موقع پر ایک پریس نوٹ جاری کرکے کہاہے کہ ہرسال ’’عالمی یومِ مادری زبان‘‘ آتاہے جس کا پیغام اس کے سواکچھ نہیں ہے کہ انسانی گروہ ، انسانی طبقات اور انسانی مزاج دراصل کسی نہ کسی مشرقی یامغربی زبان(یاکئی زبانوں) سے محبت کرتاہے لیکن اس محبت سے قطع نظر اس کی اپنی ایک مادری زبان بھی ہوتی ہے۔ اور دیکھاجارہاہے کہ خصوصاً ہندوستانی کی لسانی اقلیت جو اردو اور دکنی زبانوں سے وابستہ ہے وہ اپنی مادری زبان سے مکمل بے وفائی پر تلی ہوئی ہے۔ جن کی مادری زبان اردو ہے وہ انگریزی میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جن کی مادری زبان دکنی ہے وہ بھی(ارد وکے بجائے) انگریزی میڈیم سے ہی تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس طرح وہ اس دنیا میں اپنی لسانی شناخت کے بغیر ترقی کرناچاہتے ہیں۔ ہندوستان کی لسانی اقلیت خصوصاًمسلمانوں نے سرسید احمد خان کے زمانے (دوسوسال قبل )سے ہی انگریزی زبان کو اختیار کرنے کی روش پرچل پڑے تھے ۔ انگریز ہندوستان چھوڑ کر 79سال ہونے آئے ہیں۔ پون صدی بعد بھی انگریزی زبان مسلمانوں کے دل کی زبان ،مسلمان معاشرے کی زبان ، یاان کی مذہبی اور ادبی زبان نہیں بن سکی۔سرسید احمد خان کازمانہ ملالیاجائے توتقریباً دوصدیاں (دوسوسال) ہوتی ہیں۔ جناب میرؔبیدر ی نے کہاہے کہ وہ زبانوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن مادری زبان کی افادیت اور اس کی عظمت کے قائل ہیں۔ ’’عالمی یوم ِ مادری زبان‘‘کے موقع پراولیائے طلبہ اور طلبہ ونوجوانوں سے بھی وہ اپیل کرتے ہیں کہ اپنی مادری زبان اُردو اور دکنی کووہی عزت اور عظمت بخشیں جس کی یہ زبانیں مستحق ہیں۔ ہماری نوجوان انگریزی کے حوالے سے اپنی برتری سوچ رہے ہیں۔ برتری زبانوںیاافراد کو تب ہی ملتی ہے جب سیاسی طورپر کوئی قوم برتری حاصل کرچکی ہو۔ لہٰذا کسی کنفیوژن میں مبتلا ہوئے بغیر اپنی مادری زبان اُردواور دکنی کی حفاظت کے لئے اولیائے طلبہ ، طلبہ اور نوجوان آگے آئیں۔ اُردو اور دَکنی تنظیموں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہرآن جاگتے رہیں اور اپنی نئی نسل کو اُردو اور دکنی کی خدمات سے واقف کراتے ہوئے ان دوزبانوں سے انھیں نئے سرے سے وابستہ فرمائیں۔ دُعا ہے کہ ُاردو اور دَکنی زبانیں جو ہندوستان کی اصلی اور خادم زبانیں ہیں، ان کا وقار بلند ہو، ان سے وابستہ طلبہ اور طالبات اور نوجوانوں کاوقار بھی ان ہی زبانوں کے ذریعہ سے بلند ہو۔ آمین
