ڈاکٹر محمد یوسف حافظ ابو طلحہ

مشرقِ وسطیٰ، جو نہ صرف عالمِ اسلام کا دھڑکتا ہوا قلب اور روحانی مرکز ہے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کا سب سے بڑا محور بھی ہے، اس وقت شدید کٹھن حالات اور گہری بیرونی سازشوں کا شکار ہے۔ فروری اور مارچ 2026 کے حالیہ لرزہ خیز واقعات نے مشرقِ وسطی ٰ کے موجودہ عالمی سیاسی منظرنامہ کو ایک انتہائی نازک، پیچیدہ اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا کردیاہے۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایران پر براہِ راست عسکری حملہ کیا، جسے امریکی سطح پر ”آپریشن ایپک فیوری” (Operation Epic Fury) اور اسرائیلی سطح پر ”آپریشن رورنگ لائن” (Operation Roaring Lion) کا نام دیا گیا۔ اس انتہائی تباہ کن حملے میں اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے عسکری اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ان کے ساتھ ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ ترین قیادت بھی ماری گئی۔اس تباہی اور قیادت کے صفائے کے بعد عبوری ایرانی حکومت مکمل طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی۔ اپنے داخلی مسائل اور عوام کے سامنے ہزیمت کو چھپانے کے لیے، ایران نے ”توجہ ہٹانے والی جنگ” (Diversionary War) کا حربہ استعمال کرتے ہوئے اس جنگ کا رخ ان پرامن خلیجی ممالک کی جانب موڑ دیا جن کا اس تنازعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
حالانکہ ایران کو جوابی کاروائی کے طور پر ان ہی جنگجو ملکوں تک اپنی کاروائی کو محدود رکھنا چاہیے تھا، مگر اس کے جواب میں ایران کی جانب سے مستحکم خلیجی ریاستوں پر میزائلوں اور ڈرونز برسائے گئے، اور برسائے جارہے ہیں، ایران زبردستی ان عرب خلیجی ممالک کو جنگ کی ایندھن بنارہاہے، اور ان ممالک کے رہائشی مقامات اور تجارتی مراکز پر حملہ کررہا ہے، جو بین الاقوامی قانون اور ہمسائیگی کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے-اور اس کا یہ طرزِ عمل اس منافقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل سے زیادہ خطے کے مستحکم اسلامی ممالک کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔
بہرحال! یہ جنگ ایک مستحکم سازش کی غمازی کر رہی ہے کہ عالمِ اسلام کو مستقل طور پر پراکسی جنگوں اور کشیدگی میں الجھا کر رکھا جائے تاکہ صہیونی طاقتیں ہر طرح کے اندیشوں سے محفوظ ہو کر اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکیں، اور عالم اسلام بدامنی کی آگ میں جھلستا رہے، پھر ہر طرح کی ترقیوں سے محروم دوسروں کی دستِ شفقت کا محتاج بنا رہے۔
اس انتہائی کشیدہ اور بارودی صورتحال میں جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام مغربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے بعض ادارے ایک منظم سازش کے تحت مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں تا کہ کسی طرح سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو اس کھلی جنگ کا فریق ثابت کیا جاسکے، اور خطے کے معاشی استحکام کو سبوتاژ کیا جا سکے۔اس پروپیگنڈے کی واضح ترین مثال فروری 2026 کے آخر میں مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ’ کی وہ من گھڑت اور گمراہ کن رپورٹ تھی جس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پسِ پردہ متعدد نجی فون کالز کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
اس رپورٹ کا واحد مقصد سعودی عرب کی ساکھ کو مجروح کرنا اور اسے خطے کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانا تھا۔تاہم، سعودی قیادت نے اس مذموم پروپیگنڈے کا فوری اور دو ٹوک جواب دیا۔ واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کے ترجمان فہد ناظر نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ سعودی عرب نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنے کسی بھی رابطے میں جنگ کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بلکہ مملکت کی مستقل پالیسی سفارتی بات چیت اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر مبنی رہی ہے۔ درحقیقت، عبرانی اور مغربی میڈیا کا یہ جنگی بیانیہ اس نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ خلیجی ممالک کی آزادانہ خارجہ پالیسی کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔
اس تمام تر عالمی دباؤ، میڈیا کے پروپیگنڈے اور ایران کی بلاجواز اشتعال انگیزی کے باوجود، مملکتِ سعودی عرب (رب العالمین اسے سلامت رکھے) کی قیادت، خصوصاً خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جس بے مثال بصیرت اور مدبرانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو رہا ہے۔سعودی عرب نے ایک تاریخی، دو ٹوک اور جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، اپنی فضائی حدود، اور اپنی بحری حدود کو کسی بھی بیرونی طاقت کو ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ سعودی ولی عہد نے ایرانی صدر مَسعود پِزِشکیان سے ٹیلی فونک رابطے میں براہِ راست اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ، اور واضح کیا کہ سعودی عرب خطے میں جنگ کی مخالف ہے اور پڑوسی ممالک کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتی ہے۔ بلکہ ہر خودمختار ریاست کی علاقائی سالمیت (Territorial Integrity) کا احترام کرتی ہے۔ سعودی عرب کی اس واضح پالیسی نے امریکی جنگی طیاروں کی پروازوں اور لاجسٹکس کو شدید محدود کر دیا ہے۔
اس بحران کے فوائد وتقصانات کو سمجھنے کے لئے ماضی قریب میں واقع بحران ”عرب خزاں” (جسے دنیا ”عرب بہار” (Arab Spring) کے نام سے جانتی ہے) سے درسِ عبرت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ 2011 میں جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی برابری کے دلفریب نعروں کی آڑ میں جو طوفان برپا کیا گیا، اس منظم مہم کے نتیجے میں شام، لیبیا اور یمن جیسے مستحکم ممالک اندرونی خلفشار اور بیرونی مداخلت کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔
شام کی مثال سب سے زیادہ عبرت ناک ہے، جہاں اس خانہ جنگی کے نتیجے میں 400,000 سے 500,000 کے درمیان اموات ہوئیں، 6 ملین سے زائد افراد اندرونِ ملک بے گھر ہوئے، اور معیشت کو 226 بلین ڈالر کا ہوشربا نقصان پہنچا۔ لیبیا اور یمن کا ریاستی ڈھانچہ بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا اور یہ ممالک متحارب ملیشیاؤں کا گڑھ بن گئے۔ اس تاریخی سانحے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی مستحکم عرب ریاستوں کے خلاف اندرونی بغاوتوں یا بیرونی فوجی مداخلت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تو اس کا نتیجہ اصلاحات کی صورت میں نہیں بلکہ ریاستی انہدام (State failure) اور طویل المدتی خانہ جنگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ آج اسی تباہ کن اسکرپٹ کو دہراتے ہوئے ان خلیجی ریاستوں کو جنگ میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے جو خطے میں معاشی ترقی اور استحکام کا آخری قلعہ ہیں۔
لیکن وہ قوم جو معدودے چندصحابہ کو چھوڑکر سارے صحابہ کو کافر سمجھتی ہے، سیدنا أبو بکر وعمر –رض- کو گالی دینا دین سمجھتی ہے، ام المؤمنین عائشہ –رض- پر بدکاری کی تہمت لگاتی ہے، قرآن کی تحریف کا عقیدہ رکھتی ہے، کربلاکو کعبہ سے ہزارہا گنا اعلی سمجھتی ہے اس قوم سے ملت اسلامیہ کے لئے کس خیر کی امید کی جاسکتی ہے؟ پوری تاریخ میں ملت اسلامیہ کو اس قوم سے شر ومصیبت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، ماضی قریب میں اس قوم نے صرف شام کے اہلسنت کے ساتھ جس درندگی کا مظاہرہ کیاہےکیا وہ عبرت کے لئے کافی نہیں ہے!!!
ضرورت ہے کہ ہم اس طرح کے پیچیدہ مسائل کو تاریخی حقائق کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں، جذباتی اور دلفریب نعروں کی روشنی میں نہیں-
دعا ہے کہ رب العزت بلادِ حرمین الشریفین، خلیجی ممالک اور تمام عالمِ اسلام کو دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور مکر و فریب سے محفوظ رکھے، اور ان کے امن و استحکام کو قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے