جامع مسجد سے خلافت ہاؤس تک ایک صدی پرانی روایت، تاریخ کے اوراق میں محفوظ یادیں اور کچھ تشنۂ جواب سوالات
جاوید جمال الدین
ممبئی کی تہذیبی اور سماجی تاریخ مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے باہمی میل جول سے تشکیل پاتی رہی ہے۔ اس شہر کی یہی کثیرالثقافتی شناخت اسے ہندوستان کے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ مذہبی تہوار ہوں، قومی تحریکیں ہوں، سماجی اصلاح کی کوششیں ہوں یا عوامی اجتماعات، ممبئی نے ہمیشہ مختلف طبقات کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ جشنِ میلاد النبی ﷺ بھی اسی شہر کی ایک ایسی مذہبی اور سماجی روایت ہے، جس کی جڑیں ایک صدی سے زیادہ پرانی تاریخ میں پیوست دکھائی دیتی ہیں۔
ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی ممبئی کے مختلف علاقوں میں محافلِ میلاد، نعت خوانی، درود و سلام اور دیگر مذہبی اجتماعات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب شہر کی سڑکوں پر جلوسِ محمدی ﷺ کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے افراد، مذہبی تنظیمیں، نوجوان، نعت خواں، سماجی کارکن اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔ سجی ہوئی گاڑیاں، ٹرک اور ٹمپو، ان پر درج مذہبی و اخلاقی پیغامات، درود و سلام کی صدائیں اور راستے میں پانی، شربت اور دیگر اشیاء کی سبیلیں اس روایت کو ایک وسیع عوامی رنگ عطا کرتی ہیں۔
لیکن ممبئی کے جلوسِ میلاد النبی ﷺ کی تاریخ صرف موجودہ منظرنامے تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ایسا تاریخی سفر ہے جس میں جامع مسجد ممبئی، خلافت کمیٹی، خلافت ہاؤس، تحریکِ خلافت، قومی تحریک، ہندو مسلم اتحاد، صحافت اور شہر کی مشترکہ تہذیب کے کئی ابواب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس روایت کے آغاز کے بارے میں ایک معروف بیانیہ موجود ہے، مگر حالیہ تحقیقی کوششوں نے اس کے بعض پہلوؤں پر سوال بھی اٹھائے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تاریخ کو جذبات کے بجائے دستاویزات، اخباری ریکارڈ اور دستیاب تاریخی شواہد کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
جامع مسجد: مذہبی اور علمی سرگرمیوں کا قدیم مرکز
ممبئی کی جامع مسجد کی تاریخ شہر کی مسلم تہذیبی زندگی سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ یہ مسجد محض نماز اور عبادت کی جگہ نہیں رہی بلکہ دینی تعلیم، علمی سرگرمیوں، مذہبی اجتماعات اور سماجی رابطوں کا بھی اہم مرکز رہی ہے۔
روایات کے مطابق جامع مسجد کے موجودہ مقام کے اطراف اٹھارہویں صدی میں باغات اور کھلی زمین موجود تھی اور یہاں ایک بڑا حوض بھی تھا۔ یہ زمین ایک کونکنی مسلمان تاجر سے منسوب کی جاتی ہے، جو گوا اور کالی کٹ کے ساتھ تجارت کرتا تھا۔ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں رضامندی کے وقت یہ شرط بھی سامنے آئی کہ وہاں موجود ٹینک کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ یوں وقت کے ساتھ یہ مقام ممبئی کی قدیم مسلم تہذیب اور مذہبی زندگی کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔
جامع مسجد سے وابستہ علما اور ائمہ کے علمی روابط بھی وسیع رہے۔ امام احمد رضا محدث بریلویؒ کے جامع مسجد کے علما سے تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔ 1315ھ میں جامع مسجد کے امام و خطیب اور مدرسہ محمدیہ کے صدر المدرسین مولانا محمد عبیداللہؒ کے انتقال پر امام احمد رضا نے عربی زبان میں ایک تاریخی اور درد انگیز نظم بھی تحریر کی تھی۔ مولانا عبیداللہ نے علمِ غیب کے موضوع پر تنبیہ الغفول عن علم غیب الرسول نامی رسالہ بھی تحریر کیا تھا۔
اسی علمی روایت میں مولانا محمد محسن فقیہ شافعیؒ کا نام بھی اہم ہے، جو جامع مسجد و مدرسے کے امام اور صدر مدرس رہے۔ بعد میں وہ پاکستان تشریف لے گئے اور وہاں دینی و علمی خدمات انجام دیں۔ فقہِ شافعی کے موضوع پر ان کی اردو کتاب زادِ آخرت بھی معروف ہے۔
یہ تمام حوالہ جات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جامع مسجد ممبئی میں مذہبی سرگرمیاں کسی محدود دائرے تک نہیں تھیں بلکہ یہ شہر کی مسلم علمی اور سماجی زندگی کا ایک وسیع مرکز تھی۔ اسی پس منظر میں یہاں جشنِ میلاد النبی ﷺ کی قدیم روایت کا ذکر بھی ملتا ہے۔
تحریکِ خلافت اور خلافت ہاؤس کا ظہور
بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سیاسی تبدیلیوں کے ایک بڑے دور سے گزر رہا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم، سلطنتِ عثمانیہ کے مستقبل، برطانوی استعمار اور ہندوستان کی آزادی کے سوالات نے سیاسی منظرنامے کو نئی شکل دی۔ اسی ماحول میں تحریکِ خلافت ابھری، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک بڑے سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور دیگر رہنماؤں نے تحریکِ خلافت کو منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مہاتما گاندھی کی حمایت نے اس تحریک کو ہندوستان کی وسیع تر قومی سیاست سے جوڑ دیا اور ایک ایسے دور میں ہندو مسلم اتحاد کی مثال سامنے آئی جب آزادی کی جدوجہد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جارہی تھی۔
ممبئی میں خلافت کمیٹی کا قیام اور اس کی سرگرمیاں اسی تاریخی پس منظر کا حصہ تھیں۔ جنوبی ممبئی کے بائیکلہ، مجگاؤں اور اطراف کے علاقوں میں خلافت ہاؤس ایک اہم سیاسی و سماجی مرکز بن گیا۔ یہاں قومی تحریک سے وابستہ افراد آتے، اجلاس ہوتے، مشاورت ہوتی اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے ساتھ ساتھ ملک کی آزادی سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا جاتا۔
وقت گزرنے کے ساتھ خلافت ہاؤس کی شناخت صرف تحریکِ خلافت تک محدود نہیں رہی۔ یہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات، سماجی سرگرمیوں اور مذہبی اجتماعات کا بھی مرکز بنتا گیا۔ اسی وسیع پس منظر میں جشنِ میلاد النبی ﷺ کے جلوس کا تعلق بھی خلافت ہاؤس سے جوڑا جاتا ہے۔
1919ء کا معروف دعویٰ اور تاریخ کا سوال
ممبئی میں جلوسِ میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے ایک معروف روایت یہ ہے کہ اس کا باقاعدہ آغاز 1919ء میں تحریکِ خلافت کے زمانے میں خلافت ہاؤس سے ہوا۔ اس روایت کو علی برادران، مہاتما گاندھی، تحریکِ خلافت اور ہندو مسلم اتحاد کی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے۔
یہ بیانیہ طویل عرصے سے مختلف حلقوں میں دہرایا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے تاریخی شواہد کے بارے میں اب سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاریخ کی دیانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی معروف روایت کو محض اس لیے حتمی نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ طویل عرصے سے بیان کی جارہی ہے۔ اس کے لیے اصل دستاویزات، اخبارات، سرکاری ریکارڈ اور دیگر تاریخی ذرائع کی جانچ ضروری ہے۔
1950ء کا ایک اہم دستاویزی ثبوت
اس تاریخی بحث کے درمیان ایک نہایت اہم دستاویزی حوالہ روزنامہ انقلاب کی 13 ربیع الاول 1369ھ، مطابق 2 جنوری 1950ء کی اشاعت میں ملتا ہے۔
واضح رہے کہ” میں نے 2000ء کی دہائی میں تحقیقی کام کے دوران روزنامہ خلافت کی فائلیں خلافت ہاؤس میں دیکھی تھیں۔ ان قدیم ریکارڈوں میں خلافت کمیٹی کا پتہ جنوبی ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے ڈونگری سے بھی منسلک درج تھا۔ اسی تحقیقی سلسلے میں سامنے آنے والے پرانے اخباری ریکارڈوں میں میلاد کے جلوس سے متعلق مواد بھی موجود تھا۔”
"دراصل2 جنوری 1950ء کے روزنامہ انقلاب کے صفحۂ اول پر مرکزی خلافت کمیٹی بمبئی کی جانب سے جشنِ میلاد النبی ﷺ کے جلوس کا باقاعدہ اعلان شائع ہوا۔ اس میں اسلامی جماعتوں، محفلوں، والنٹیئر کور، اکھاڑوں اور نعت خوانوں کو جلوس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔سعلان کے مطابق خلافت ہاؤس میں رسمِ پرچم کشائی کے بعد سہ پہر تین بجے جلوس روانہ ہونا تھا۔ جلوس مقررہ اسلامی علاقوں سے گزرتا ہوا مستن تالاب پر اختتام پذیر ہونا تھا۔ اسی روز شام چھ بجے ایک جلسے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔”
جلسے کی صدارت یاسین نوری کے سپرد تھی، جبکہ اس میں اس وقت کے بمبئی صوبے کے وزیرِاعظم بی جی کھیر، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیبؒ اور سکھ عالم گیانی مان سنگھ سمیت مختلف شخصیات کے خطاب کا اعلان کیا گیا تھا۔ شہر کے کانگریسی رہنماؤں کی شرکت کا بھی ذکر موجود تھا۔”
"یہ دستاویز اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ کم از کم 1950ء تک خلافت ہاؤس سے جشنِ میلاد النبی ﷺ کے جلوس کی روایت منظم اور مضبوط شکل اختیار کرچکی تھی۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ضرور فراہم کرتی ہے کہ آزادی کے بعد کے ابتدائی برسوں میں خلافت ہاؤس جلوسِ میلاد کے انعقاد کا ایک اہم مرکز تھا۔”
ایک جلسہ، متعدد مذاہب اور مشترکہ تہذیب
اس تاریخی جلسے کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت تھی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق سردار بجیت سنگھ، پرنسپل خالصہ کالج، نے مسلمانوں کو جشنِ میلاد النبی ﷺ کی مبارک باد پیش کی اور اسلام کی تعلیمات، انسانی کردار اور اخلاقی اقدار پر گفتگو کی۔
اس کے بعد مولانا محمد طیبؒ نے خطاب کرتے ہوئے مذہبی اختلاف کے باوجود انسانی بھائی چارے، عدل اور انصاف کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں عدل و انصاف کی تعلیم کو واضح کیا۔
یہ منظر اس دور کے ممبئی کی مشترکہ تہذیبی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ مذہبی شناخت اپنی جگہ موجود تھی، مگر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے تہواروں اور مذہبی جذبات کا احترام بھی کرتے تھے۔ یہی وہ روایت ہے جو ممبئی کے جشنِ میلاد کو محض ایک مذہبی اجتماع سے آگے لے جاتی ہے۔
جلوسِ محمدی: عقیدت سے سماجی روایت تک
وقت کے ساتھ جشنِ میلاد النبی ﷺ کا جلوس ممبئی کے مختلف علاقوں کی ایک بڑی عوامی روایت بن گیا۔ مختلف مکاتبِ فکر، مذہبی جماعتیں، محلے، سماجی تنظیمیں اور نوجوان اس میں شریک ہونے لگے۔ جلوس کے راستے میں لوگوں کی خدمت کے لیے پانی، شربت، مٹھائیاں اور کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی اس روایت کا حصہ بنتا گیا۔
سجی ہوئی گاڑیاں، ٹرک اور ٹمپو جلوس کی ایک نمایاں شناخت بن گئے۔ ان پر نعتیہ اشعار، درود و سلام اور امن، محبت، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے پیغامات درج ہوتے ہیں۔
اس روایت کا ایک اہم پہلو خدمتِ خلق بھی ہے۔ کسی مذہبی تہوار کا عوامی جشن جب ضرورت مندوں کی مدد، مسافروں کی خدمت اور شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں تبدیل ہوجائے تو اس کا دائرہ محض مذہبی تقریب سے کہیں وسیع ہوجاتا ہے۔
ممبئی جیسے کثیرالثقافتی شہر میں ایسے اجتماعات انتظامیہ اور مختلف برادریوں کے باہمی تعاون کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ بعض برسوں میں جلوسوں کے راستوں اور تاریخوں کے سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے دیگر بڑے مذہبی تہواروں، کے منتظمین سے بھی مشاورت کی جاتی رہی ہے۔ شہری نظم و ضبط کے ساتھ مذہبی آزادی اور باہمی احترام کا توازن قائم رکھنا ممبئی کی شہری روایت کا اہم حصہ رہا ہے۔
خلافت کمیٹی: سیاسی تحریک سے سماجی خدمت تک
خلافت کمیٹی کی تاریخی اہمیت صرف اس کے سیاسی ماضی میں نہیں بلکہ اس تسلسل میں بھی ہے جس نے اسے بعد کے ادوار میں سماجی اور عوامی سرگرمیوں سے جوڑے رکھا۔
خلافت تحریک کا سیاسی باب ختم ہوگیا، مگر خلافت کمیٹی اور خلافت ہاؤس کی شناخت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مختلف ادوار میں قومی سطح کے رہنما اور سیاست دان اس ادارے سے وابستہ تقریبات میں شریک ہوتے رہے۔
خلافت کمیٹی کے چیئرمین مرحوم ڈاکٹر رفیق زکریا کے دور میں بھی اس ادارے نے قومی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو برقرار رکھا۔ اندرا گاندھی کو مدعو کیے جانے اور 1978ء میں نئی عمارت کی بنیاد رکھے جانے کا حوالہ بھی اسی سلسلے میں آتا ہے۔ بعد کے برسوں میں راجیو گاندھی، ہیم وتی نندن بہوگنا، رام ولاس پاسوان اور مختلف علاقائی و قومی سیاسی شخصیات نے خلافت کمیٹی کی سرگرمیوں میں شرکت کی۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما شرد پوار بھی مختلف مواقع پر اس ادارے کی تقریبات میں شریک رہے اور دوبار ، جب وہ مہاراشٹر کے وزیرِاعلیٰ تھے، قیادت بھی کرچکے ہیں۔ یہ سلسلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلافت ہاؤس نے مختلف سیاسی ادوار میں بھی اپنی عوامی اور سماجی شناخت برقرار رکھی۔
ماضی کے ورثے سے مستقبل کی تعمیر تک
آج خلافت ہاؤس ایک نئے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ تقریباً 120 کروڑ روپے کی لاگت سے 17 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی تجویز، ہارٹ اسپیشلٹی اسپتال، بی ایڈ کالج، تعلیمی سہولتیں اور ممکنہ تاریخی و دستاویزی مرکز اس تعمیر نو کو ایک وسیع تر منصوبے میں تبدیل کرتے ہیں۔
اگر نئی عمارت میں تاریخی دستاویزات، پرانے اخبارات، تصاویر، خلافت کمیٹی کے ریکارڈ اور تحریکِ آزادی سے وابستہ مواد محفوظ کرنے کے لیے مستقل مرکز قائم کیا جائے تو یہ جگہ محققین، طلبہ، صحافیوں اور نئی نسل کے لیے ایک اہم علمی مقام بن سکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نئی تعمیر میں خلافت ہاؤس کی شناخت صرف عمارت کی صورت میں محفوظ نہ کی جائے بلکہ اس کی تاریخ کو بھی نمایاں کیا جائے۔ آنے والی نسل کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ جگہ کبھی ان لوگوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھی جنہوں نے آزادی، سیاسی بیداری اور قومی اتحاد کے لیے جدوجہد کی تھی۔
امجدی بانو بیگم کی قبر اور تاریخی احترام
تعمیر نو کے دوران ایک حساس معاملہ امجدی بانو بیگم سے منسوب قبر کا بھی ہے۔ امجدی بانو بیگم مولانا محمد علی جوہر کی شریکِ حیات تھیں اور تحریکِ خلافت کے دور میں انہوں نے اپنے شوہر کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔ وہ بی اماں کے ساتھ بھی آخری وقت تک وابستہ رہیں۔
خلافت ہاؤس کے احاطے میں موجود ایک قبر کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم سرفراز آرزو کے مطابق اس نسبت کی حتمی تاریخی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں علما و مفتیانِ کرام سے مشورہ کیا جائے گا اور اگر قبر کے باقیات کی منتقلی ضروری قرار دی گئی تو انہیں مکمل احترام کے ساتھ قریبی قبرستان منتقل کرکے دوبارہ دفن کیا جائے گا۔
یہ معاملہ صرف تعمیراتی ضرورت کا نہیں بلکہ تاریخی اور مذہبی احترام کا بھی ہے۔ اس لیے تعمیر نو کے دوران کسی بھی فیصلے میں مستند تاریخی تحقیق، مذہبی رہنمائی اور قبر کے تقدس کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
تاریخ کو محفوظ کرنے کا موقع
خلافت ہاؤس کی تعمیر نو دراصل ایک ایسا موقع ہے جس سے ماضی کی گم ہوتی ہوئی یادوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ خلافت کمیٹی کے پرانے ریکارڈ، روزنامہ خلافت کی فائلیں، اخباری اعلانات، تصاویر، خطوط، جلسوں کی تفصیلات اور مختلف قومی رہنماؤں کی شرکت سے متعلق دستاویزات اگر یکجا کرکے محفوظ کرلی جائیں تو یہ ممبئی ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کا قیمتی سرمایہ بن سکتی ہیں۔
اس سلسلے میں جامع مسجد کے ریکارڈ بھی اہم ہوسکتے ہیں۔ اگر جامع مسجد اور خلافت کمیٹی کے دستیاب ریکارڈ، پولیس کے پرانے ریکارڈ، اخبارات اور دیگر تاریخی ذرائع کو یکجا کیا جائے تو جلوسِ میلاد النبی ﷺ کے آغاز اور ارتقا سے متعلق بہت سے سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔
ممکن ہے تحقیق یہ ثابت کرے کہ اس روایت کے مختلف ادوار اور مختلف مراکز رہے ہوں۔ ممکن ہے جامع مسجد میں قدیم مذہبی روایت پہلے سے موجود رہی ہو اور بعد میں خلافت ہاؤس نے اسے ایک منظم عوامی اور سیاسی ماحول فراہم کیا ہو۔ تاریخ کے پیچیدہ سوالات کا جواب اکثر کسی ایک دعوے میں نہیں بلکہ متعدد شواہد کے باہمی مطالعے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
تاریخ کے دو بیانیے، تحقیق کا ایک راستہ
سینئر صحافی اور محقق سعید حمید نے اپنی تحقیقی کتاب The Untold Story of Khilafat House کی تیاری کے دوران تاریخی دستاویزات، پولیس ریکارڈ اور دیگر ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد اس معروف روایت سے اختلاف کیا ہے۔ ان کے مطابق ممبئی میں عید میلاد النبی ﷺ کا اولین جلوس خلافت ہاؤس سے نہیں بلکہ جامع مسجد ممبئی سے نکلا تھا اور اسے 1919ء میں خلافت ہاؤس سے نکلنے والا پہلا جلوس قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔
علی برادران اور گاندھی جی سے متعلق دعویٰ
سعید حمید کے مطابق یہ دعویٰ بھی قابلِ تحقیق ہے کہ خلافت ہاؤس سے نکلنے والے پہلے جلوس کی قیادت مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور مہاتما گاندھی نے کی تھی۔ ان کی تحقیق کے مطابق جس دور کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس وقت علی برادران جیل میں تھے، جبکہ مہاتما گاندھی کی جانب سے ممبئی میں اس نوعیت کے جلوس کی قیادت کا بھی مستند ثبوت سامنے نہیں آتا۔
ان کے مطابق دستیاب پولیس ریکارڈ سے کم از کم یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ 1930ء میں جامع مسجد ممبئی سے عید میلاد النبی ﷺ کا جلوس نکالا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے خلافت ہاؤس کی انتظامیہ سے قدیم ریکارڈ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں بتایا گیا کہ جلوس سے متعلق پرانے ریکارڈ محفوظ نہیں رہے یا ضائع ہوچکے ہیں۔
یہاں تحقیق کا مقصد کسی شخصیت، ادارے یا روایت کی نفی کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ تاریخی اعتبار سے جو کچھ ثابت کیا جاسکتا ہے، اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جائے اور جو بات روایت یا امکان کے درجے میں ہے، اسے قطعی تاریخی حقیقت بناکر پیش نہ کیا جائے۔
اس لیے 1919ء کے دعوے اور 1930ء کے پولیس ریکارڈ کو ایک دوسرے کی نفی کے طور پر دیکھنے کے بجائے تحقیق کے دو اہم دروازوں کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ایک طرف وہ روایت ہے جو خلافت ہاؤس، تحریکِ خلافت اور قومی تحریک کے عہد سے جلوسِ میلاد کو جوڑتی ہے؛ دوسری طرف سعید حمید کی تحقیق ہے جو جامع مسجد کو اولین مرکز قرار دیتی اور 1930ء کے پولیس ریکارڈ کو اہم ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔
حتمی فیصلہ اسی وقت ممکن ہوگا جب دستیاب تمام اصل دستاویزات سامنے آئیں۔ تاریخ کسی جذباتی دعوے سے نہیں بلکہ ثبوت، حوالہ اور تحقیق سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر کسی روایت کے حق میں مستند ثبوت موجود ہوں تو اسے محفوظ کیا جانا چاہیے، اور اگر کسی دعوے کی تصدیق نہ ہوسکے تو اسے روایت کے درجے میں بیان کرنا ہی علمی دیانت ہے۔
ایک صدی بعد بھی زندہ روایت
بہرحال ایک حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ممبئی میں جشنِ میلاد النبی ﷺ کی روایت نئی نہیں۔ جامع مسجد سے وابستہ مذہبی و علمی سرگرمیوں سے لے کر خلافت کمیٹی اور خلافت ہاؤس کی منظم سرگرمیوں تک، اس روایت نے شہر کی تاریخ میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔
آج جب ربیع الاول میں جلوسِ محمدی ﷺ ممبئی کی سڑکوں سے گزرتا ہے، درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، نعت خواں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں اور شہری مختلف انداز میں اس میں شریک ہوتے ہیں تو دراصل ایک صدی سے زیادہ پرانی اجتماعی یاد بھی زندہ ہوجاتی ہے۔
یہ یاد صرف مذہبی عقیدت کی نہیں؛ اس میں تحریکِ خلافت کی سیاسی تاریخ، ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد، قومی رہنماؤں کی سرگرمیاں، صحافت کے محفوظ صفحات، جامع مسجد کی علمی روایت، خلافت ہاؤس کی سماجی شناخت اور ممبئی کی مشترکہ تہذیب کے کئی رنگ شامل ہیں۔
اور شاید یہی اس روایت کی سب سے بڑی اہمیت ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات کے باوجود اس نے محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کو امن، اخلاق، انسانیت، خدمت اور باہمی احترام کے پیغام سے جوڑنے کی گنجائش پیدا کی۔
خلافت ہاؤس: ماضی کی امانت، مستقبل کی ذمہ داری
خلافت ہاؤس کی موجودہ تعمیر نو اس تاریخی سفر کا ایک نیا باب ہے۔ اگر 17 منزلہ نئی عمارت میں ہارٹ اسپیشلٹی اسپتال کے ذریعے صحت، بی ایڈ کالج کے ذریعے تعلیم، تاریخی مرکز کے ذریعے تحقیق اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے خدمتِ خلق کو فروغ دیا جاتا ہے تو یہ عمارت ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ مستقبل کی ضرورت بھی بن سکتی ہے۔
لیکن اس تعمیر نو کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ جدید تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تاریخی شناخت کس حد تک محفوظ رہتی ہے۔ اگر صرف پرانی عمارت کی جگہ ایک بلند و بالا عمارت تعمیر کردی گئی تو شاید خلافت ہاؤس کی اصل روح کہیں پیچھے رہ جائے۔ اس کے برعکس اگر نئی عمارت میں اس تاریخ کو زندہ رکھنے کی شعوری کوشش کی گئی تو یہ منصوبہ ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل بن سکتا ہے۔
خلافت ہاؤس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومی خدمت صرف سیاسی تحریکوں تک محدود نہیں۔ تعلیم، صحت، نوجوانوں کی تربیت، ضرورت مندوں کی مدد، علمی تحقیق اور تاریخی ورثے کا تحفظ بھی اسی خدمت کا حصہ ہیں۔
اس لیے خلافت ہاؤس کی تعمیر نو کو صرف ایک تعمیراتی منصوبہ سمجھنا اس کی تاریخی معنویت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسی امانت کی تجدید کا موقع ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ممبئی کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جلوسِ محمدی ﷺ کی تاریخ کو بھی محفوظ کیا جائے، خلافت کمیٹی کے بکھرے ہوئے ریکارڈ کو یکجا کیا جائے، جامع مسجد کے قدیم تاریخی مواد کی حفاظت کی جائے اور خلافت ہاؤس کی نئی عمارت میں ایک ایسا دستاویزی مرکز قائم کیا جائے جہاں آنے والی نسلیں صرف یہ نہ پڑھیں کہ یہاں کبھی کیا ہوا تھا، بلکہ یہ بھی سمجھ سکیں کہ قومیں اپنی تاریخ، رواداری، اتحاد اور خدمت کی روایت سے کس طرح مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔
ممبئی کے جلوسِ میلاد النبی ﷺ کی داستان اسی لیے محض ایک مذہبی جلوس کی داستان نہیں۔ یہ ایک شہر کی اجتماعی یادداشت، ایک قوم کی سیاسی بیداری، آزادی کی جدوجہد، مذہبی عقیدت، صحافت، سماجی خدمت اور مشترکہ تہذیب کی کہانی ہے۔ جامع مسجد سے خلافت ہاؤس تک اس روایت کے سفر میں اگر کچھ سوالات آج بھی تشنۂ جواب ہیں تو ان کا جواب جذبات میں نہیں، تاریخ کے اصل اوراق میں تلاش کرنا ہوگا۔
اور جب تاریخ کے یہ اوراق محفوظ ہوجائیں گے، تو خلافت ہاؤس کی نئی عمارت محض ایک جدید تعمیر نہیں رہے گی؛ وہ ایک ایسی زندہ علامت بن سکتی ہے جہاں ماضی کی یاد، حال کی خدمت اور مستقبل کی امید ایک ساتھ نظر آئے۔
