ممبئی ،17 مارچ: جنوبی ممبئی کی سیاست میں چند ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنے طرزِ سیاست اور عوامی خدمات کے ذریعے ایک مضبوط شناخت قائم کی ہے۔ انہی شخصیات میں ایک نمایاں نام امین پٹیل کا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے شہر کی سیاسی اور سماجی زندگی میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ممبئی کے تاریخی اور سیاسی طور پر اہم حلقہ انتخاب ممبادیوی سے چار مرتبہ منتخب ہونے والے امین پٹیل نے نہ صرف قانون ساز اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کی بلکہ اقلیتی طبقات کی ترقی اور تعلیمی بیداری کے لیے بھی مسلسل آواز اٹھائی ہے۔
امین پٹیل کا تعلق اسماعیلی خواجہ مسلم برادری سے ہے جو روحانی طور پر آغاخان کے پیروکاروں میں شمار ہوتی ہے۔ اپنی سیاسی زندگی میں انہوں نے عوامی خدمت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے حلقے کے عوام کا بھرپور اعتماد حاصل رہا اور وہ متعدد مرتبہ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
کانگریس اور این سی پی کے اتحاد کے دور حکومت میں انہیں مہاراشٹر مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن ترقیاتی کارپوریشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے اقلیتی طبقات کے معاشی استحکام اور نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے۔
ماہِ رمضان کے موقع پر ان کی مصروفیات، مسلمانوں کی تعلیمی ترقی اور سماجی مسائل کے بارے میں ان سے ہوئی گفتگو کے اقتباسات پیش ہیں۔
رمضان میں مصروفیات اور معمولات
سوال: رمضان المبارک کے دوران آپ کے معمولات میں کس حد تک تبدیلی آتی ہے؟
امین پٹیل: رمضان ہمارے لیے عبادت، نظم و ضبط اور خدمت کا مہینہ ہے۔ میرے روزمرہ کے معمولات میں بنیادی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔ میں عام دنوں کی طرح اپنے حلقے کے مسائل، لوگوں کی شکایات اور مختلف سماجی امور پر توجہ دیتا ہوں۔
البتہ شام کے اوقات میں تھوڑی سی تبدیلی ضرور ہوتی ہے کیونکہ افطار اور نمازوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ دن بھر کی مصروفیات کے باوجود افطار کے وقت خاندان اور دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کا موقع مل جائے۔ اس کے بعد تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
رمضان کے مہینے میں لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ بہت سے سماجی اور فلاحی پروگرام اسی مہینے میں منعقد ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ مہینہ عبادت کے ساتھ ساتھ خدمت کا بھی ایک اہم موقع بن جاتا ہے۔
رمضان کا اصل پیغام
سوال: آپ کے خیال میں رمضان کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
امین پٹیل: رمضان کا اصل پیغام نظم و ضبط اور خود احتسابی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان اس مہینے میں بہت ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ وقت پر نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور اپنی عادات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ اگر یہی نظم و ضبط پورے سال برقرار رکھا جائے تو فرد اور معاشرہ دونوں ترقی کرسکتے ہیں۔ رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو پائے اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرے۔
مسلمانوں میں تعلیمی بیداری
سوال: مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
امین پٹیل: یہ بات خوش آئند ہے کہ گزشتہ پچیس برسوں میں مسلمانوں کے اندر تعلیم کے حوالے سے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ہم اس عرصے کا جائزہ لیں تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی میدان میں مسلمانوں نے بہتر پیش رفت کی ہے۔
اس تبدیلی میں سب سے بڑا کردار والدین کا ہے۔ آج والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور معاشرے میں ایک باعزت مقام حاصل کریں۔ وہ اپنے بچوں کو صرف روایتی تعلیم تک محدود نہیں رکھتے بلکہ جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف بھی توجہ دے رہے ہیں۔
تعلیم کو ایجنڈا بنانا ضروری
سوال: موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے سب سے اہم ترجیح کیا ہونی چاہیے؟
امین پٹیل: میرے خیال میں مسلمانوں کے ایجنڈے میں سب سے پہلے تعلیم ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر اور انجینئر بننا یقیناً اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی، مینجمنٹ، قانون، میڈیا اور دیگر جدید شعبوں میں بھی مواقع موجود ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان میدانوں میں بھی آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ یہی قوم کی ترقی کا راستہ ہے۔
ممبادیوی حلقے کی ترقی
سوال: آپ ممبادیوی حلقے سے کئی مرتبہ منتخب ہوئے۔ اس علاقے کی ترقی کے حوالے سے آپ کی ترجیحات کیا رہی ہیں؟
امین پٹیل: ممبادیوی ایک تاریخی اور گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔
میری کوشش رہی ہے کہ علاقے میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے، سڑکوں اور صفائی کے نظام کو بہتر کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی طبقات کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنا بھی میری ترجیحات میں شامل رہا ہے۔
معاشی خود کفالت کی کوششیں
سوال: مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین کے طور پر آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
امین پٹیل: یہ ایک اہم ذمہ داری تھی اور میں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کو نبھانے کی کوشش کی۔ اس ادارے کا مقصد اقلیتی طبقات کو معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
ہمارے دور میں کئی نوجوانوں کو مالی مدد فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔ بہت سے لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا اور اپنے روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ میرا ماننا ہے کہ جب معاشی بنیاد مضبوط ہوتی ہے تو تعلیم اور سماجی ترقی کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔
رمضان میں سماجی خدمات
سوال: رمضان کے دوران سماجی سرگرمیوں میں آپ کی شرکت کس نوعیت کی ہوتی ہے؟
امین پٹیل: رمضان میں فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔ مختلف تنظیمیں افطار پروگرام، خیراتی سرگرمیاں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اقدامات کرتی ہیں۔ میں بھی اپنی استطاعت کے مطابق ان پروگراموں میں شرکت کرتا ہوں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کریں۔
رمضان ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال رکھیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں۔ یہی اس مہینے کی اصل روح ہے۔
نوجوان نسل کے نام پیغام
سوال: نوجوان نسل کے لیے آپ کا کیا پیغام ہے؟
امین پٹیل: میرا پیغام بہت سادہ ہے: تعلیم حاصل کریں، محنت کریں اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مستقل مزاجی اختیار کرے۔
اگر نوجوان نسل اس پیغام کو سمجھ لے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرے تو یقیناً وہ نہ صرف اپنی بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
امین پٹیل سیاست کو صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ممبادیوی کے عوام نے ان کی قیادت اور کارکردگی پر اعتماد کیا ہے۔
تعلیم، معاشی خود کفالت اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ان کے خیالات ایک مثبت اور تعمیری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ کردار سازی اور اجتماعی ترقی کا پیغام بھی دیتا ہے۔
اگر مسلمان رمضان کے نظم و ضبط اور خود احتسابی کے پیغام کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیں اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں تو یقیناً ترقی اور کامیابی کے دروازے ان کے لیے کھل سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔
