زینت شوکت کی نظر میں مسلمانوں کے حالات، چیلنجز اور مثبت تبدیلی کا راستہ

(جاوید جمال الدین جاوید)
ممبئی: 17 مارچ: ماہِ رمضان المبارک صرف عبادات، روزوں اور روحانی معمولات کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جامع اور بامقصد زمانہ ہے جو انسان کے باطن کو جھنجھوڑتا، اس کے فکر و عمل کو سنوارتا اور اسے خود احتسابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ یہ مہینہ فرد کو اپنے اندر جھانکنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنے معاشرتی رویّوں کو بہتر بنانے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ موجودہ پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں رمضان کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ انسان کو نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے بلکہ اجتماعی شعور کو بھی بیدار کرتا ہے۔
سابق اسلامی لیکچرر اور “وزڈم فاؤنڈیشن” کی ڈائریکٹر جنرل زینت شوکت کے مطابق رمضان ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقت کو واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ “زندگی میں مشکلات، آزمائشیں اور حالات کی سختیاں ضرور آتی ہیں، لیکن امید کا چراغ کبھی بجھنے نہیں دینا چاہیے۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان مشکلات کے باوجود مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور اپنے مقصد سے جڑا رہے۔”
روحانیت کا موسم، کردار سازی کا بہترین موقع
زینت شوکت کے مطابق رمضان کی آمد کے ساتھ ہی انسانی زندگی میں ایک خاموش مگر گہری تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ بظاہر روزمرہ کی مصروفیات جاری رہتی ہیں، مگر دل کی کیفیت بدل جاتی ہے، نیتوں میں خلوص پیدا ہوتا ہے اور سوچ کا زاویہ وسیع ہونے لگتا ہے۔
وہ کہتی ہیں:
“رمضان صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نفس کی تربیت، کردار کی تعمیر اور باطن کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنے اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں کو پہچان سکتا ہے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔”
اس مہینے میں عبادات کا شوق بڑھتا ہے، مساجد آباد ہوتی ہیں، قرآنِ کریم کی تلاوت عام ہوتی ہے اور انسان کے اندر دوسروں کے لیے ہمدردی، ایثار اور قربانی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہی وہ روحانی کیفیت ہے جو ایک فرد کو بہتر انسان اور ایک معاشرے کو بہتر سماج میں تبدیل کر سکتی ہے۔
رمضان کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے زینت شوکت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ کریم نازل ہوا اور لیلۃ القدر جیسی عظیم رات عطا کی گئی، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
“یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت دینے کے لیے اپنا کلام نازل فرمایا، تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں صحیح راستہ اختیار کر سکے۔”
بچپن کی یادیں: محبت، تربیت اور روحانی وراثت
رمضان کا ذکر آتے ہی ماضی کی حسین یادیں بھی تازہ ہو جاتی ہیں۔ زینت شوکت اپنے بچپن کے رمضان کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ دن سادگی، محبت اور روحانیت سے بھرپور تھے، جہاں ہر لمحہ تربیت کا حصہ ہوتا تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ بچپن میں روزہ رکھتی تھیں تو ان کے والد بے حد شفقت سے ان سے پوچھتے کہ افطار میں کیا کھانا پسند کریں گی، اور ان کی خواہش کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ یہ چھوٹے چھوٹے محبت بھرے لمحات آج ان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن چکے ہیں۔
سحری کے اوقات کو وہ ایک “علمی و روحانی نشست” قرار دیتی ہیں، جہاں صرف کھانے پینے تک بات محدود نہیں رہتی تھی بلکہ قرآنِ کریم کی تلاوت، دینی گفتگو اور فکری مباحث بھی ہوتے تھے۔
وہ کہتی ہیں:
“ہم کبھی کبھی اقبال کی شاعری سنتے تھے، خاص طور پر ‘بانگِ درا’، جس سے نہ صرف ذہنی تازگی ملتی تھی بلکہ سوچ میں گہرائی بھی پیدا ہوتی تھی۔”
تراویح کے لیے والد کے ساتھ مسجد جانا، پھر گھر آ کر دینی اور مثبت موضوعات پر گفتگو کرنا—یہ تمام عوامل ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ یہی تربیت بعد میں ان کی فکری پختگی اور مثبت سوچ کی بنیاد بنی۔
بدلتا ہوا معاشرہ اور فکری توازن کی ضرورت
گزشتہ دو دہائیوں میں مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور فکری صورتحال پر بات کرتے ہوئے زینت شوکت ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر پیش کرتی ہیں۔
“تبدیلیاں ہر دور کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان تبدیلیوں کو کس طرح سمجھتے اور ان کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ہم نے توازن کھو دیا تو ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔”
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ آج کے دور میں یک رخی سوچ انتہائی نقصان دہ ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ایسے میں وسیع النظری، برداشت اور فکری پختگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
“ہمیں جذبات کے بجائے حکمت سے فیصلے کرنے ہوں گے، اور ہر معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ صرف اپنے حلقے تک محدود رہنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں دوسروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اور مثبت رویّہ اپنانا ہوگا۔ یہی اصل اسلامی تعلیم ہے۔”
خود کفالت اور فکری بیداری: ترقی کا راستہ
مسلمانوں کے موجودہ چیلنجز اور ترجیحات پر گفتگو کرتے ہوئے زینت شوکت واضح طور پر کہتی ہیں کہ سب سے اہم ضرورت self-sufficiency یعنی خود کفالت ہے۔
“ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے پیروں پر کھڑی ہو، جو دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل کو بروئے کار لائے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانے۔”
وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ صرف ماضی پر فخر کرنے سے ترقی ممکن نہیں، بلکہ حال کے تقاضوں کو سمجھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
“اجتہادی فکر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ہم دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے فیصلے کر سکیں۔”
اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے وہ ایک دلچسپ مثال پیش کرتی ہیں:
“گوتم بدھ کا ایک قول ہے کہ ‘زہر کو دوا میں بدل دو’۔ یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں منفی حالات کو مثبت مواقع میں تبدیل کرنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنائیں تو مشکلات بھی ہمارے لیے کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔”
مشترکہ تہذیب اور عالمی بھائی چارہ
زینت شوکت ہندوستانی معاشرے کی مشترکہ تہذیب کو ایک بڑی نعمت قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کے باوجود ایک ساتھ رہنا اس ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
“ہم سب ایک ہی سماج کا حصہ ہیں۔ ہمیں ایک خاندان کی طرح رہنا چاہیے، جہاں اختلافات کے باوجود محبت، احترام اور برداشت کا جذبہ قائم رہے۔”
وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ اسلام کا پیغام صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
“دنیا ایک خاندان ہے—یہ تصور صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جسے ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا۔ اسلام بھی عالمی بھائی چارے، امن اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔”
آج کے دور میں جب دنیا مختلف تنازعات، نفرتوں اور تقسیم کا شکار ہے، ایسے میں رمضان کا پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانیت، ہمدردی اور امن کو فروغ دیا جائے اور اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ جینے کا ہنر سیکھا جائے۔
اتحاد ہی نجات ہے
اپنے پیغام میں زینت شوکت مسلمانوں کو اتحاد، خود کفالت اور مثبت سوچ اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔
“ہمیں اپنے اختلافات سے اوپر اٹھنا ہوگا اور ایک مضبوط، باوقار اور متحد معاشرہ تشکیل دینا ہوگا، جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اجتماعی بھلائی کے لیے کام کرے۔”
وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ معاشرے کی ترقی صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر فرد کا کردار اس میں اہم ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی اصلاح پر توجہ دے تو پورا معاشرہ خود بخود سنور سکتا ہے۔
“اگر انسان خود کو بدل لے تو معاشرہ بدل جاتا ہے—اور رمضان اسی تبدیلی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔”
عالمی امن کا پیغام: رمضان کی اصل روح
رمضان کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی امن، بھائی چارے اور انسانیت کی خدمت کا بھی درس دیتا ہے۔ روزہ انسان کو صبر، برداشت اور دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
جب ایک شخص بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو روزانہ اسی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ یہی احساس اسے دوسروں کی مدد کرنے، ان کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ایک بہتر انسان بننے کی طرف مائل کرتا ہے۔
اگر رمضان کے ان اسباق کو صحیح معنوں میں اپنایا جائے تو نہ صرف مسلم معاشرہ بلکہ پوری دنیا میں امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ: رمضان—فرد سے معاشرہ تک تبدیلی کا سفر
رمضان المبارک دراصل ایک مکمل تربیتی نظام ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنوارتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں، اپنے کردار کو بہتر بنائیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور دنیا میں امن و محبت کو فروغ دیں۔
زینت شوکت کی گفتگو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر ہم رمضان کے پیغام کو سنجیدگی سے اپنائیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ترقی، استحکام اور ہم آہنگی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت امن، برداشت اور باہمی احترام کی ہے، رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسانیت کو مقدم رکھا جائے، اختلافات کو پسِ پشت ڈالا جائے اور ایک بہتر، پُرامن اور متحد دنیا کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے