ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی

استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ابھی چند دن پہلے رخصت ہوا ہے، یہ مہینہ نہ صرف عبادات کا موسمِ بہار ہے، بلکہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ کردار اور روحانی تجدید کا ایک عظیم بابرکت مہینہ ہے۔

رمضان نے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالیں اور سال کے باقی گیارہ مہینے بھی اسی طریقے سے گزاریں۔ رمضان میں روزہ رکھنے کی مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو امن، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر چلانے کے لیے مختلف حکمت عملیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے ایک واضح نظام “اوامر و نواہی” (یعنی کیا کرنا ہے اور کن چیزوں سے بچنا ہے) پیش کیا ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

روزے کا اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو” (البقرہ 183)۔

تقویٰ کا اصل مطلب اللہ کا خوف، حیا کی عملی شکل، اور ہر قسم کی بری اور حرام چیزوں سے اجتناب ہے۔ روزے کے ذریعے انسان میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ الفاظ کے مفاہیم میں تبدیلی آ جاتی ہے، لیکن قرآن نے جس تناظر میں "تقویٰ” کا لفظ استعمال کیا ہے، وہ محض عبادت میں مشغول رہنے، کم سونے یا ساری رات جاگنے تک محدود نہیں۔

اصل عربی میں تقویٰ ایک ذہنی کیفیت اور شعور کا نام ہے۔ یہ ایک خاص مزاج اور سوچنے کے انداز کو ظاہر کرتا ہے۔ رمضان انسان کو تقویٰ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ رمضان کے ختم ہوتے ہی تقویٰ بھی ختم ہو جائے۔ تقویٰ کوئی عارضی کیفیت نہیں بلکہ مسلسل خود پر قابو پانے اور ضبط نفس کا نام ہے۔

جیسے ایک بچہ اگر صحیح تربیت پائے تو وہ بڑوں کا احترام کرتا ہے اور ان کے سامنے کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو انہیں ناگوار گزرے۔ اسی طرح، ایک متقی شخص ہر کام سے پہلے سوچتا ہے کہ آیا یہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں۔ یہی رجوع الیٰ شریعت ہر قدم پر تقویٰ کی علامت ہے۔

حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کا طرز عمل اس کی بہترین مثال ہے۔ ایک موقع پر حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے تقویٰ کی تعریف پوچھی تو انہوں نے فرمایا:

"اے امیرالمومنین! کیا آپ کبھی کانٹوں والے راستے پر چلے ہیں؟”

حضرت عمرؓ نے فرمایا: "ہاں۔”

حضرت عبداللہؓ نے پوچھا: "پھر آپ نے کیسے چل کر گزر کیا؟”

حضرت عمرؓ نے فرمایا: "میں احتیاط سے چلتا رہا تاکہ میرے کپڑے اور جسم کانٹوں سے بچ جائیں۔”

تو حضرت عبداللہؓ نے فرمایا: "بس یہی تقویٰ ہے، کہ انسان اپنی زندگی اس طرح گزارے کہ اللہ کو ناراض کرنے والا کوئی کام نہ کرے۔” (Guidance from the Holy Qur’an ، ص 82-83)

یہ بات قابل افسوس ہے کہ رمضان میں مساجد نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں، لیکن شوال کا چاند نظر آتے ہی نمازیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور صفیں سکڑ جاتی ہیں۔ اور وضو خانے ویران ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ رمضان کا اصل پیغام تو یہ ہے کہ زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھا جائے، اور اپنے قول و فعل سے اس دینِ رحمت کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ اور اپنی عادات کو قرآن و سنت کے مطابق سنواریں،

اب جبکہ رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوچکا ہے ہمارے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت لمحات اور روحانی کیفیات کو صرف رمضان کے مہینے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں۔

سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم نمازوں کی پابندی کو برقرار رکھیں۔ رمضان میں اکثر لوگ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ عادت رمضان کے بعد بھی جاری رہے۔ اسی طرح تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور دعا کا اہتمام بھی معمول کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ دل اللہ کی یاد سے منور اور روشن رہے۔

دوسری اہم ذمہ داری تقویٰ کو برقرار رکھنا ہے۔ رمضان ہمیں صبر، برداشت اور گناہوں سے بچنے کا درس دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ جھوٹ، غیبت، حسد اور دیگر برائیوں سے بچتے رہیں۔ اگر ہم رمضان کے بعد بھی اپنے اخلاق و کردار کو بہتر رکھیں، تو یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے۔

تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم نیکیوں میں تسلسل پیدا کریں۔ صدقہ و خیرات، محتاجوں کی مدد، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاشرے میں بھلائی کو فروغ دینا ہماری زندگی کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔

مزید یہ کہ ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ رمضان کے بعد ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ اگر ہم دوبارہ پرانی غفلت میں چلے گئے، تو ہمیں فوراً توبہ کرکے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ کیونکہ

رمضان ایک تربیتی مہینہ ہے، جو ہمیں صبر، ضبط نفس، تقویٰ، ایثار، عبادت، ذکر و فکر، اور خیر خواہی جیسی اعلیٰ صفات سے آراستہ کرتا ہے۔ اگر ہم رمضان کے بعد بھی ان صفات کو اپنائے رکھیں، اور اپنے معمولاتِ زندگی کو اسی ڈھنگ سے گزاریں جیسے ہم نے اس مہینے میں گزارا ، تو ہم یقیناً کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔

یہ ہم سب کی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ہے کہ رمضان کے بعد آنے والے گیارہ مہینوں میں بھی ہم اسی روحانی فضا کو قائم رکھیں۔ ہر قسم کی برائیوں، گناہوں، غیر اخلاقی سرگرمیوں اور غیر سماجی اعمال سے بچتے رہیں، تاکہ ہمارے دل پاکیزہ اور ہمارا معاشرہ خوشحال و پرامن بن سکے۔ اگر رمضان کے بعد ہم پھر سے غفلت و معصیت کی راہوں پر لوٹ جاتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ہم نے رمضان کے اصل مقصد یعنی "تقویٰ” کو حاصل نہیں کیا۔ رمضان ہمیں نہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا سکھاتا ہے، بلکہ یہ ہمارے باطن کو جھنجھوڑ کر ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ایک سچا مومن وہی ہے جو پورے سال اللہ تعالیٰ کی بندگی میں ثابت قدم رہے، اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم پورا سال رمضان جیسا ماحول بنائے رکھیں تاکہ ہم اپنی زندگی سکون اور امن سے گزار سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے