خطاب: فضیلۃ الشیخ ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ

مرتب: فضیلۃ الشیخ محمد آصف مدنی حفظہ اللہ

مدرسہ صوت القرآن محمدیہ، پنگواں میوات، صوبہ ہریانہ میں اساتذۂ کرام کی تربیت اور تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک عظیم الشان محاضرۂ تدریبِ معلمین کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف عالمِ دین و مربی فضیلۃ الشیخ ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ نے نہایت جامع، مدلل اور فکر انگیز خطاب فرمایا۔

اس مفید محاضرہ کو فضیلۃ الشیخ محمد آصف مدنی حفظہ اللہ نے مرتب فرمایا۔

شیخ محترم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآنِ کریم کی اس عظیم آیت سے فرمایا:

> ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا﴾

(سورۃ الأحزاب: 72)

ترجمہ: “بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے، لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا، یقیناً وہ بڑا ظالم اور نادان ہے۔”

شیخ محترم نے فرمایا کہ تدریس محض ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔ معلم دراصل انبیاءِ کرام علیہم السلام کے مشن کا وارث ہوتا ہے، اس لیے اس کے قول، عمل، کردار، اندازِ تدریس اور طلبہ کے ساتھ برتاؤ میں اخلاص، احساسِ ذمہ داری اور خیر خواہی نمایاں ہونی چاہیے۔

خطاب کے اہم نکات:

1. تدریس کو عبادت اور باعثِ اجر سمجھتے ہوئے خوش دلی اور شوق کے ساتھ انجام دیا جائے۔

2. تعلیم و تربیت میں اخلاص بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ بے اخلاص عمل نفع بخش نہیں ہوتا۔

3. استاد کلاس میں مکمل تیاری، مطالعہ اور مشکل عبارات و سوالات کے حل کے ساتھ جائے۔

4. چھوٹی کتابوں کی تدریس کے لیے بھی بڑی اور مفصل کتابوں سے رجوع کیا جائے۔

5. طلبہ کی ذہنی سطح اور استعداد کو سامنے رکھتے ہوئے آسان مثالوں کے ذریعے تعلیم دی جائے۔

6. اسباق کو دلچسپ بنانے کے لیے عمدہ طرزِ بیان اور مؤثر اندازِ القاء اختیار کیا جائے۔

7. استاد اپنے فن میں مہارت پیدا کرے اور ماہر اساتذہ سے استفادہ کرے۔

8. علمی نکات محفوظ کرنے کے لیے ڈائری یا نوٹ بک ضرور رکھی جائے۔

9. مشکل الفاظ اور عبارات کو لغات کے ذریعے پہلے سے حل کرلیا جائے۔

10. ذہین اور کمزور دونوں طرح کے طلبہ پر یکساں توجہ دی جائے۔

11. طلبہ کے ساتھ شفقت، محبت اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کیا جائے۔

12. استاد طلبہ کی نفسیات کو سمجھے اور حکمت کے ساتھ ان کے مسائل حل کرے۔

13. عملی تربیت صرف زبان سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے ہونی چاہیے۔

14. کسی طالب علم کی تحقیر یا دل آزاری نہ کی جائے۔

15. طلبہ کو اضافی وقت دے کر محبت بھرے انداز میں ان کے سوالات کے جوابات دیے جائیں۔

16. سبق کو منظم اور نکات وار انداز میں پڑھایا جائے۔

17. بچوں میں شوقِ تعلیم پیدا کرنے کے لیے مناسب انعامات اور حوصلہ افزائی کی جائے۔

شیخ ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ نے اپنے خطاب میں نبی کریم ﷺ کی بہترین تربیتی مثالیں بھی پیش فرمائیں۔ خصوصاً حضرت انس رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے دس سال تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، مگر آپ ﷺ نے نہ کبھی انہیں گالی دی، نہ مارا اور نہ سخت کلامی فرمائی۔ یہی نبوی اسلوبِ تربیت معلمین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اسی طرح اسلافِ امت کے متعدد واقعات ذکر کیے گئے جن سے واضح ہوتا ہے کہ بہترین تربیت صبر، حکمت، شفقت اور تسلسل کے ساتھ ہی ممکن ہے۔

اس علمی و تربیتی نشست میں مدرسہ صوت القرآن محمدیہ کے تمام اساتذۂ کرام شریک ہوئے، جن میں خصوصیت کے ساتھ:

صدر المدرس شیخ مشتاق احمد ندوی، شیخ شاداب عالم مدنی، فضیلۃ الشیخ محمد آصف مدنی، شیخ منور حجازی، شیخ عبدالمتین فیضی، شیخ عارف ریاضی، حافظ شکیل احمد سلفی، شیخ نظام الدین سنابلی، شیخ رفیق احمد سلفی، شیخ محمد طاہر محمدی اور دیگر اساتذۂ کرام شامل رہے۔

اللہ تعالیٰ اس مبارک محفل کو امت کے لیے نافع بنائے، تمام اساتذۂ کرام کو اخلاص و استقامت عطا فرمائے اور انہیں نسلِ نو کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے