کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سيف الدين المحمدی ۔
خطبہ جمعہ ایک عظیم فریضہ ہے، بڑی ذمہ داری ہے، خطیب جمعہ امت کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، یہ ہفتہ واری کانفرنس یا اسبوعی ملتقی ہے جہاں سے بھٹکے ہوۓ بگڑۓ ہوۓ بکھرۓ ہوۓ سماج سوسائٹی وافراد و اشخاص کی اصلاح و تربیت کا کام کیا جاتا ہے، یہ نہایت ہی حساس وذمہ دارانہ کام ہے، یہ کھیل کود چیخنے چلانے تماشے کرنے کی جگہ نہیں ہے اول فول بکنے ایران توران کی ہانکنے بڑ بولاپن ظاہر کرنے شیخی بگھارنے تعلی وتعنت جمانے کی جگہ نہیں ہے، منبر بہت محترم جگہ ہے اس کا انفرادی مقام ہے، منبر اپنی ذات کو چمکانے، روداد سفر بیان کرنے، قوالی پڑھنے ناچنے تھرکنے مشاعرہ بازی کرنے کی جگہ تو نہیں ہے، شور وہنگامہ کرنے کی جگہ بالکل ہی نہیں ہے ،سیاسی خبر اور دنیا بھر کے بکواس کرکے جمعہ کا ٹائم پاس کرنے کی جگہ نہیں ہے، خطبہ جمعہ نہایت ہی عمدہ عظیم واہم فریضہ ہے ہر شخص اس کا اہل نہیں ہے، خطبہء جمعہ کا عنوان حالات و ظروف کے مطابق منتخب کئے جانے چاہئے، خطبۂ جمعہ نصوصِ قرآن وسنت اور علمی و تربیتی باتوں سے مملو ہونی چاہئے، خطیب جمعہ کے ذہن میں یہ بات ہمیشہ رہنی چاہیے کہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنھیں صرف اور صرف جمعہ کے دن بلکہ جمعہ کا خطبہ ہی اسکے دین سیکھنے کیلئے فرصت ہے خطبہ جمعہ کے علاوہ اسکے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ دین سیکھنے واسلامی احکام کو جاننے سمجھنے کیلئے الگ سے بیٹھے اور جمع ہو، خطبۂ جمعہ کے علاوہ وہ وقت نہیں نکال سکتے، ایسے میں ایک مخلص اور ذمہ دار خطیب پر ضروری ہے کہ وہ خطبہ جمعہ کو صرف اور صرف قرآن واحادیث سے مزین فرماۓ ، موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کرکے آئے اور بہتر انداز میں خطبہ پیش کرۓ۔
