شرکاء کا قرآنی تعلیمات کے ذریعہ شخصی‘ خاندانی اور سماجی اصلاح کا پرجوش عزم

میدک (پریسریلیز): شہرمیدک کےمسلم مائنارٹی فنکشن ہال میں 15 تا 17 مئی 2026ءایک منفرد اور روح پرور سہ روزہ خصوصی قرآنی کورس کا انعقاد عمل میں آیا۔ شہرکی معروف تنظیم‘ میدک ملی ایسوسی ایشن اوراتقان کے زیراہتمام منعقدہ اس کورس کا بنیادی مقصد قرآن مجید پر تدبر‘ تفکر اور زندگیوں میں اسکا انطباق تھا۔ اس علمی‘ فکری وتربیتی کورس سے تقریباً 130 مرد وخواتین نے بھرپوراستفادہ کیا۔ مئی کے مہینے  کی چلچلاتی دھوپ اور سخت گرمی کے باوجود‘ قرآن مجید سیکھنے اور سمجھنے کے لئے مرد و خواتین کے علاوہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا جوش و جذبہ قابل تحسین رہا۔

منتخب سورتیں اور آیات

کورس کے دوران سورہ البقرہ‘ سورہ التوبہ‘ سورہ یونس‘ سورہ ابراہیم‘ سورہ النحل‘ سورہ الرعد‘ سورہ الحشر‘ سورہ الصافات‘ سورہ الواقعہ‘ سورہ الملک‘ سورہ التحریم اور سورہ عبس کی منتخب آیات کی روشنی میں افہام وتفہیم کا                   نظم رہا۔ شرکاءکی عملی تربیت کے لئے گروپ ڈسکشن‘ باہمی تبادلۂ خیال اور کوئز جیسی مختلف النوع معلوماتی سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں۔ اس پورےعلمی وتربیتی سفرکی نگرانی محمدعبداللہ جاوید صاحب نےکی۔

قرآنی کورس  کی منفرد خصوصیات

اس کورس کی سب سے منفرد خصوصیت یہ رہی کہ اس میں انتہائی دلنشین انداز سے واضح کیا گیا کہ قرآن مجید کس طرح محض عبادات تک محدود نہیں‘ بلکہ یہ سارے انسانوں کیلئے  انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی معاملات تک‘ ہر موڑ پرکتاب ہدایت ہے۔ موجودہ دور کے ماحولیاتی بحران کو قرآنی تناظر میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بادلوں سے برسنے والے پانی کا ذکر فرماتا ہے تو ایک مومن کے دل میں پانی کی حفاظت‘ اسکی قدردانی اور شکر گزاری کا حقیقی شعور بیدار ہوتا ہے۔ شرکاء نے اس بات کو بخوبی سمجھا کہ قرآنی رہنمائی محض الفاظ تک محدود نہیں‘ بلکہ یہ بندے کو دلی آمادگی کے ساتھ شجرکاری (Plantation) اور برساتی پانی کی ذخیرہ اندوزی (Rainwater Harvesting) جیسے تعمیری اقدامات کی طرف راغب کرتی ہے۔ اگر پانی جیسی عظیم نعمت کو قرآنی نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم نہ صرف اپنے شہر کے سنگین سماجی و ماحولیاتی مسائل پر قابو پا سکتے ہیں‘ بلکہ ایک ایسے پاکیزہ‘ محفوظ اور متوازن معاشرہ یقیبی  بنا سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں امن و ترقی کا گہوارہ ہو۔

قرآنی اسلوب تربیت: شخصیت‘اللہ کے رنگ میں کیسے ڈھلتی ہے؟

ذاتی اصلاح و تربیت کے لئے شرکاء نے کائنات میں پھیلی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کے ساتھ ساتھ تقویٰ‘ فکر آخرت‘ فانی اور باقی رہنے والی حقیقتوں کے فرق اور مومنانہ اوصاف جیسے کلیدی موضوعات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کے اسوۂ حسنہ اور ان کی لازوال قربانیوں کے مختلف پہلوؤں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔ ان علمی و فکری مباحث کے ذریعہ شرکاء پر یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو گئی کہ قرآن مجید کس طرح اپنے انتہائی موثر اور فطری انداز بیان سے انسان کے دل پر دستک دیتا ہے اور اس کے مزاج‘ ترجیحات اور پوری شخصیت کو اللہ کے رنگ(صِبَغَۃُ اللہِ) میں رنگ دیتا ہے۔

اختتامی اجلاس

کورس کی تکمیل کے بعداختتامی اجلاس برائے تقسیم اسناد کا انعقاد عمل میں آیا۔آغاز سید نذیراحمد عفان صاحب کی مسحورکن تلاوت کلام پاک سےہوا۔جس کے بعد شاہد حسین صوفیانی صاحب نے بارگاہ رسالت مآبﷺ کی شان میںنعت شریف پیش کی۔ میدک ملی ایسوسی ایشن (ایم ایم اے) کے سکریٹری محمد ریاض الدین صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں تمام مہمانوں اور سامعین کا پرخلوص استقبال کیا۔ انہوں نے کورس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میدک میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ منفرد قرآنی کورس ہم سب کے لئے قرآن مجید سے حقیقی  رشتہ استوار کرنے اور اس کی آفاقی تعلیمات  کو  اپنی عملی زندگیوں میں نافذ کرنے کا ایک بہترین اور موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ اجلاس کے دوران معزز مہمانان گرامی میر ظفراللہ طاہر صاحب (ممبر سپریم باڈی)‘ عرفان حمید صاحب (حیدرآباد) ‘محمد فاضل حسین صاحب (امیرِ مقامی) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شرکاء کے تا ثرات

شرکاء نے کورس کے معیار اور منفرد انداز تربیت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے موجودہ دور میں انفرادی‘ اجتماعی اور معاشرتی اصلاح کے لئے بے حد مفید اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ میدک شہر میں اس کے تسلسل کے ساتھ انعقاد کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی اس کے اہتمام کی جانب منتظمین کو متوجہ کیا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یہاں سے حاصل کردہ قرآنی بصیرت کی روشنی میں اپنی انفرادی‘اجتماعی  اور معاشرتی زندگیوں کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

تاثرات پیش کرنے والوں میں محمد تقی الدین صاحب (ہیڈ ماسٹر)‘ محمد فاروق حسین صاحب (سینئر جرنلسٹ)‘ ابوبکر ظہیر صاحب اور مدثر خان صاحب شامل تھے۔ ان کے علاوہ کورس میں شریک خواتین نمائندوں نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اس علمی و تربیتی اقدام کو سراہا اور اسے جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

اختتامی خطابات

محمد عبداللہ جاوید صاحب (کورس ڈائریکٹر) نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن مجید پر تفکر اور تدبر انسان کے فہم و شعور کو بالیدگی اور جلا بخشتا ہے‘ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کی عملی زندگی خود قرآنی تعلیمات کا ایک مثالی نمونہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے قوی امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ شہر میدک کے مرد و خواتین اس کورس سے حاصل کردہ روشنی کے ذریعہ نہ صرف اپنے گھر اور خاندان کا ماحول سنواریں گے‘ بلکہ محبت اور اتحاد کا پیکر بن کر پورے معاشرے کو اس کتاب ہدایت کی حیات بخش اور روح پرور تعلیمات سے منور کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ڈاکٹر محمد عمر خان صاحب (صدر‘ ایم ایم اے) اجلاس کی صدارت فرماتے ہوئے انہوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ شہر میدک میں اپنی نوعیت کے اس منفرد اور منظم قرآنی کورس کا انعقاد دلی مسرت اور اطمینان کا باعث ہے۔ انہوں نے شرکاء کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی ہدایت کے سانچے میں اپنی زندگیوں کو ڈھال لینا ہمارے لئے سب سے بڑی سعادت اور کامیابی ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں کو قرآنی پیغام عام کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔ حالات کی بہتری کا ایک طریقہ یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم سب کا ایک مشترک ایجنڈا قرآنی تعلیمات کو سمجھنا‘ سمجھانا اور ان کو عام کرنا ہو۔ اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کورس کے شاندار اور کامیاب انعقاد پررب کریم کا شکر اداکرتے ہوئے تمام منتظمین‘مقامی علمائے کرام و ائمہ مساجد اور شرکاء کو دلی مبارکباد پیش کی اور سب کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

تقسیم اسناد

کورس کے اختتام پر تمام شرکاء ‘ مرد و خواتین‘ کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کی خدمت میں اسناد (Certificates)پیش کی گئیں۔ مرد شرکاء میں اسناد کی تقسیم معزز مہمانان گرامی اور ذمہ داران کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد عمر خان صاحب (صدر‘ میدک ملی ایسوسی ایشن)‘ عبدالرؤف صاحب (نائب صدر‘ ایم ایم اے)‘ فرید خان ندیم صاحب (نائب صدر‘ ایم ایم اے)‘ محمد ریاض الدین صاحب (سکریٹری)‘ غوث قریشی صاحب (کونسلر‘ مونسپل کونسل میدک)‘ سید سعادت علی ذکی صاحب‘عرفان حمید صاحب (حیدرآباد)‘ میر ظفر اللہ طاہر صاحب‘محمد فاضل حسین صاحب (امیر مقامی)‘ عرفان منیار صاحب‘ شیخ نوید الرحمن صاحب (حیدرآباد) شریک تھے۔ خواتین کیلئے پردے کے نظم کے ساتھ ذمہ دار خواتین کی جانب سے اسناد کی تقسیم کا علحدہ اور باوقار اہتمام کیا گیا۔ اس سہ روزہ کورس میں میدک ملی ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد صوفی شجاعت علی صاحب شریک رہے۔ اختتامی اجلاس کی نظامت کے فرائض سید عبد العزیز احمد صاحب نے بحسن و خوبی انجام دئیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے