عبدالرشید سلفی

نوگڑھ(سدھارتھ نگر): ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر (یوپی) کے صدردفتر میں آج علم و ادب کی ایک نہایت دل آویز، باوقار اور یادگار نشست منعقد ہوئی، جس میں جماعت کے معروف عالمِ دین، نوجوان قادر الکلام شاعر، صاحبِ قلم ادیب اور خوش فکر اہلِ علم مولانا عبدالرحمن راشد عمری کی تشریف آوری کو باعثِ سعادت سمجھتے ہوئے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی ادبی و شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔

مولانا عبدالرحمن راشد عمری ان باصلاحیت اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت میں دینی بصیرت، فکری پختگی، ادبی لطافت اور شعری چاشنی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک سنجیدہ عالمِ دین ہیں بلکہ اردو ادب کے ذوقِ سلیم سے آراستہ، شائستہ فکر شاعر اور مؤثر نثر نگار بھی ہیں۔ ان کا کلام جذبۂ ایمانی، حسنِ بیان، فکری گہرائی، سلاستِ زبان اور لطافتِ احساس کا دل آویز مرقع ہے، جو قاری اور سامع دونوں کے دلوں پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔

نشست کے دوران مولانا راشد نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔ ان کے اشعار میں دینی حمیت، اخلاقی اقدار، ملی درد، انسانی جذبات اور زبان و بیان کی لطافت اس دلکش انداز سے نمایاں ہوئی کہ محفل کا ہر لمحہ سامعین کے لیے یادگار بن گیا۔ حاضرین نے ہر عمدہ شعر پر والہانہ دادِ تحسین پیش کی اور ان کے منفرد اسلوبِ بیان، برجستہ طرزِ اظہار اور فکری بالیدگی کو بے حد سراہا۔ پوری محفل پر ایک علمی، ادبی اور روح پرور فضا طاری رہی، جس نے حاضرین کے دل و دماغ کو تازگی اور سرور سے ہم کنار کر دیا۔

اس بابرکت مجلس میں خصوصیت کے ساتھ ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کے ناظم مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی، ان کے رفیقِ کار و نائب مولانا رفیع احمد ندوی، جمعیت اہلِ حدیث حلقہ نوگڑھ کے ناظم مولانا محمد ہاشم سلفی اور جمعیت کے مبلغ و آرگنائزر مولانا امیراللہ یوسفی شریک رہے۔ شرکائے مجلس نے مولانا راشد کے علمی و ادبی ذوق کو سراہتے ہوئے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی ادبی خدمات کو ملت کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔

نشست کے اختتام پر ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کی جانب سے معزز مہمان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اسی موقع پر ضلعی جمعیت کے ناظم مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے مولانا عبدالرحمن راشد عمری کی خدمت میں جمعیت کی چند اہم مطبوعات بطورِ تحفہ پیش کیں، جن میں "علامہ محمد رئیس ندوی: حیات و خدمات”، "علمائے اہلِ حدیث ضلع بستی و گونڈہ” اور "طلبہ کے لیے نقوشِ حیات” شامل ہیں۔

مولانا عبدالرحمن راشد عمری نے ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کی دعوتی، علمی، اشاعتی اور رفاہی خدمات پر دلی اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سرگرمیوں کو نہایت قابلِ قدر قرار دیا۔ انہوں نے جمعیت کے ذمہ داران کی اخلاص پر مبنی کاوشوں کو سراہا، ان کے لیے اپنی نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ضلعی جمعیت اہلِ حدیث کی دینی، دعوتی، علمی اور اصلاحی خدمات کو مزید وسعت، قبولیت اور برکت عطا فرمائے۔

اس موقع پر باہمی محبت، اخوت، علم دوستی اور ادب نوازی کی خوشگوار فضا نمایاں رہی۔ شرکائے مجلس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی علمی و ادبی نشستیں مستقبل میں بھی منعقد ہوتی رہیں تاکہ علم و ادب کے ذوق کو فروغ ملے، صالح ادبی اقدار کو استحکام حاصل ہو اور نوجوان نسل کو مثبت فکری و ادبی رہنمائی میسر آ سکے۔

 افادہ عام کی خاطر نمونۂ کلام پیش خدمت ہے:

(١)

ظلمتوں نے ہر سو پھر اپنا ڈیرہ ڈالا ہے

اے جیالو! آجاؤ، وقت نے پکارا ہے

حوصلہ اگر ہے تو جیت اپنی لازم ہے

فاتحِ زمانہ کا اس طرف اشارہ ہے

وہ محافظ و نگراں، اس سے ہی لگاؤ لو

جس نے اٹھتی لہروں سے راستہ نکالا ہے

منزلیں انہیں کی ہیں جن کے عزم پختہ ہیں

کامیاب لوگوں کا بس یہی حوالہ ہے

بنتِ حوا نے، راشد! توڑ ڈالا دم اپنا

جس کی ذات سے، لوگو! ہر طرف اجالا ہے

(٢)

مسلسل جنگ تو جاری رہے گی

صداقت جھوٹ پر بھاری رہے گی

نظر آئے گی یہ دنیا بھی جنت

اگر مخلوق سے یاری رہے گی

ملے گی اس کو منزل اک نہ اک دن

اگر پہلے سے تیاری رہے گی

سرور و کیف سے خالی رہیں گے

دلوں میں جن کے بیماری رہے گی

کبھی وہ سچ نہ کہہ پائیں گے، راشد

طبیعت جن کی درباری رہے گی

(٣)

خالق کا خوف جب ترے دل میں سمائے گا

کس کی مجال جو تجھے آنکھیں دکھائے گا

جس سے تعلقات میں شدت رہے سدا

مشکل گھڑی کو رب ترا آساں بنائے گا

قدرت پہ اس کی آپ کو کامل یقین ہو

بنجر زمین سے بھی وہ سبزہ اگائے گا

تزئینِ گلستاں کا رہے پاس بھی سدا

مسند کے ساتھ رب تجھے عزت دلائے گا

راشد! ہوں حرزِ جاں یہ قرآن اور حدیث

پھر کون ہے جو سیدھی ڈگر سے ہٹائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے